_seo-verification:4bc3407b9d3078c330cf0aa334995f0243b21d6b2d88f58788cb69b389c4db9f October 2025 - Apna Ghotki

 خانقاہ عالیہ بھرچونڈی شریف: ایک روحانی و تاریخی مرکز

تعارف

Shrine of Hazrat Hafiz Muhammad Sadeeq in Bharchoondi Shareef Daharki Sindh


خانقاہ عالیہ بھرچونڈی شریف، جو درگاہ بھرچونڈی شریف کے نام سے بھی مشہور ہے، سندھ صوبے کے ضلع گھوٹکی میں ڈہرکی ریلوے اسٹیشن سے تقریباً 8 کلومیٹر دور واقع ایک عظیم روحانی مرکز ہے۔ یہ خانقاہ قادریہ سلسلہ سے تعلق رکھتی ہے اور صوفیانہ روایات کا ایک اہم ستون سمجھی جاتی ہے۔ اس کی بنیاد 1260 ہجری (1844 عیسوی) میں رکھی گئی تھی، اور یہ نہ صرف مذہبی تعلیم و تربیت کا مرکز ہے بلکہ قومی تحریک آزادی میں بھی کلیدی کردار ادا کر چکی ہے۔ آج یہ ہزاروں مریدوں اور زائرین کا مرکز ہے، جہاں لوگ روحانی سکون اور اخلاقی تربیت کی تلاش میں آتے ہیں۔

تاریخ اور بنیاد

خانقاہ عالیہ بھرچونڈی شریف کی بنیاد برطانوی نوآبادیاتی دور میں رکھی گئی، جب مسلمانوں کی مذہبی اور سیاسی بیداری کی ضرورت شدت اختیار کر چکی تھی۔ یہ خانقاہ وادی مہران (سندھ) میں تطہیر فکرو عمل اور سیرت کی تعمیر کی نیت سے قائم کی گئی۔ برطانوی سلطنت کے دور میں خانقاہوں اور مدرسوں پر سخت نظر رکھی جاتی تھی، اور کسی بھی انقلابی سرگرمی کو کچلا جاتا تھا۔ اس کے باوجود، یہ مرکز روحانی سکون اور سیاسی بیداری کا ذریعہ بن گیا۔

خانقاہ کی بنیاد کے دو اہم مقاصد تھے: سنت نبوی ﷺ کی پیروی اور اعمال کی اصلاح، اور مسلمان قوم کو برطانوی غلامی سے آزاد کرانا۔ مختصر عرصے میں اس نے سندھ اور جنوبی پنجاب میں بستی بستی مدارس کا جال بچھا دیا، اور ہزاروں غیر مسلموں نے اسلام قبول کیا۔ یہ خانقاہ برطانوی دور کی "رشمی رومال تحریک" (Silk Handkerchief Movement) کی نگرانی بھی کرتی رہی، جو آزادی کی ایک خفیہ تحریک تھی۔

بانی کی سوانح حیات

خانقاہ عالیہ بھرچونڈی شریف کے بانی حافظ الملت حافظ محمد صدیق قادری تھے، جن کی پیدائش 1816ء میں ہوئی۔ آپ کا نسب غوث الاعظم شيخ عبد القادر جيلانی رحمۃ اللہ علیہ سے ملتا ہے، جو قادریہ سلسلہ کے بانی ہیں۔ حافظ محمد صدیق کی سادگی، اخلاص، نرم گفتار، اثر انگیز خطاب اور دلکش شخصیت نے وادی مہران اور بلوچستان کے علاقوں کے لوگوں کو متوجہ کر لیا۔ آپ نے 1259 ہجری میں خانقاہ کے ساتھ مسجد اور درسگاہ کی بنیاد رکھی، اور جلد ہی 300,000 سے زائد مرید جمع ہو گئے۔

آپ کی دعوتِ اسلام کی ایک مشہور مثال مولانا عبید اللہ سنڌی ہے، جو 16 سالہ سکھ نوجوان تھے اور اپنی برادری میں معزز شخصیت رکھتے تھے۔ انہوں نے حافظ محمد صدیق کے ہاتھ پر بیعت کی اور اسلام قبول کیا۔ مولانا سنڌی نے بعد میں حافظ صاحب کو اپنا روحانی والد قرار دیا اور سندھ کو اپنا مستقل وطن کہا۔ حافظ محمد صدیق نے نہ صرف مذہبی بلکہ قومی سطح پر بھی خدمات انجام دیں، اور آپ کی وفات کے بعد بھی ان کی یاد زندہ ہے۔

جانشینان اور تسلسل

حافظ محمد صدیق کے انتقال کے بعد سلسلہِ خلافت جاری رہا۔ پہلے جانشین مجاہد اعظم شیخ ثالث حضرت پیر عبد الرحمن تھے، جنہوں نے برطانوی دور کی سختیوں کے باوجود کام جاری رکھا۔ ان کے دور میں اسلام قبول کرنے کے لیے برطانوی اجازت نامہ درکار تھا، مگر وہ اس کی خلاف ورزی کرتے رہے۔ ہندوؤں کی طرف سے ان کے بڑے بیٹے پر قتل کی کوشش کی گئی، مگر انہوں نے برطانوی قانون کے تحت مقدمہ نہ درج کروایا اور اسلامی اصولوں کو ترجیح دی۔ پیر عبد الرحمن نے پاکستان تحریک میں فعال کردار ادا کیا، سندھ کو بمبئی سے الگ کرنے اور پاکستان میں شمولیت کی جدوجہد کی۔

دوسرے جانشین پیر عبد الرحیم شہید تھے، جنہوں نے 1965ء اور 1970ء کی پاک بھارت جنگوں میں راجستھان فرنٹ پر ہزاروں مریدوں کے ساتھ جہاد کیا۔ موجودہ سجادہ نشین پیر میاں عبد الخالق قادری ہیں، جو اپنے آباؤ اجداد کی راہ پر چل رہے ہیں۔ ان کی نگرانی میں سندھ میں 200 سے زائد دینی مدارس قائم ہیں، جہاں قرآن کی تعلیم اور شعور کی روشنی پھیلائی جاتی ہے۔

دینی اور ملی خدمات

خانقاہ عالیہ بھرچونڈی شریف نے دینی سطح پر تزکیہ نفس، اخلاقی تربیت اور جہاد کی تعلیم دی، جبکہ ملی سطح پر آزادی تحریک کے رہنماؤں کو جنم دیا، جیسے مولانا تاج محمود امروتی، خلیفہ غلام محمد دینپوری اور مولانا عبید اللہ سنڌی۔ یہ مرکز برطانویوں کو مجبور کرنے میں کامیاب ہوا کہ وہ ہندوستان سے نکل جائیں۔

آج بھی یہ خانقاہ اللہ کی یاد اور سنت کی پیروی پر زور دیتی ہے، اور سندھ میں اسلام کی تبلیغ کا اہم ذریعہ ہے۔ بانی کی تعلیمات کے مطابق، یہاں مریدوں کو مسلسل ذکرِ الٰہی کی ترغیب دی جاتی ہے۔

عمارت اور سہولیات

خانقاہ کی عمارت مسجد اور درگاہ کا مجموعہ ہے، جس میں ایک گنبد موجود ہے۔ یہ روایتی صوفیانہ طرز تعمیر کی مثال ہے، جو سندھ کی مقامی ثقافت سے متاثر ہے۔ خانقاہ میں درسگاہ، مسجد اور قبرستان شامل ہیں، جہاں زائرین کے لیے قیام گاہ اور لنگر خانہ بھی ہے۔ تفصیلی معماری کی معلومات محدود ہیں، مگر یہ ایک سادہ مگر پر کشش ڈھانچہ ہے جو روحانی سکون کی علامت ہے۔

سالانہ تقریبات

خانقاہ میں بانی حافظ محمد صدیق قادری کا عرس سالانہ منایا جاتا ہے، جو ہزاروں زائرین کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ عرس کے دوران قوالی، محافلِ ذکر اور دعائیں کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ، رمضان المبارک میں خصوصی تقریبات اور ہفتہ وار محافلِ ذکر منعقد ہوتی ہیں۔ یہ تقریبات صوفیانہ روایات کو زندہ رکھتی ہیں۔ (نوٹ: مخصوص تاریخوں کی تفصیلات دستیاب ذرائع میں نہیں ملیں، مگر روایتی طور پر عرس ربیع الثانی میں ہوتا ہے۔)

جدید کردار اور تنازعات

آج خانقاہ اسلامی تحقیق اور تعلیم کا مرکز ہے، جہاں سندھ میں دینی مدارس کا وسیع نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ تاہم، اس پر اقلیتوں، خاص طور پر ہندو لڑکیوں کی مبینہ جبری تبدیلی مذہب کے الزامات بھی لگے ہیں۔ 2014 سے 2017 تک 150 سے زائد ایسے کیسز رپورٹ ہوئے، اور پیر میاں عبد الحق (میاں مٹھو) پر 117 نابالغ لڑکیوں کی تبدیلی مذہب کا الزام ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں جیسے ہائی کمشن برائے انسانی حقوق پاکستان اور اقوام متحدہ اس کی تحقیقات کا مطالبہ کرتی رہیں۔ خانقاہ کے حامی ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور اسے سیاسی سازش قرار دیتے ہیں۔

یہ تنازعات علیحدہ رکھتے ہوئے، خانقاہ کی تاریخی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، جو سندھ کی مذہبی اور قومی تاریخ کا حصہ ہیں۔

اختتام

خانقاہ عالیہ بھرچونڈی شریف ایک زندہ تاریخ ہے جو صوفیانہ محبت، جہادِ نفس اور قومی بیداری کی داستان سناتی ہے۔ بانی حافظ محمد صدیق قادری کی تعلیمات آج بھی لاکھوں لوگوں کی رہنمائی کر رہی ہیں۔ یہ مرکز نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کی روحانی ورثہ کا عظیم ستون ہے، جو امن، محبت اور اتحاد کی تلقین کرتا ہے۔ زائرین کو مشورہ ہے کہ وہ اس مقدس جگہ کا دورہ کریں اور اس کی پاکیزگی سے مستفید ہوں۔

Agriculture World October 30, 2025
Read more ...

 حضرت حافظ محمد صدیق: ایک عظیم صوفی بزرگ اور عالم دین

Shrine of Hazrat Hafiz Muhammad Sadeeq in Bharchoondi Shareef Daharki Sindh



تعارف

اسلامی تاریخ میں صوفیاء کرام کا کردار ہمیشہ سے لوگوں کی رہنمائی اور روحانی تربیت کا ذریعہ رہا ہے۔ ان میں سے ایک نمایاں نام حضرت حافظ محمد صدیق رحمۃ اللہ علیہ کا ہے، جو سنڌ کی سرزمین سے تعلق رکھنے والے ایک عظیم عالم، مفسر قرآن، شاعر اور صوفی بزرگ تھے۔ آپ کو "حافظ الملت" اور "سید العارفین" جیسے القابات سے نوازا گیا۔ آپ کی زندگی جدوجہد، علم، تصوف اور قوم کی خدمت کی ایک روشن مثال ہے۔ آپ کا مزار بھرچوندی شریف، ضلع گھوٹکی (سنڌ) میں واقع ہے، جو آج بھی لاکھوں عقیدت مندوں کا مرکز ہے۔

ولادت اور ابتدائی زندگی

حضرت حافظ محمد صدیق رحمۃ اللہ علیہ 1234 ہجری (1819 عیسوی) میں سما قبیلے کے ایک معزز خاندان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا انتقال بچپن میں ہی ہو گیا، جب آپ کی عمر محض چار سے پانچ سال تھی۔ والدہ نے آپ کی دینی تعلیم کا اہتمام کیا اور آپ کو اس وقت کے مشہور مدرسہ ماری جندو (احمدپور لما کے قریب، سابق ریاست بہاولپور) میں داخل کرا دیا۔ یہاں آپ نے مخدوم صاحب السیر کی صحبت میں قرآن پاک کی تعلیم حاصل کی۔ مخدوم صاحب نے آپ کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے آپ کو اپنی ایک چادر عطا فرمائی، جو آپ کی روحانی تربیت کی ابتداء تھی۔

تعلیم اور روحانی سفر

ابتدائی تعلیم کے بعد، حضرت سید محمد راشد کے حکم پر بارہ سال کی عمر میں آپ بھرچوندی شریف (ڈہرکی کے قریب) کی ایک چھوٹی بستی سوئی چلے گئے، جہاں آپ نے حضرت محمد حسن جیلانی کی خدمت میں رہائش اختیار کی۔ یہاں آپ نے قرآن و سنت کی گہرائیوں کو سمجھا، عربی اور فارسی زبانوں کی مہارت حاصل کی۔ 1254 ہجری (1836 عیسوی) میں مرشد کی وفات کے بعد آپ نے ان کے بیٹے میاں محمد حسین کی صحبت اختیار کی۔ بعد میں واپس بھرچوندی لوٹ آئے اور یہاں خانقاہ قائم کی۔

آپ کے ہاتھ پر تین لاکھ سے زائد افراد نے بیعت کی، جو آپ کی روحانی کشش کی عکاسی کرتی ہے۔ 1857ء میں انگریزوں کی برصغیر پر ظالمانہ قبضے کے دور میں آپ نے مسلمانوں میں بیداری پیدا کی اور انہیں اتحاد کی تلقین کی۔ آپ نے "رسالہ سلوق" نامی ایک عظیم کتاب تصنیف کی، جو روحانی تربیت اور تصوف کا ایک اہم دستاویز ہے۔ یہ رسالہ 1335 ہجری (1917 عیسوی) میں ایک نامعلوم کاتب نے اصل سے نقل کرکے شائع کیا۔

خدمات اور شراکتیں

حضرت حافظ محمد صدیق ایک عظیم عالم تھے۔ آپ کی کتب خانہ میں ہزاروں قلمی کتابیں موجود تھیں، جو عربی، فارسی اور سنڌی ادب کی دولت تھیں۔ آپ کی گفتگو میں سنڌی، عربی، فارسی، ہندی اور سرائیکی شعر و شاعری شامل ہوتی تھی، جو آپ کی لسانی مہارت کو ظاہر کرتی تھی۔ آپ نے سنڌ کے معزز شخصیات جیسے جام ابو النصیر، جام بھمبھو، قاضی لال بخش، قاضی دین محمد، دریا خان کٹن، سردار فتح علی خان پتافی، سردار نظر علی خان گڑھائی، رئیس صیفل خان سیال، سردار محمد بخش خان مہر، سردار اللہ بخش خان سکھجو مہر اور میاں جی مولیڑنو جیسی شخصیات کی رہنمائی کی۔

آپ کے خلفاء کی تعداد بارہ سے زائد تھی، جن میں سے چند مشہور یہ ہیں:

حضرت عبداللہ شیخ ثانی (بھرچوندی)

تاج الاولیاء خليفہ ابو الحسن تاج امروٹی (امروٹ شریف)

سراج السالکین خليفہ غلام محمد دین پوری (دین پور شریف، ضلع رحیم یار خان)

مولانا عبد الغفار خان گڑھی (خان گڑھ، ضلع گھوٹکی)

مولانا شمس الدین احمد پوری (احمد پور لما کے قریب)

رب دینو ہکڑو (رتودیرو، ضلع لاڑکانہ)

ابو انجیر (کوئٹہ)

مولانا عمر جان نقشبندی چشمہ وارو

محمد عمر شاہ عراق (ایران کی سرحد کے قریب)

عبد العزیز کارو باغ

عبد الرحمٰن کابلی (کابل)

خاص طور پر، سنڌ کے عظیم عالم اور آزادی کی تحریک کے بانی مولانا عبید اللہ سنڌی بھی آپ کی صحبت میں رہے اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کرکے اسلام کی خدمت میں مصروف ہوئے۔

وفات اور وراثت

حضرت حافظ محمد صدیق رحمۃ اللہ علیہ 22 جنوری 1891ء کو وفات پا گئے۔ آپ کا مزار بھرچوندی شریف میں ہے، جو سنڌ اور ملحقہ علاقوں میں عقیدت و احترام کا مرکز ہے۔ آپ کی تعلیمات آج بھی لوگوں کو متاثر کرتی ہیں، خاص طور پر تصوف، قرآن کی تفسیر اور قومی بیداری کے شعبوں میں۔ آپ کی زندگی کا سبق یہ ہے کہ علم اور عمل کی ہم آہنگی ہی حقیقی کامیابی کا راز ہے۔

حضرت حافظ محمد صدیق کی یاد میں منعقد ہونے والے سالانہ عرس پر لاکھوں عقیدت مند جمع ہوتے ہیں، جو آپ کی روحانی عظمت کی گواہی دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں آپ کی تعلیمات پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Agriculture World October 26, 2025
Read more ...

 لُنڈ قبیلہ کی تاریخ

File photo of Sardar Khalid Ahmed Khan Lund the chief of Lund Tribe

لُنڈ (بلوچی: لُنڈ) پاکستان کا ایک اہم بلوچ قبیلہ ہے جو بلوچ قوم کی رِند شاخ سے تعلق رکھتا ہے۔ بلوچی زبان میں "لُنڈ" کا مطلب "جنگجو" یا "جوان" ہے، جو بلوچوں کی جنگجو ذات کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ قبیلہ بلوچستان سے نکلا اور بعد میں سندھ اور پنجاب کی طرف ہجرت کر گیا، جہاں یہ آج کل آباد ہے۔

اصل اور ہجرت

لُنڈ قبیلہ کی جڑیں بلوچستان میں ملتی ہیں، جہاں بلوچ قبائل کی مجموعی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ بلوچوں کی مہاجرت کی کہانیاں حلب (شام) سے شروع ہوتی ہیں، جہاں سے وہ یازید کی مخالفت میں نکلے اور ایران (سیستان اور کرمان) کے راستے بلوچستان پہنچے۔ 12ویں صدی میں 44 بلوچ قبائل، جن میں رِند اور اس کی ذیلی شاخیں شامل تھیں، میر جلال خان کی قیادت میں مکران کی طرف ہجرت کر گئے۔ لُنڈ قبیلہ بھی انہی ہجرتوں کا حصہ تھا۔

16ویں صدی میں، مغل بادشاہ ہمایوں کی مدد سے بلوچ قبائل، بشمول لُنڈ، لگہاری، مزاری، کھوسہ اور قیصرانی، خراسان اور قندھار سے گزرتے ہوئے پنجاب اور سندھ کی طرف آئے۔ یہ ہجرت برطانوی دور سے پہلے ہوئی، جب بلوچ قبائل نے دریائے سندھ کے آس پاس آبادیاں بسائیں۔ لُنڈ قبیلہ بلوچستان سے نکل کر پنجاب کے ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور سندھ کے گھوٹکی، دادو، حیدرآباد، نواب شاہ، سکھر، بدین اور ٹنڈو الہیار جیسے علاقوں میں پھیل گیا۔ بلوچستان میں اب بھی یہ سبی ضلع میں موجود ہے۔

آبادکاری اور معاشرہ

آج لُنڈ قبیلہ کی اکثریت سندھ کے ضلع گھوٹکی میں ہے، جبکہ پنجاب میں ڈیرہ غازی خان، جام پور اور راجن پور میں بڑی تعداد آباد ہے۔ خیبر پختونخوا میں ڈیرہ اسماعیل خان، پنجاب میں رحیم یار خان اور ملتان، اور سندھ میں دادو اور میر پور متھلو میں بھی ان کی بستیاں ہیں۔ یہ قبیلہ زرعی اور مال مویشی پالنے والا ہے، اور سخت موسمی حالات کے باوجود متنوع فصلیں اگانے اور مختلف جانور پالنے میں ماہر ہے۔

لُنڈ بلوچ سنی مسلمان ہیں اور "بلوچ مَیَار" (بلوچی احترام کا ضابطہ) پر عمل کرتے ہیں، جو ان کی زندگی کا بنیادی اصول ہے۔ شادیاں قبیلے کے اندر ہوتی ہیں، اور غیر بلوچ سے شادی ممنوع ہے۔ قبیلے کا مرکزی سردار ڈیرہ غازی خان کے قصبہ شاداں لُنڈ میں رہتا ہے، جو پورے لُنڈ قبیلے کا سربراہ ہے۔

موجودہ سربراہ:

لنڈ قبیلے کے موجودہ سربراہ خالد احمد خان لنڈ ہیں جو کہ سابقہ رکن قومی اسمبلی سردار نور محمد خان لنڈ مرحوم کے صاحب زادے ہیں۔

تاریخی کردار

لُنڈ قبیلہ بلوچوں کی مجموعی جدوجہد کا حصہ رہا ہے۔ 19ویں صدی میں سکھوں اور برطانوی راج کے خلاف مزاحمت کی، جیسے کہ مزاری، کھتران اور دیگر قبائل کے ساتھ مل کر۔ برطانوی دور میں یہ قبائل دریائے سندھ کے پہاڑی علاقوں میں چھاپہ مار حملوں کا نشانہ بنے، لیکن انہوں نے اپنی خودمختاری برقرار رکھی۔ آج کل ترقیاتی پروگراموں سے یہ قبائل سڑکوں اور زراعت کی طرف راغب ہو رہے ہیں، مگر قبائلی روایات اب بھی مضبوط ہیں۔

لُنڈ قبیلہ بلوچ ثقافت کی عکاسی کرتا ہے، جہاں لوک داستانوں اور غزلوں میں جنگجوؤں کی بہادری کا ذکر ملتا ہے۔ یہ قبیلہ بلوچستان کی تاریخ کا زندہ باب ہے، جو ہجرت، مزاحمت اور بقا کی کہانی سناتا ہے۔

You might be interested: مہر قبیلہ کی تاریخ

Agriculture World October 20, 2025
Read more ...

 مہر قبیلے کی تاریخ: ایک قدیم اور بہادر قبیلے کا سفر

Mahar tribe the original tribe of Sindh

تعارف

مہر قبیلہ (انگریزی: Mahar یا Mahaar) پاکستان کے صوبہ سندھ اور جنوبی پنجاب کا ایک ممتاز اور قدیم قبیلہ ہے جو اپنی جنگی روایات، قبیلائی اتحاد اور سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہ قبیلہ سندھی اور سرائیکی ثقافت کا اہم حصہ ہے اور اس کی جڑیں ہزاروں سال پرانی سمجھی جاتی ہیں۔ مہر قبیلہ نہ صرف زرعی اور چراگاہوں پر مبنی معاشرے کا حصہ ہے بلکہ برطانوی راج کے خلاف آزادی کی تحریک میں "مہر مجاہدین" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ آج یہ قبیلہ گھوٹکی، سکھر، بہاولپور، اوکاڑہ اور بہاول نگر جیسے اضلاع میں آباد ہے، جہاں یہ مقامی سیاست اور سماجی زندگی میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ مہر قبیلے کی تاریخ ہجرتوں، جنگی جدوجہد اور ثقافتی امتزاج کی کہانی ہے، جو عرب، راجپوت اور جاٹ روایات سے جڑی ہوئی ہے۔

اصل و نسب

مہر قبیلے کی اصل کے بارے میں متعدد روایات اور تاریخی روایات موجود ہیں، جو اس کی قدیم جڑوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔ سب سے مشہور روایت کے مطابق، مہر جوئیہ قبیلے کے بھائی اور ایاس (ایک شیخ صدیقی بزرگ) اور رانی نال (بھٹی راجپوت راجہ چوہر ہر کی بیٹی) کے بیٹے تھے۔ مہر کے پوتے واگ نے گرہ ماتھیلی کا راج کیا، جبکہ اس کے پوتے سنورہ نے سرسہ (موجودہ ہریانہ) کی طرف ہجرت کی، جس سے سنورہ پوترے شاخ وجود میں آئی۔ یہ قبیلہ قدیم ہاکڑا دریا (غاغر ہکڑا) کے کنارے آباد تھا اور جیسلمیر کے بھٹی حکمرانوں کے تابع تھا۔

ایک اور روایت کے مطابق، مہر قبیلہ مل راج کی اولاد ہے، جن کے پڑ پوتے سیرو کے تین بیٹے تھے: جوئیہ، مہر اور مائٹلا—جو تمام مشہور جاٹ قبائل ہیں۔ مہر کے بیٹوں میں چنڑ، بھمبان، لالی، خان، رکنانی اور سکھیجہ شامل ہیں، جن سے بھٹیانہ، بہاول نگر اور ساہیوال کی مہر شاخیں نکلیں۔ سندھی روایات میں مہر کو ہند (سمڑا کی نسل سے) کی اولاد بتایا جاتا ہے، جن کا دادا چند نامی تھا۔

سندھی مہر قبیلہ رابڑی (راجپوت خانہ بدوش) سے منسوب ہے، جو جیسلمیر سے جمشورو تک تھر صحرا اور سندھ کے نصف سے زیادہ علاقے فتح کر چکے تھے۔ اردو روایات میں مہر کو عرب مؤرخین کے میڈیوں (Medes) سے جوڑا جاتا ہے اور یہ جوئیہ کے بھائی مہر کی اولاد ہیں۔ "مہر" لفظ عربی میں جنگی گھوڑوں سے جڑا ہے—دس سالہ گھوڑے کو "مہر" کہا جاتا تھا، اور ایسے گھوڑوں والے فوجیوں کو "مہر والے" پکارا جاتا تھا۔ یہ لفظ فارسی میں "سورج" کا مترادف بھی ہے، جو گجر قوم سے بھی منسلک ہے۔ ان روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہر قبیلہ راجپوت، جاٹ اور عرب عناصر کا امتزاج ہے۔

تاریخی پس منظر

مہر قبیلے کی تاریخ ہجرتوں اور جنگی جدوجہد سے بھری پڑی ہے۔ 16ویں صدی میں جوڑھپور کے رتھوڑ حکمرانوں نے جیسلمیر سے مہر قبیلے کو نکال دیا، جس کے بعد وہ بکینر کے جوئیہوں کے پاس پناہ لینے گئے۔ بکینر پر بھی رتھوڑوں کا قبضہ ہونے پر مہر ستلج وادی میں آباد ہوئے۔ سنورہ کو اس کے بھائیوں نے گرہ ماتھیلی سے نکال دیا، جس کے بعد وہ شاہر فرید (بہاولپور) کے قریب سارتانی آباد ہوئے، جبکہ بھائیوں نے جندلا اور چھاجو دے (موجودہ چوکھا مال اور بستی ہمایوں سیال کے قریب) میں بستیاں بسائیں۔

بہاولپور میں مہر سردار واریہ کے بیٹے فتح خان نے مہران کی بنیاد رکھی، اور بعد میں داؤد پوتہ حکمرانوں کی بالادستی قبول کی۔ برطانوی دور میں مہر قبیلہ آزادی کی تحریک کا حصہ بنا، جہاں انہیں "مہر مجاہدین" کہا گیا۔ انہوں نے برطانوی راج کے خلاف مسلح مزاحمت کی اور تھر اور سندھ میں آزادی کی لڑائی لڑی۔ 1947 کی تقسیم کے بعد بھارتی پنجاب اور راجستھان سے مہر مسلمان پاکستان ہجرت کر آئے، خاص طور پر بھٹیانہ (سری گنگا نگر، ہنومان گڑھ، سرسہ اور فیضلکہ) سے۔

سندھ میں مہر قبیلہ سمڑا سلطنت اور ہڑ مجاہدین کی تحریکوں سے جڑا ہوا ہے، جہاں انہوں نے علاقائی طاقتوں کے خلاف جدوجہد کی۔ 1911 کی مردم شماری میں مہر کی آبادی 12,945 تھی، جن میں سے زیادہ تر مونٹگمری (اوکاڑہ) اور بہاولپور میں تھے۔

تقسیم و آبادکاری

مہر قبیلہ بنیادی طور پر سندھ (گھوٹکی، سکھر، جھمشورو، تھر) اور جنوبی پنجاب (بہاول نگر، اوکاڑہ، وہیڑی، لودھراں، ساہیوال، مظفر گڑھ، راجن پور، ڈیرہ غازی خان) میں آباد ہے۔ سندھ میں خنگڑ شریف، خان پور مہر اور والو مہر جیسے علاقے مہر کا مرکز ہیں۔ پنجاب میں ستلج دریا کے کنارے 13 دیہاتیں (جیسے تاجو کے مہر، نہال مہر، پناں مہر) ہیں، جبکہ چکوال، جہلم، گجرات، سرگودھا اور سیالکوٹ میں بھی بستیاں ہیں۔ بھارت میں جیسلمیر (راجستھان) میں بھی مہر موجود ہیں، لیکن تقسیم کے بعد زیادہ تر پاکستان آ گئے۔ عرب ممالک (فلسطین، اردن) میں بھی مہر خاندان پائے جاتے ہیں۔

ذیلی قبائل

مہر قبیلے کے متعدد ذیلی شاخیں اور خاندان ہیں:

سندھی مہر: چنڑ، دراجو، ماتوجو، ننجہ، جیسراجہ، سکھیجہ اور گاگنان—جن میں سرداری سکھیجہ خاندان کے پاس ہے۔

پنجابی مہر: سنورہ پوترے، سکھیجہ مہر (بھٹیانہ)، خان مہر (بہاول نگر اور ساہیوال)، بھمبان، لالی، رکنانی۔

یہ شاخیں قبیلائی اتحاد اور روایات کو برقرار رکھتی ہیں، جہاں چراگاہوں اور زراعت مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔

مشہور شخصیات

مہر قبیلہ نے سیاست، فوج اور سماجی خدمات میں کئی نمایاں شخصیات دی ہیں:

سردار غلام محمد خان مہر: سندھ کے ممتاز سیاستدان اور قبیلے کے سابق سردار، جو 1964 سے 1995 تک قومی اسمبلی اور سینیٹ کے رکن رہے۔ ان کے نام پر غلام محمد مہر میڈیکل کالج قائم ہے۔

سردار محمد بخش خان مہر: موجودہ سردار، سندھ اور قومی اسمبلی کے سابق رکن۔

علی محمد خان مہر: سابق وزیر اعلیٰ سندھ (وفات 2019)۔۔

علی گوہر خان مہر: موجودہ ایم این اے اور سابق ناظم ضلع گھوٹکی۔

عرب سے: مہر زرار (فلسطین) اور ام رعد المہر (اردن)۔

یہ شخصیات قبیلے کی سیاسی طاقت کو ظاہر کرتی ہیں، خاص طور پر سندھ کی مقامی سیاست میں۔

وراثت اور آج کا دور

مہر قبیلے کی وراثت جنگی بہادری، مہمان نوازی اور قبیلائی وفاداری میں زندہ ہے۔ آج یہ قبیلہ پاکستان کی سیاست میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جہاں گھوٹکی اور سکھر میں مہر اور لونڈ قبائل کی موجودگی علاقائی توازن برقرار رکھتی ہے۔ 2025 میں بھی سوشل میڈیا اور مقامی تقریبات میں مہر کی تاریخ کو یاد کیا جاتا ہے، جو سندھی اور پنجابی ثقافت کا لازمی حصہ ہے۔ مہر قبیلہ کی کہانی ہجرت اور جدوجہد کی ہے، جو پاکستان کی تعمیر نو میں مسلسل شراکت کی علامت ہے۔ یہ قبیلہ نہ صرف اپنی روایات کو زندہ رکھتا ہے بلکہ جدید چیلنجز کا بھی سامنا کرتا ہے، جیسے پانی کی قلت اور سیاسی اتحاد۔ مہر کی تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ اتحاد اور بہادری ہی قوم کی بنیاد ہیں۔

You might be interested: لنڈ قبیلہ کی تاریخ

Agriculture World October 20, 2025
Read more ...

 سردار غلام محمد خان مہر: ایک عظیم قبیلائی سردار، سیاستدان اور خَیر خَواہ

File photo of Sardar Ghulam Muhammad Khan Mahar

تعارف

سردار غلام محمد خان مہر (اردو: سردار غلام محمد خان مہر) سندھ، پاکستان کے مہر قبیلے کے ایک ممتاز سردار، سیاستدان اور خَیر خَواہ شخصیت تھے۔ وہ سکھر ضلع سے تعلق رکھتے تھے اور اپنی مَیشہور مہمان نوازی کی وجہ سے مشہور تھے۔ مہر قبیلہ، جو سندھی سَمّات کا حصہ ہے، سندھ اور پنجاب کے علاوہ بھارت کے راجستھان میں بھی پایا جاتا ہے۔ سردار غلام محمد خان مہر نے اپنی زندگی میں قبیلائی رہنمائی، سیاسی جدوجہد اور سماجی بہبود کے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ وہ 21 سال کی کم عمری میں مہر قبیلے کے سردار بنے اور 1964 سے 1995 تک سیاست میں فعال رہے۔ ان کی وفات 9 اپریل 1995 کو ہوئی، لیکن آج بھی ان کی یاد تازہ ہے اور ان کے نام پر کئی ادارے قائم ہیں۔

ابتدائی زندگی اور قبیلائی پس منظر

سردار غلام محمد خان مہر کا تعلق مہر قبیلے کے خانیہ خاندان سے تھا، جو خنگڑ شریف (سکھر ضلع) میں مقیم ہے۔ مہر قبیلہ سندھی لوگوں سے جڑا ہوا ہے اور سندھی بولتا ہے۔ یہ قبیلہ تھر صحرا، جھمشورو اور سندھ کے بیشتر حصوں میں رہائش پذیر ہے۔ مہر قبیلے کی تاریخ برطانوی راج کے خلاف جدوجہد سے جڑی ہوئی ہے، جہاں انہوں نے ہڑ مجاہدین کے طور پر آزادی کی تحریک میں حصہ لیا۔ قبیلے کا سرداری نظام مضبوط ہے اور یہ سیاسی طور پر بااثر ہے۔

سردار غلام محمد خان مہر نے اپنی ابتدائی زندگی میں قبیلائی روایات اور قیادت کی تربیت حاصل کی۔ 21 سال کی عمر میں وہ مہر قبیلے کے سردار بن گئے، جو ان کی قائدانہ صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔ انہوں نے قبیلے کی اکائی کو مضبوط بنایا اور علاقائی مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی مہمان نوازی کی شہرت سکھر اور آس پاس کے علاقوں میں مشہور تھی، جو سندھی کلچر کی ایک اہم خصوصیت ہے۔

سیاسی کیریئر

سردار غلام محمد خان مہر کی سیاسی زندگی 1964 میں شروع ہوئی جب وہ پاکستان کی قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ انہوں نے مختلف ادوار میں متعدد اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں:

1964: قومی اسمبلی کے رکن منتخب۔

1973: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی جانب سے سینیٹر منتخب۔

1977: پی پی پی کے امیدوار کے طور پر NA-152 سکھر II سے قومی اسمبلی کا الیکشن جیتا۔

1979-1983: سکھر ضلع کونسل کے چیئرمین رہے۔

ذوالفقار علی بھٹو دور: زراعت کے وزیر رہے، جب جنرل محمد ضیاء الحق مارشل لا ایڈمنسٹریٹر تھے۔

1985: آزاد امیدوار کے طور پر جنرل الیکشن جیتا۔

1986-1988: وزیراعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ میں 22 دسمبر 1986 سے 29 مئی 1988 تک صحت کے ریاستی وزیر رہے۔

1988: جنرل ضیاء الحق کے بعد کے الیکشن میں پی پی پی کے امیدوار میاں عبدالحق (میاں متھو) سے ہار گئے۔

1993: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کے طور پر NA-152 سے اکتوبر 1993 کے جنرل الیکشن جیتا۔

ان کی سیاسی جدوجہد 1964 سے 1995 تک جاری رہی، اور وہ کئی بار وفاقی وزیر بھی بنے۔ انہوں نے سندھ کی مقامی سیاست کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور قبیلائی سیاست کو قومی سطح پر لے گئے۔

خَیر خَواہ کام اور شراکت

سردار غلام محمد خان مہر صرف ایک سیاستدان ہی نہیں بلکہ ایک بڑے خَیر خَواہ بھی تھے۔ ان کی فلاحی خدمات کی وجہ سے سکھر میں غلام محمد مہر میڈیکل کالج ان کے نام سے قائم ہے، جو علاقے کے لوگوں کو اعلیٰ تعلیم اور طبی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، والو مہر میں SGM شوگر مل بھی ان کے نام پر ہے، جو مقامی معیشت کو سہارا دیتی ہے۔

ان کی فلاحی سرگرمیاں قبیلائی اور علاقائی ترقی پر مرکوز تھیں، جن میں تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع شامل تھے۔ حجِ اکبر کی تکمیل پر انہیں "الحاج" کا لقب ملا، جو ان کی مذہبی وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔ اسلام ان کی زندگی کا بنیادی ستون تھا، اور وہ اپنے قبیلے کو اسلامی اقدار کی روشنی میں رہنمائی کرتے تھے۔

خاندان اور جانشینی

سردار غلام محمد خان مہر کے بڑے بیٹے سردار محمد بخش خان مہر مہر قبیلے کے موجودہ سردار ہیں۔ محمد بخش خان مہر سندھ اسمبلی اور قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں اور موجودہ وقت میں بھی فعال سیاستدان ہیں۔ خاندان خنگڑ شریف، خانپور مہر، ضلع گھوٹکی میں مقیم ہے۔ ان کے دوسرے بیٹوں میں علی محمد خان مہر (سابق وزیراعلیٰ سندھ، وفات 2019) اور دیگر شامل ہیں، جو خاندانی روایات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

وراثت اور یاد

سردار غلام محمد خان مہر کی وفات 9 اپریل 1995 کو ہوئی، لیکن ان کی خدمات آج بھی زندہ ہیں۔ 2025 میں بھی سوشل میڈیا پر ان کی یاد منائی جاتی ہے، جہاں لوگ ان کی عاجزی، مہربانی اور وقار کی تعریف کرتے ہیں۔ مہر قبیلہ، جو درجنوں ذیلی قبائل پر مشتمل ہے (جیسے انصانی، باکھرانی، چھپڑا وغیرہ)، ان کی قیادت کو ایک سنہری دور سمجھتا ہے۔ ان کی زندگی قبیلائی اتحاد، سیاسی استحکام اور سماجی بہبود کی مثال ہے۔

سردار غلام محمد خان مہر جیسی شخصیات نایاب ہوتی ہیں، جو اپنے قبیلے، علاقے اور ملک کی خدمت میں زندگی گزارتی ہیں۔ ان کی یاد ہمیشہ زندہ رہے گی۔

Agriculture World October 19, 2025
Read more ...

 سندھ کی صحافتی اور ادبی سمت کو نیا موڑ دینے والے امیر بخاری کی زندگی پر مفصل مضمون

File photo of Ameer Bukhari

سید امیر بخاری (اصل نام: امیر علی شاہ، والد: جعفر علی شاہ) سندھی ادب کے ایک ممتاز شاعر، لکھاری، صحافی اور کالم نگار تھے۔ وہ گھوٹکی ضلع کے مشہور شاعر کے طور پر جانے جاتے ہیں اور ان کی تخلیقات میں نثر اور نظم دونوں شامل ہیں۔

پیدائش اور ابتدائی زندگی

امیر بخاری کا جنم 1 دسمبر 1941 کو سندھ کے ضلع گھوٹکی کی تحصیل کے گاؤں بیرڑی بخارا (ماٹھیلو کے قریب، مومل جی ماڑی) میں ہوا۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مقامی سطح پر حاصل کی اور بعد میں سندھی فائنل کے ساتھ میٹرک، عادل فاضل سندھی، عادل فاضل اردو اور انٹر ڈرائنگ کی تعلیم مکمل کی۔

کیریئر

وہ طویل عرصے تک پرائمری اسکول میں استاد رہے۔ 1965 سے لکھنا شروع کیا اور ان کی تحریریں سندھی، اردو، سرائیکی اور پنجابی زبانوں میں شائع ہوتی رہیں۔ ان کے استادوں میں مرحوم رشید احمد لاشاری، سردار علی شاہ اور مخدوم غلام محمد امیر شامل تھے۔ صحافت کے شعبے میں ان کا کردار بھی اہم تھا؛ انہوں نے گھوٹکی میں کئی صحافی تیار کیے، جن میں جوترام، الہیارو بوزدار اور دیگر شامل ہیں جو آج بھی صحافتی دنیا میں فعال ہیں۔ انہیں سندھی ادب میں عوامی اور بے باک لکھاری کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

ادبی خدمات

ان کی شاعری اور نثر میں مختلف موضوعات پر کام شامل ہے۔ ان کی زندگی کے آخر تک 7 کتابیں شائع ہو چکی تھیں، جن میں ایک کہانیوں کا مجموعہ بھی شامل ہے۔ ان کی تحریریں مقبول تھیں اور سندھی ادب میں ان کا مقام مستحکم ہے۔ تاہم، کوئی خاص ایوارڈ کا ذکر دستیاب ذرائع میں نہیں ملا۔


وفات

آخری برسوں میں انہیں فالج کا حملہ ہوا، جس کی وجہ سے کئی سال تک بیماری کا سامنا رہا۔ بالآخر 25 جنوری 2007 کو ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کی وفات کے بعد بھی سندھی ادبی حلقوں میں انہیں خراج تحسین پیش کیا جاتا رہتا ہے، جیسا کہ 2022 میں ان کی 81ویں سالگرہ پر پریس کلب گھوٹکی میں منعقدہ تقریب سے ظاہر ہوتا ہے

Agriculture World October 19, 2025
Read more ...

 صوفی بزرگ اور شاعر انور شاہ بخاری


File photo of Sufi Anwar Shah Bukhari

تعارف

صوفیائے کرام کی روایت میں ایسے کئی نام شامل ہیں جو نہ صرف اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی محبت کے پیغام کو پھیلاتے ہیں بلکہ اپنی شاعری کے ذریعے انسانی فلاح و بہبود کا درس بھی دیتے ہیں۔ ان میں سے ایک نمایاں ستارہ سید انور علی شاہ بخاری ہیں، جنہیں صوفی فقیر اور عظیم شاعر کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ سندھ کی سرزمین پر پیدا ہونے والے یہ بزرگ، صوفیانہ شاعری کے ذریعے توحید، اتحاد اور برداشت کا درس دیتے رہے۔ ان کی شاعری میں اللہ تعالیٰ اور حضرت محمد ﷺ کی محبت کی گہرائی ایسی ہے جو قاری کے دل کو چھو جاتی ہے۔ آج بھی ان کی درگاہ جہانپور شریف، ضلع گوٹکی، سندھ میں لاکھوں عقیدت مند ان کی یاد میں جمع ہوتے ہیں۔

ولادت اور ابتدائی زندگی

سید انور علی شاہ بخاری کی ولادت 11 محرم الحرام 1324 ہجری (جو عیسوی تقویم کے مطابق 1906ء کے قریب ہے) کو ضلع گوٹکی، سندھ کے گاؤں جہانپور شریف میں ہوئی۔ ان کے والد کا نام سید خدابخش شاہ تھا، اور خاندان سید تھا جو عرب سے ہجرت کرکے پہلے اُچ شریف (پنجاب) اور پھر بلوچستان اور سندھ پہنچا۔ ان کی اولاد امام علی نقیؓ سے منسلک تھی، جو ان کی روحانی شان کی عکاسی کرتی ہے۔

بچپن سے ہی ان میں اللہ کی طرف رجحان نمایاں تھا۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے اپنے ماموں حافظ سید بہادر علی شاہ اور مولوی محمد عیسیٰ نوریانی سے حاصل کی۔ صرف سات سال کی عمر میں انہوں نے قرآن مجید حفظ کر لیا، حالانکہ دنیوی تعلیم میں ان کی دلچسپی کم تھی۔ یہ ابتدائی دور ان کی روحانی تربیت کا آغاز تھا، جہاں وہ صوفیانہ جذبے کی طرف مائل ہوتے گئے۔ ان کی زندگی کا یہ حصہ بتاتا ہے کہ اللہ کی محبت کی تلاش میں دنیوی علوم کی بجائے روحانی علم کو فوقیت دی جاتی ہے۔

روحانی سفر

تیس سال کی عمر میں سید انور علی شاہ بخاری نے حضرت سید صاحب دینو شاہ (وستی عنایت شاہ) سے بیعت کی، جو امام الارفعین حضرت بہو سلطان کے مرید تھے۔ اس بیعت نے ان کی زندگی کو بالکل بدل دیا۔ وہ صوفی القادری السروری سلسلے سے وابستہ ہوئے اور جہانپور شریف میں خانقاہ (میخانہ) قائم کی، جہاں لوگوں کو اللہ اور انسان کے راز سکھاتے رہے۔ ان کی خانقاہ ایک روحانی مرکز بن گئی، جہاں غمدل فقیر، محمد فقیر کھٹین اور بدھل فقیر جیسے ساتھی ان کے ہمراہ رہے۔

ان کا روحانی سفر سندھ کے مشہور صوفی شاہ عبداللطیف بھٹائی کی درگاہ سے بھی جڑا ہوا تھا، جہاں وہ بار بار جاتے اور صوفیانہ روایات کو زندہ رکھتے۔ ان کی تعلیمات منصوری سلسلے کی تھیں، جو اللہ کی طرف رجوع اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کی پیروی پر مبنی تھیں۔ انہوں نے اسلام کی تبلیغ کو اپنے اعمال سے کیا، اور لوگوں کو توحید کی طرف بلاتے رہے۔

شاعری اور تصانیف

سید انور علی شاہ بخاری ایک عظیم صوفی شاعر تھے، جن کی شاعری سندھی، سرائیکی، اردو، ہندی، فارسی، عربی، بلوچی اور مرواری زبانوں میں موجود ہے۔ ان کی شاعری کا مرکزی موضوع حبِ رسول اور توحید ہے، جو اتحاد، برداشت اور ہم آہنگی کا پیغام دیتی ہے۔ ان کی غزلیں اور کلام اللہ کی محبت کی گہرائیوں کو چھوتے ہیں، اور صوفیانہ استعاروں سے بھرپور ہیں۔

ان کی مشہور تصنیف "انور شاہ جو رسالو" ہے، جو فقیر سید سکھاوت علی شاہ (دوسرے سجادہ نشین) کی نگرانی میں شائع ہوئی۔ اس کے علاوہ، انہوں نے کئی کتابوں کا ترجمہ بھی کیا، جیسے "سیپون"، "نظبو"، "آشی" اور "روح"۔ ان کی شاعری کی ایک مثال یہ ہے کہ وہ اللہ کی قربت کو ایسے بیان کرتے ہیں جیسے "دل کی دھڑکن میں بسا ہوا ہے وہ، ہر سانس میں اس کی یاد" – جو صوفیانہ جذبے کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کی شاعری نہ صرف ادبی بلکہ روحانی درس ہے، جو قاری کو اللہ کی طرف بلاتی ہے۔

خدمات اور خاندان

سید انور علی شاہ بخاری کی خدمات سندھ کی صوفی روایت کو مضبوط کرنے میں شامل ہیں۔ انہوں نے اپنی شاعری اور خانقاہ کے ذریعے ہزاروں لوگوں کو اللہ کی طرف راغب کیا۔ ان کی تعلیمات میں انسانیت کی فلاح پوشیدہ تھی، اور وہ صوفیائے کرام کی طرح ظلم کے خلاف اور امن کے حق میں کھڑے رہے۔

ان کے دو بیٹے تھے: پہلے فقیر سید حضور بخش شاہ (پہلے سجادہ نشین، 1941ء-2005ء) اور دوسرے فقیر سید خدابخش شاہ علیز (ملنگ صاحب، 1950ء-1998ء)۔ ان کے خاندان نے ان کی روایات کو آگے بڑھایا، اور آج بھی درگاہ جہانپور شریف روحانی مرکز ہے۔

وفات اور یادگار

سید انور علی شاہ بخاری 23 اگست 1987ء کو وفات پا گئے۔ ان کی یاد میں ہر سال محرم الحرام کی 21، 22 اور 23 تاریخ کو جہانپور شریف میں عرس مبارک منایا جاتا ہے، جہاں ملک بھر سے عقیدت مند آتے ہیں۔

اختتام

سید انور علی شاہ بخاری جیسے صوفی بزرگ ہمیں سکھاتے ہیں کہ شاعری اور تصوف کا امتزاج اللہ کی محبت کو عام لوگوں تک پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ آج کے دور میں، جہاں تقسیم اور نفرت عام ہے، ان کی تعلیمات اتحاد اور برداشت کی روشنی ہیں۔ ان کی شاعری ہمیشہ زندہ رہے گی، اور ان کی درگاہ عقیدت مندوں کا مرکز بنے رہے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Agriculture World October 11, 2025
Read more ...



تعارف

خانپور مہر، جو سندھی میں "خانپور مھر" کے نام سے مشہور ہے، پاکستان کے صوبہ سندھ کے شمالی حصے میں ضلع گوٹکی کا ایک اہم قصبہ ہے۔ یہ دریائے سندھ کے قریب واقع ہے اور اس کی آبادی تقریباً 50 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ خانپور مہر کی بنیاد قدیم زمانے میں پڑی، جو زرعی معیشت، تجارت اور صوفیانہ روایات کے لیے جانا جاتا ہے۔ اس قصبے کا نام ممکنہ طور پر مقامی خان خاندان یا مہر نامی علاقائی سرداروں سے منسوب ہے، جو سندھ کی تاریخ میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ آج یہ قصبہ گوٹکی ضلع کا ایک فعال مرکز ہے، جہاں لوگ کھیتی باڑی اور چھوٹی صنعتوں سے وابستہ ہیں۔

تاریخی پس منظر

خانپور مہر کی تاریخ سندھ کی وسیع تاریخی دھاروں سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ علاقہ کلہوڑو اور تالپور خاندانوں کے دور میں خاص اہمیت کا حامل رہا۔ 18ویں صدی میں تالپور حکمرانوں نے اس علاقے کو اپنی سلطنت کا حصہ بنایا، جہاں سے انہوں نے مغل اور افغان حملہ آوروں کا مقابلہ کیا۔ مثال کے طور پر، میر شہداد خان تالپور، جو تالپور خاندان کے جد امجد تھے، نے اس علاقے میں فوجی اور انتظامی اصلاحات کیں۔ ان کی موت 1734ء میں ہوئی اور ان کا مزار ضلع سانگھڑ میں شاہ پور چاکر کے قریب واقع ہے، جو سندھ کی تاریخ کا ایک زندہ یادگار ہے۔

خانپور مہر گوٹکی ضلع کا حصہ ہے، جو 1981ء میں بنایا گیا اور اس کی سرحدیں ضلع رحیم یار خان، سکھر اور کھیرپور سے ملتی ہیں۔ یہاں کی مٹی زرخیز ہے، جو دریائے سندھ کی وجہ سے حاصل ہوئی، اور قدیم زمانے سے یہاں کیری، گندم اور کپاس کی کاشت ہوتی رہی ہے۔ برطانوی دور میں یہ قصبہ ریلوے لائن سے جڑا، جس نے اس کی تجارتی اہمیت بڑھا دی۔ آزادی کے بعد، 1947ء میں، یہاں ہجرت کا سلسلہ شروع ہوا اور مسلمان مہاجر گھڑا ضلع (اب گوٹکی) میں آباد ہوئے، جنہوں نے مقامی ثقافت کو مزید تقویت دی۔

جغرافیائی محل وقوع اور آب و ہوا

خانپور مہر گوٹکی ضلع کے وسطی حصے میں واقع ہے، جو صوبہ سندھ کے شمالی حصے میں ہے۔ اس کی طول بلد 69° 25' مشرق اور عرض بلد 27° 50' شمال ہے۔ قریب ترین شہر سکھر (تقریباً 50 کلومیٹر دور) اور گوٹکی (20 کلومیٹر) ہیں۔ یہ قصبہ دریائے سندھ کے مشرقی کنارے پر ہے، جو اسے سیلابوں اور زرعی برکت دونوں کا سامنا کراتا ہے۔

آب و ہوا کی بات کریں تو، خانپور مہر کی گرمیاں شدید ہوتی ہیں، جہاں درجہ حرارت مئی اور جون میں 45 ڈگری سیلسیس تک پہنچ جاتا ہے۔ سردیاں معتدل ہوتی ہیں، جن کا درجہ حرارت دسمبر اور جنوری میں 10 سے 20 ڈگری رہتا ہے۔ بارشیں مون سون کے موسم میں ہوتی ہیں، جو علاقے کی زراعت کو سہارا دیتی ہیں۔ تاہم، موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے حالیہ برسوں میں سیلاب اور خشک سالی کی شکایات بڑھ گئی ہیں۔

معیشت اور سماجی زندگی

خانپور مہر کی معیشت بنیادی طور پر زراعت پر منحصر ہے۔ یہاں کیری، چاول، کپاس اور سبزیاں اہم فصلیں ہیں، جو مقامی مارکیٹوں اور قومی سطح پر برآمد ہوتی ہیں۔ قصبے میں چھوٹی سطح کی صنعتوں جیسے کپڑا بننا، برتن سازی اور لائہوڑا (چمڑے کا کام) بھی عام ہیں۔ قریب ہی واقع گوٹکی شہر کی وجہ سے تجارت مزید فروغ پا رہی ہے۔

سماجی طور پر، خانپور مہر ایک پرامن اور روایتی معاشرہ ہے، جہاں سندھی، سرائیکی اور اردو بولی جاتی ہیں۔ تعلیم کا نظام بہتر ہو رہا ہے، جہاں سرکاری سکولوں کے علاوہ نجی ادارے بھی کام کر رہے ہیں۔ صحت کی سہولیات محدود ہیں، لیکن قریبی شہروں کے ہسپتال مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ ثقافتی طور پر، یہاں صوفیانہ محفلیں، میلے اور عرس عام ہیں، جو مقامی لوگوں کو جوڑے رکھتے ہیں۔ خواتین کی شمولیت زرعی کاموں میں زیادہ ہے، جبکہ نوجوان نسل شہروں کی طرف ہجرت کر رہی ہے۔

ثقافتی اور سیاحتی اہمیت

خانپور مہر کی ثقافت سندھ کی روایتی میراث کی عکاسی کرتی ہے۔ یہاں سندھی لوک موسیقی، بھرج ناچ اور شاعری کی محفلیں سجتی ہیں۔ قصبے کے آس پاس قدیم مزارات اور آثار قدیمہ موجود ہیں، جیسے تالپور دور کے کچھ قلعے اور خانقاہیں۔ قریب ہی واقع یاکوجی شہید مزار ایک اہم زیارت گاہ ہے، جو صوفی سنت شاہ یاکوجی کو وقف ہے۔

سیاحت کی نظر سے، خانپور مہر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ دریائے سندھ کے کناروں پر بوٹنگ اور مچھلی کی تلاش مقامی تفریح ہے، جبکہ قریب کا چولستان صحرا جیپ ریلی کے شوقینوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ یہاں تاریخی مقامات کی بحالی اور انفراسٹرکچر کو بہتر بنائے تاکہ سیاحتی مواقع بڑھیں۔

نتیجہ

خانپور مہر سندھ کی تاریخ، ثقافت اور معیشت کا ایک زندہ عکس ہے۔ یہ قصبہ، جو کلہوڑو اور تالپور خاندانوں کی یاد دلاتا ہے، آج بھی اپنی سادگی اور محنت سے جڑا ہوا ہے۔ مستقبل میں، تعلیم، صحت اور زرعی ترقی پر توجہ سے یہ علاقہ مزید ترقی کر سکتا ہے۔ خانپور مہر نہ صرف ایک جگہ ہے، بلکہ سندھ کی روح کی علامت ہے، جو ہمیں اپنے ماضی سے جوڑتی ہے اور مستقبل کی امید دیتی ہے۔

(حوالہ جات: ویکی پیڈیا اور دیگر تاریخی مآخذ سے مستفید)

Agriculture World October 10, 2025
Read more ...


 

تعارف

ڈہرکی، سندھ صوبہ کے ضلع گھوٹکی کا ایک اہم شہر اور تحصیل ہے، جو دریائے سندھ کے قریب واقع ہے۔ یہ شہر اپنی قدیم تاریخ، قبائلی روایات اور جدید صنعتی ترقی کے لیے مشہور ہے۔ ڈہرکی کا نام ڈہر (یا دہر) قبیلے سے منسوب ہے، جو سندھ کے ایک پرانے سندھی سماٹ قبیلے کا حصہ ہے۔ یہ شہر سکھر سے تقریباً 100 کلومیٹر دور، میرپور ماتھیلو اور اوبراو کے درمیان واقع ہے اور ایک اہم تجارتی اور صنعتی مرکز کے طور پر ابھرا ہے۔ اس مضمون میں ڈہرکی کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے گا، جو وادی سندھ کی تہذیب سے لے کر آج تک پھیلی ہوئی ہے۔

قدیم دور اور بنیاد

ڈہرکی کی تاریخ بہت قدیم ہے اور اس کی جڑیں وادی سندھ کی ہڑپہ تہذیب (تقریباً 2500-1700 قبل مسیح) تک جاتی ہیں۔ آثار قدیمہ کے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ یہ علاقہ زراعت، تجارت اور دریائی راستوں کا مرکز رہا ہے۔ دریائے سندھ کی وجہ سے یہاں انسانی بستیوں کی ابتداء ہوئی، جو آج بھی اس کی مٹی میں دفن ہے۔

ساتویں صدی عیسوی میں، راجہ دہیر (663-712 عیسوی) کے دور میں، جو سندھ کے آخری ہندو حکمران تھے، یہ علاقہ برہمن خاندان کے زیر اثر تھا۔ راجہ دہیر کے رشتہ دار، راجہ ابن سلاج برہمن کے سفیر جنرل ہتھ سام نے 637 عیسوی (ہجرت کا 15 واں سال) میں گھوٹکی کی بنیاد رکھی، جو ڈہرکی کا حصہ ہے۔ یہ ایک فوجی کیمپ تھا جو عرب مسلمان فوج کو شکست دینے کے بعد قائم کیا گیا۔ بعد میں یہ کیمپ ایک گاؤں میں تبدیل ہوا، لیکن دریائے سندھ کی تبدیلی کی وجہ سے خالی ہو گیا۔ 695 عیسوی میں ماہی گیروں نے دوبارہ اسے آباد کیا اور "میانی" کا نام دیا، مگر یہ بھی ترک ہو گیا۔

اسلامی فتح اور قبائلی ترقی

711 عیسوی میں اموی خلیفہ کے جرنیل محمد بن قاسم نے سندھ پر حملہ کیا اور راجہ دہیر کو شکست دے کر ڈہرکی سمیت پورے علاقے کو فتح کر لیا۔ یہ فتح سندھ کی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھی، جس نے علاقے میں اسلام کی آمد کا آغاز کیا۔ فتح کے بعد، راجہ دہیر کے ہندو نسل سے تعلق رکھنے والے غوٹ ابن سمد ابن پٹیل نے علاقے میں آبادکاری کی۔ غوٹ نے عرب اثر کے تحت اسلام قبول کیا اور ایک مسلمان خاتون سے شادی کی، جس سے غوٹہ قبیلہ وجود میں آیا۔ عربوں نے غوٹہ قبیلے کو جاغیروں سے نوازا اور گاؤں کا نام "دھر والی" رکھا، جو بعد میں "لوہِ صاحباں" بن گیا۔

وسطی دور میں، 12ویں اور 13ویں صدی میں، راجستھان سے ہجرت کرنے والے شار اور میمن قبائل نے ڈہرکی کو ایک دفاعی اور تجارتی چوکی بنا دیا۔ شار قبیلہ، جو جنگجوؤں کے لیے مشہور تھا، نے قلعے اور آبپاشی کے نظام قائم کیے۔ یہ دور قبائلی حکمرانی کا تھا، جہاں مقامی سردار علاقے کی حفاظت اور تجارت سنبھالتے تھے۔ بغداد سے آنے والے بزرگ سید مبارک شاہ جیلانی بغدادی جیسے صوفیاء نے بھی یہاں کی ثقافت کو متاثر کیا۔

نوآبادیاتی دور

برطانوی دور (1847 میں سندھ کی فتح کے بعد) میں ڈہرکی بمبئی پریذیڈنسی کا حصہ بنا۔ برطانویوں نے غوٹہ قبائلی سرداروں کو زرخیز زمینیں دیں تاکہ وفاداری حاصل کریں۔ یہاں کی آبیاری نے کاٹن اور انڈیگو کی تجارت کو فروغ دیا، اور ریلوے لائن کی تعمیر سے سکھر جیسے شہروں سے رابطہ مضبوط ہوا۔ یہ ترقی نے ایک چھوٹے سے گاؤں کو شہر کی شکل دی۔

جدید دور اور صنعتی انقلاب

1947 میں پاکستان کی آزادی کے بعد، ڈہرکی ایک صنعتی مرکز بن گیا۔ 20ویں صدی میں تھرمل پاور پلانٹس، سیمنٹ فیکٹریاں اور تیل و گیس کی تلاش نے اسے تبدیل کر دیا۔ آج یہ او ای جی ڈی سی، انگرو کیمیکلز اور فوجی فرٹیلائزرز جیسے اداروں کا گھر ہے۔ کپاس، گندم، چینی اور چاول کی پیداوار اس کی معیشت کی بنیاد ہے۔

سکھ اور ہندو برادریاں بھی یہاں آباد ہیں، جہاں 200 سے زائد سکھ خاندان رہتے ہیں، جو سندھ میں ایک منفرد مثال ہے۔ بھرچنڈی شریف کا مزار اور گرودوارہ نانک جیسے مقامات ثقافتی تنوع کو ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم، حالیہ برسوں میں مذہبی تنازعات اور اغوا جیسے مسائل نے چیلنجز پیدا کیے ہیں۔

اختتام

ڈہرکی کی تاریخ وادی سندھ کی عظمت، اسلامی فتح، قبائلی مزاحمت اور جدید ترقی کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ شہر نہ صرف ماضی کی یادگار ہے بلکہ مستقبل کی امید بھی۔ اس کی حفاظت اور ترقی سندھ کی مجموعی تاریخ کا حصہ ہے۔

Agriculture World October 10, 2025
Read more ...

 شہید نصر اللہ گڈانی: سندھ کی سچائی کی آواز اور جاگیردارانہ نظام کے خلاف جدوجہد کا نشان



سندھ کی سرزمین، جو ہمیشہ سے مزاحمت اور سچائی کی علامت رہی ہے، اس کی حفاظت کے لیے کئی ایسے بہادر لوگ پیدا ہوئے ہیں جو اپنی جانیں قربان کر گئے۔ ان میں سے ایک نمایاں نام شہید نصر اللہ گڈانی کا ہے، جو ایک ایسے صحافی اور سماجی کارکن تھے جنہوں نے جاگیردارانہ نظام، کرپشن اور مظالم کے خلاف آواز اٹھائی۔ 1984ء میں پیدا ہونے والے نصر اللہ گڈانی نے اپنی مختصر مگر اثر انگیز زندگی میں سندھ کے غریبوں کی آہ اور بے ضابطگیوں کی داستان بیان کی۔ 24 مئی 2024ء کو کراچی میں شہید ہونے والے ان کی شہادت نے نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کو جھنجھوڑ دیا، اور ان کی جدوجہد کو ایک تحریک کی شکل دے دی۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم
نصر اللہ گڈانی 1984ء میں سندھ کے ضلع گھوٹکی کے قریب میرپور ماتھیلو کے گاؤں قبول گڈانی میں ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کی فیملی کی معاشی حالت نہایت خراب تھی، جس کی وجہ سے انہیں اعلیٰ تعلیم حاصل نہ ہو سکی اور صرف بنیادی تعلیم تک محدود رہ گئی۔ غربت اور جاگیردارانہ نظام کی سختیوں نے ان کی شخصیت کو مزاحم بنایا، اور بچپن سے ہی انہوں نے سماجی ناانصافیوں کا سامنا کیا۔ یہ تجربات ہی تھے جنہوں نے انہیں صحافت کی طرف راغب کیا، جہاں وہ اپنے لوگوں کی آواز بن سکتے تھے۔
صحافتی کیریئر اور سرگرمیاں
نصر اللہ گڈانی نے اپنا صحافتی سفر سندھی زبان کے روزنامہ 'اوامی آواز' سے شروع کیا، جہاں وہ اپنی موت تک وابستہ رہے۔ وہ یوٹیوب پر لائیو براڈکاسٹنگ بھی کرتے تھے، جس سے وہ اسپاٹ رپورٹنگ کر کے لوگوں تک براہ راست پہنچتے۔ ان کی رپورٹنگ کا مرکزی موضوع سندھ میں جاگیردارانہ بالادستی کے خلاف جدوجہد تھا۔ وہ تعلیم تک رسائی، جاگیرداری نظام کا خاتمہ اور ماحولیاتی تحفظ جیسے مسائل پر کام کرتے۔
2022ء کے پاکستان سیلاب کے دوران ان کی ایک لائیو براڈکاسٹ مشہور ہوئی، جہاں وہ اپنی موٹر سائیکل پر پانی بھری سڑکوں سے گزرتے ہوئے لوگوں کی حالت زار دکھاتے رہے۔ ان کی موٹر سائیکل پر درج نعرہ "بھوٹار، مائی فُٹ" (سندھی میں "ڀوتار مائي فٽ!") سندھی سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر گیا، جو جاگیرداروں کی بالادستی پر طنز تھا۔ اسی طرح، انہوں نے مقامی ایم پی شاہباز لنڈ کے بیٹے کو پولیس پروٹوکول دینے کے معاملے کو ایکسپوز کیا۔ وہ موٹر کیڈ کی طرف سے گزرتے ہوئے سوالات کرتے رہے، جس پر لنڈ کے محافظوں نے ان پر فائرنگ کی مگر وہ بچ نکلے۔ مئی 2023ء میں انہیں ایک مقامی جج کی کرپشن ایکسپوز کرنے پر گرفتار کیا گیا، لیکن صحافیوں کی ایک علاقائی تنظیم کی مداخلت سے رہا ہو گئے۔ ان کی یہ سرگرمیاں انہیں جاگیرداروں اور بااثر شخصیات کی آنکھوں میں کانٹا بنا دیں۔
شہادت: ایک دردناک واقعہ
21 مئی 2024ء کی صبح، جب نصر اللہ گڈانی اپنی موٹر سائیکل پر میرپور ماتھیلو پریس کلب (جس کے صدر وہ تھے) جارہے تھے، تو تین مسلح افراد نے کار سے ان پر حملہ کر دیا۔ ان پر سینہ اور پیٹ میں تین گولیاں ماری گئیں۔ مقامی ہسپتال میں ایمرجنسی ایڈ دی گئی، پھر انہیں پنجاب کے شيخ زايد ہسپتال منتقل کیا گیا، اور آخر میں کراچی کے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال ایئرلفٹ کیا گیا۔ شدید زخموں کی وجہ سے 24 مئی 2024ء کو 40 سال کی عمر میں وہ شہید ہو گئے۔
ان کی لاش کو ایمبولینس سے گھر واپس لایا گیا، جہاں راستے میں طلبہ اور عوام نے گلاب کی پتیوں سے ان کی عزت کی۔ ہزاروں لوگوں نے ان کی نماز جنازہ ادا کی، اور وہی دن انہیں دفنایا گیا۔ یہ شہادت گزشتہ چار سالوں میں سندھ میں مارے گئے 13ویں صحافی کی تھی، جو پاکستان میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔
تحقیقات اور خاندان کی جدوجہد
شہادت کے فوراً بعد نصر اللہ کے خاندان، بشمول ان کی والدہ اور قریبی رشتہ داروں، نے مقامی ایم پی خالد خان لنڈ اور ان کے بیٹوں، شہر کے میئر شاہباز لنڈ اور نور محمد لنڈ پر الزام لگایا کہ انہوں نے قتل کا حکم دیا تھا۔ خاندان کا کہنا تھا کہ پولیس نے بااثر ہونے کی وجہ سے ان کے نام فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) میں شامل نہ کیے، کیونکہ لنڈ فیملی حکمران پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ ہے۔ خاندان نے قتل کے 40 دن بعد اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔
1 جون 2024ء کو مقامی کارکنوں نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دی کہ عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے، کیونکہ سرکاری تحقیقات پر اعتماد نہیں۔ 10 جون 2024ء کو سندھ پولیس نے ایک ملزم اسغر لنڈ کو گرفتار کیا اور قتل کا ہتھیار برآمد ہوا۔ مزید تین ملزمان کو کمال لونڈ سے گرفتار کیا گیا۔ تاہم، تحقیقات ابھی جاری ہیں، اور خاندان کی جدوجہد انصاف کے لیے جاری ہے۔
وراثت: ایک تحریک کی بنیاد
شہید نصر اللہ گڈانی کی شہادت نے سندھ میں صحافیوں اور عوام میں غم و غصہ کی لہر دوڑا دی۔ ان کی آواز کو "سچائی کا شہید" کہا جاتا ہے، اور میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ یہ قتل سندھ میں جاگیرداری کے خلاف ایک تحریک کو جنم دے سکتا ہے۔ ان کی جدوجہد نے نئی نسل کو متاثر کیا ہے، جو اب "بھوٹار، مائی فُٹ" کے نعرے کو مزاحمت کی علامت بنا رہی ہے۔ آج جب کہ صحافیوں پر حملے بڑھ رہے ہیں، نصر اللہ گڈانی کی کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سچائی کی قیمت کتنی ہوتی ہے۔ ان کی شہادت سندھ کی آزادی اور انصاف کی جدوجہد کا حصہ بن چکی ہے، اور ان کی یاد ہمیشہ زندہ رہے گی


Agriculture World October 09, 2025
Read more ...


 سندھ کی سرزمین، جو ہمیشہ سے مذاہب کی ہم آہنگی اور انسانی ہمدردی کی علامت رہی ہے، اس کی حفاظت اور فروغ کے لیے کئی ایسے ہیروز نے کام کیا ہے جو خاموشی سے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک نمایاں نام رئوف پارس دائیو کا ہے، جو گھوٹکی، سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک ممتاز سماجی کارکن، انسانی حقوق کے دفاع کرنے والے، شاعر اور کاروباری شخصیت ہیں۔ 1964ء میں گھوٹکی میں پیدا ہونے والے رئوف پارس دائیو نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ سندھ کی سماجی مسائل کے حل اور بین المذاہب ہم آہنگی کو وقف کر دیا ہے۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم

رئوف پارس دائیو کی ابتدائی تعلیم گھوٹکی کے ڈگری کالج سے حاصل کی، جبکہ اعلیٰ تعلیم آغا بی ڈی لا کالج سکھر سے مکمل کی۔ ان کی تعلیم نے انہیں نہ صرف قانونی علوم کی سمجھ دی بلکہ سماجی مسائل کی گہری بصیرت بھی عطا کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے سکھر ضلع میں کاروبار شروع کیا اور ایس ای پی سیو جیسی اداروں سے وابستہ رہے۔ تاہم، ان کی دلچسپی ہمیشہ سے ادب اور سماجی کاموں میں رہی، جو ان کی شاعری میں بھی جھلکتی ہے۔ سندھی ادب کے حلقوں میں انہیں ایک حساس شاعر کے طور پر جانا جاتا ہے، جو انسانی جذبات اور سماجی انصاف کی بات کرتے ہیں۔

سماجی اور انسانی حقوق کی جدوجہد

رئوف پارس دائیو کی اصل شناخت ان کی سماجی سرگرمیوں سے ہے۔ وہ راوداری تحریک پاکستان کے سندھ صوبائی باب کے صدر ہیں، جو بین المذاہب رواداری اور امن کی ترویج کے لیے کام کرتی ہے۔ ان کی یہ تحریک سندھ کی متنوع مذہبی اور ثقافتی ساخت کو مدنظر رکھتے ہوئے کام کرتی ہے، جہاں مسلمان، ہندو، عیسائی اور سکھ ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی سے رہتے ہیں۔

ان کی سرگرمیاں انسانی حقوق کی حفاظت تک پھیلی ہوئی ہیں۔ مثال کے طور پر، سکھر پریس کلب کے باہر منعقد ہونے والے بھوک ہڑتال کے کیمپ کا دورہ کرتے ہوئے انہوں نے گمشدہ افراد کے خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ یہ ہڑتال وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ کی جانب سے منعقد کی گئی تھی، جس کا مقصد 160 سے زائد لاپتہ افراد کی بازیابی تھا۔ ایک سینئر کارکن اور ادبی شخصیت کے طور پر، انہوں نے وکلاء کی ایک ٹیم کے ساتھ مل کر اس جدوجہد کی حمایت کی۔

بین المذاہب ہم آہنگی کی کوششیں

رئوف پارس دائیو کی بین المذاہب ہم آہنگی کی طرف دلچسپی ان کی اقوام متحدہ کی ورلڈ انٹر فیث ہارمونی ویک میں شرکت سے ظاہر ہوتی ہے۔ 2015ء اور 2016ء میں انہوں نے اس عالمی مہم کے لیے رپورٹس جمع کرائیں، جو مذاہب کے درمیان اتحاد کی اہمیت پر زور دیتی تھیں۔ 2017ء میں ڈی آئی وائی اے (ایمپاور دی یوتھ تھرو ایجوکیشن) کی جانب سے گھوٹکی میں منعقدہ ایک دو روزہ امن و رواداری ورکشاپ اور ڈائلاگ میں وہ مہمان سخنور کے طور پر شریک ہوئے۔ اس تقریب کا موضوع "مذاہب میں اتحاد امن لا سکتا ہے" تھا، جس میں مختلف مذاہب کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ مذاہب سیکھنے اور انسانیت کے ذرائع ہیں، جو اندرونی اطمینان اور امن کی طرف لے جاتے ہیں۔ سندھی لوگ مذاہب کے اچھے پیروکار ہیں اور سندھ کو "باب الاسلام" کہا جاتا ہے۔ انہوں نے شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھٹائی کے دور میں بھی انتہا پسندی موجود تھی، جب لوگوں کو زبردستی اسلام قبول کروایا جاتا تھا، لیکن بھٹائی کی لبرل اور صوفیانہ تعلیمات نے ہندوستان اور اسلام دونوں کی ترویج کی۔ ان کا پیغام تھا کہ مذاہب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ان کی ہم آہنگی ہی پرامن معاشرے کی بنیاد ہے۔

تاریخی ورثے اور سماجی خدمات کی حفاظت

رئوف پارس دائیو کی سرگرمیاں ثقافتی ورثے کی حفاظت تک پھیلی ہوئی ہیں۔ 2010ء میں انہوں نے گھوٹکی کی تاریخی جامع مسجد کی حفاظت کے لیے آواز اٹھائی، جو 1732ء میں کلہوڑو خاندان کے دور میں حضرت پیر سید غوث موسیٰ شاہ جیلانی گھوٹکی نے تعمیر کروائی تھی۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی بھی اس مسجد کے بارے میں کئی بار آئے۔ شدید مون سون بارشوں سے مسجد کی دو میناروں کو نقصان پہنچا، جس کے بعد انہوں نے سرکاری، غیر سرکاری اور بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی کہ اس تاریخی یادگار کو مکمل تباہی سے بچایا جائے۔

حال ہی میں، ستمبر 2025ء میں گھوٹکی میں سماجی تنظیموں کی جانب سے منعقدہ مفت میڈیکل کیمپ کی افتتاحی تقریب میں بھی انہوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر ضلعی کونسلر گھوٹکی نے کہا کہ ایسی سماجی خدمات قابلِ ستائش ہیں، اور رئوف پارس دائیو سمیت دیگر رہنماؤں نے ویکسینیشن کی اہمیت پر زور دیا۔ یہ کیمپ ترقی پذیر ممالک میں صحت کی بیداری کے لیے ایک اہم قدم تھا۔

نتیجہ: ایک مستقل جدوجہد کرنے والا

رئوف پارس دائیو کی زندگی سندھ کی روایتی رواداری اور انسانی ہمدردی کی زندہ مثال ہے۔ انتہا پسندی، گمشدگیوں اور مذہبی تنازعات کے دور میں ان کی آواز امن اور اتحاد کی ہے۔ ان کی شاعری، سماجی کام اور قیادت نے نہ صرف گھوٹکی اور سندھ بلکہ پورے پاکستان کو متاثر کیا ہے۔ آج جب کہ دنیا تقسیم کی لہروں سے گھری ہوئی ہے، ایسے شخصیات کی ضرورت اور بھی بڑھ گئی ہے جو مذاہب کو انسانیت کی خدمت میں استعمال کریں۔ رئوف پارس دائیو کی جدوجہد جاری رہے گی، اور وہ سندھ کی امن کی تحریک کا ایک ابدی ستون بنے رہیں گے۔

Agriculture World October 09, 2025
Read more ...

 نام: جام عبدالفتاح سمیجو (Jam Abdul Fattah Samejo) 


لقب / پیشہ: وکیل (Advocate) 


جماعتی پس منظر: سندھ ترقی پسند پارٹی (Sindh Taraqqi-Pasand Party, STP) 



سیاسی اور وکالتی سرگرمی


عہدے اور جماعتی مقام


جنوری 2019 میں STP کے 26ویں کنگرس میں، انھیں سینئر نائب چیئرمین منتخب کیا گیا۔ 


وہ پارٹی کی مرکزی کمیٹی اور اجلاسوں کے اہم ارکان میں شمار ہوتے ہیں۔ 


احتجاج اور عوامی مداخلت


2008 میں، انہوں نے Qadirpur گیس فیلڈ کی نجکاری کے خلاف احتجاجی ہڑتالوں اور شاہراہ بلاکیج کا حصہ لیا۔ 


2009 میں، مبینہ “فیک قتل کیس” کے الزام تلے ان کی گرفتاری پر احتجاج ہوا، اور STP کارکنوں نے ڈہرکی سے گھوٹکی تک ریلی نکالی۔ 


STP مرکزی کمیٹی کی ایک میٹنگ میں، غیر قانونی تارکینِ وطن کے سلسلے میں “سماجی بائیکاٹ” کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے خطاب کیا۔ 


وہ سندھ کی مقامی وسائل کی خود مختاری اور عوامی حقوق کے مسائل پر آواز اٹھاتے رہے ہیں، مثال کے طور پر غیر قانونی آباد کاری، قانون شکنی اور حقوق نسلی تدابیر کے خلاف۔ 


تعلقِ علاقہ اور مقامی اثر


ان کا تعلق خصوصاً ضلع ڈہرکی اور آس پاس کے علاقوں سے بتایا جاتا ہے (وہیں کام اور وکالت کرتے ہیں) 


مقامی بار ایسوسی ایشن یا وکلاء برادری کے اندر ان کی نمایاں حیثیت اور شرکت ملاحظہ کی گئی


چیلنجز، تنازعات اور مسائل


گرفتاری کا معاملہ: 2009 میں متنازع الزام کے تحت گرفتاری کے بعد سیاسی احتجاج ہوا، جسے STP اور دیگر جماعتوں نے “جعلی کیس” قرار دیا۔ 


جماعتی وسائل اور سیاسی اثر: علاقائی جماعتیں عموماً وسائل اور میڈیا رسائی میں کمزور ہوتی ہیں، اس لیے ان کو بڑے چیلنجز کا سامنا رہتا ہے — یہی ممکنہ رکاوٹ ان کی سیاسی ترقی میں شامل ہو سکتی ہے۔


موضوعی تنقیدیں اور اختلافِ رائے: ان کے موقفِ “سماجی بائیکاٹ غیر قانونی تارکین” کی حمایت پر بعض حلقوں میں ردعمل بھی آیا ہے

Agriculture World October 08, 2025
Read more ...

 پریم پتافی — روشنی اور احساس کا شاعر


سندھ کی دھرتی ہمیشہ سے علم و ادب، محبت اور فکرآفریں شخصیات سے بھری رہی ہے۔ انہی نامور شخصیات میں ایک نمایاں نام پریم پتافی کا ہے، جو نہ صرف ایک حساس شاعر ہیں بلکہ ایک باشعور استاد اور ادبی کارواں کے مسافر بھی ہیں۔ اُنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے احساس، انسانیت اور امید کی وہ شمع روشن کی ہے جو آج کے بےحس دور میں بھی دلوں کو گرما دیتی ہے۔


ابتدائی زندگی


پریم پتافی کا اصل نام عبدالرزاق ولد محمد یوسف ہے۔ وہ 5 مئی 1969ء کو ضلع گھوٹکی کے ایک علمی اور مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ اُن کے خاندان میں علم و ادب کی روایت پرانی ہے — اُن کے پردادا مولانا بہاؤالدین بہائي اور دادا مولانا عبدالرحمٰن ضیائي فارسی اور سندھی کے نامور شاعر تھے۔


بچپن ہی سے پریم پتافی کو مطالعے اور شاعری کا شوق تھا۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے پرائمری اسکول سے حاصل کی، جبکہ میٹرک 1985ء میں گورنمنٹ ہائی اسکول میرپور ماتھیلو سے مکمل کیا۔


تدریسی سفر


تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے 1989ء میں محکمہ تعلیم سندھ میں بحیثیت پرائمری اسکول ٹیچر اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ تدریس کو انہوں نے پیشہ نہیں بلکہ خدمتِ خلق کا ذریعہ سمجھا۔ وہ طلبہ میں اخلاق، انسان دوستی اور محنت کا جذبہ بیدار کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔


ادبی آغاز


پریم پتافی نے شاعری کا باقاعدہ آغاز 1992ء میں کیا۔ ان کی شاعری جلد ہی مختلف ادبی رسائل جیسے مهراڻ، سوجهرو، سنجها، امرتا، پرکھ، نئی زندگی وغیرہ میں شائع ہونے لگی۔

ان کی شاعری میں سندھ کی محبت، انسان کا دکھ، خواب، جدوجہد اور امید کی کرنیں نمایاں ہیں۔


ادبی خدمات اور تصانیف


پریم پتافی کا پہلا مجموعۂ کلام "روشنیءَ جون اکيون" (روشنی کی آنکھیں) سن 2010ء میں شائع ہوا۔

یہ مجموعہ اُن کے تخلیقی اظہار کا پہلا سنگِ میل ثابت ہوا، جس میں انہوں نے محبت، زندگی اور وقت کے بدلتے رنگوں کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا۔


ان کے ایک اور اہم کام "منھنجو ادبي سفر" (میرا ادبی سفر) میں اُنہوں نے اپنی ادبی زندگی، اساتذہ، اثرات اور تجربات کا تفصیلی تذکرہ کیا ہے۔


شعری انداز اور فکری جہت


پریم پتافی کی شاعری جدید احساسات اور روایتی سندھی شاعری کے امتزاج کی عکاس ہے۔

اُن کے اشعار میں کہیں عشق کی نرمی ہے، تو کہیں زندگی کے دکھوں کا فلسفہ۔

ان پر استاد بخاری، امداد حسینی اور دیگر جدید سندھی شعرا کے اثرات نمایاں ہیں، تاہم اُن کی اپنی پہچان ایک الگ اسلوب اور گہری فکری وابستگی کی بنا پر قائم ہے۔


ان کی شاعری میں انسانی رشتوں کی حرارت، سماجی درد، اور جمالیاتی لطافت ایک ساتھ نظر آتی ہے۔


ادبی مقام اور اثرات


پریم پتافی آج کے اُن شاعروں میں سے ہیں جنہوں نے روایت سے جڑے رہتے ہوئے جدید دور کے احساسات کو اپنی شاعری میں جگہ دی۔

وہ محض شاعر نہیں بلکہ سندھ کے تعلیمی اور فکری منظرنامے کا ایک اہم کردار ہیں — جو علم، محبت اور سماجی شعور کے ذریعے اپنی دھرتی کے نوجوانوں کو روشن مستقبل کی طرف رہنمائی کر رہے ہیں۔


اختتامی کلمات


پریم پتافی کی شاعری دراصل روشنی، احساس اور بیداری کی شاعری ہے۔

اُن کے لفظ دل سے نکلتے ہیں اور سیدھے دل میں اترتے ہیں۔

گھوٹکی جیسے علاقے میں اُن کی موجودگی ایک فکری نعمت ہے، اور ان 

کا قلم آج بھی امید، محبت اور انسانیت کی بقا کے لیے لکھ رہا ہے۔

Agriculture World October 07, 2025
Read more ...

 پروفیسر عبدالحفیظ دایو — علم، عمل اور انسانیت کا روشن چراغ


سندھ کی سرزمین ہمیشہ علم و ادب کے متوالوں اور ایسے اساتذہ سے زرخیز رہی ہے جنہوں نے محض کتابی علم نہیں دیا بلکہ نسلوں کے شعور، اخلاق اور کردار کو بھی سنوارا۔ انہی درخشاں ناموں میں سے ایک نام ہے پروفیسر عبدالحفیظ دایو کا — جو ضلع گھوٹکی میں تعلیمی میدان کے نمایاں رہنما اور گورنمنٹ ڈگری کالج گھوٹکی کے قابلِ فخر پرنسپل ہیں۔


ابتدائی زندگی اور تعلیم


پروفیسر عبدالحفیظ دایو کا تعلق ایک علم دوست اور باوقار خاندان سے ہے۔ بچپن سے ہی اُن میں علم حاصل کرنے اور دنیا کو سمجھنے کا تجسس نمایاں تھا۔ اسکول اور کالج کے دور میں وہ بہترین طالبِ علم ہونے کے ساتھ ساتھ تقریری و ادبی سرگرمیوں میں بھی پیش پیش رہے۔ بعد ازاں انہوں نے سندھ یونیورسٹی جامشورو سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی، جہاں ادب، تحقیق اور تعلیم کے اوصاف نے اُن کی شخصیت کو مزید نکھارا۔


تدریسی زندگی


تعلیم مکمل کرنے کے بعد پروفیسر دایو نے تدریس کو اپنی عملی زندگی کا مشن بنایا۔ اُن کے نزدیک استاد ہونا صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک مقدس فریضہ ہے۔ اُن کا ماننا ہے کہ:


> “استاد وہ ہے جو ذہنوں میں علم کی روشنی کے ساتھ انسانیت کے چراغ بھی روشن کرے۔”




گھوٹکی جیسے نسبتاً پسماندہ علاقے میں پروفیسر دایو نے تعلیم کو فروغ دینے کے لیے انتھک جدوجہد کی۔ اُن کی محنت، نظم و ضبط اور طلبہ سے محبت نے اُنہیں ایک محبوب استاد بنا دیا۔ اُن کے کلاس روم میں علم کے ساتھ تربیت، اور تعلیم کے ساتھ اخلاق کا درس بھی ملتا ہے۔


تعلیمی قیادت اور نظم و نسق


جب انہیں گورنمنٹ ڈگری کالج گھوٹکی کا پرنسپل مقرر کیا گیا، تو ادارے میں نئی روح دوڑ گئی۔ انہوں نے انتظامی ذمہ داریاں سنبھالتے ہوئے بھی تدریس کا عمل جاری رکھا، تاکہ طلبہ کو یہ احساس ہو کہ علم محض حکم سے نہیں بلکہ عمل سے پھیلتا ہے۔ اُن کی نگرانی میں کالج میں لائبریری کے فروغ، ثقافتی سرگرمیوں کے انعقاد، اور طلبہ کی فلاح کے لیے کئی اقدامات کیے گئے۔


فکری و ادبی رجحان


پروفیسر عبدالحفیظ دایو کی شخصیت میں ایک فکری اور ادبی جھکاؤ نمایاں ہے۔ وہ ادب کو انسان کی روح کا آئینہ سمجھتے ہیں۔ سندھی، اردو اور انگریزی ادب پر گہری نظر رکھتے ہیں، اور کئی علمی و تحقیقی نشستوں میں مقالات پیش کر چکے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ:


> “تعلیم کا مقصد نوکری نہیں بلکہ فکر کی آزادی اور معاشرے کی بہتری ہے۔”




سماجی خدمات


علمی خدمات کے ساتھ ساتھ پروفیسر دایو فلاحی اور سماجی سرگرمیوں میں بھی سرگرم ہیں۔ وہ مختلف طلبہ اسکالرشپ پروگرامز اور تعلیمی معاونت کے منصوبوں سے وابستہ ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی باصلاحیت طالبِ علم صرف غربت کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہے۔


شخصیت اور فکر


پروفیسر عبدالحفیظ دایو ایک متوازن، نرم گفتار اور دیانتدار شخصیت کے مالک ہیں۔ اُن کی زندگی سادگی، اصول پسندی اور علم دوستی سے مزین ہے۔ طلبہ اُنہیں صرف ایک استاد نہیں بلکہ ایک رہنما، مشیر اور مخلص دوست کے طور پر دیکھتے ہیں۔


اختتامیہ


پروفیسر عبدالحفیظ دایو اُن روشن دماغ اساتذہ میں سے ہیں جنہوں نے علم کو عبادت اور تدریس کو خدمت سمجھا۔ اُن کی زندگی کا ہر لمحہ علم، عمل اور انسانیت کی خوشبو سے معطر ہے۔ گھوٹکی جیسے علاقے میں اُن کی موجودگی ایک نعمت سے کم نہیں — وہ یقیناً سندھ 

کے تعلیمی افق پر ایک تابناک ستارہ ہیں۔

Agriculture World October 07, 2025
Read more ...

 اوباڑو، جو سندھ صوبے کے ضلع گھوٹکی کا ایک اہم تحصیل (تعلقہ) اور شہر ہے، کی تاریخ صدیوں پرانی ہے اور یہ مختلف سلطنتوں، قبائلی تنازعات اور ثقافتی تبدیلیوں کا گواہ رہا ہے۔ یہ شہر دریائے سندھ کے قریب واقع ہے اور زرخیز زمینوں سے گھرا ہوا ہے، جو اس کی معاشی اور فوجی اہمیت کو بڑھاتا ہے۔



مغل دور میں، اوباڑو کو "آئینِ اکبری" میں سرحدِ ملتان کے تحت ایک پیرگنہ کے طور پر درج کیا گیا تھا، جو 915,256 dams کی آمدنی دیتا تھا اور 30 سوار اور 500 پیدل فوجی فراہم کرتا تھا۔ اس دور میں، ملتان سرحد کی جنوبی حد اباڑو کے قریب تھی، جو اس کی انتظامی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ 18ویں صدی میں، یہاں باغی بلوچ قبائل کی آبادکاری ہوئی، جو علاقے کی قبائلی تاریخ کا حصہ بنے۔


ایک اہم تاریخی واقعہ 1759 عیسوی میں "جنگِ اوباڑو" تھا، جو کلہوڑا خاندان اور درانی سلطنت کے درمیان لڑی گئی۔ یہ جنگ سندھ کے تخت کی succession کے لیے تھی، جہاں کلہوڑا حکمران میاں غلام شاہ کلہوڑا نے اپنے بھائی میاں محمد عطر کلہوڑا کو تخت پر بٹھانے کی درانی کوشش کو روکنے کے لیے فوج تیار کی۔ درانی افواج، احمد شاہ درانی کی طرف سے بھیجی گئیں اور بہادر خان کی قیادت میں، میاں محمد عطر کلہوڑا کو حمایت دیتی تھیں۔ کلہوڑا فوج، میر بہرام خان تالپور کی قیادت میں، نے درانیوں کو شکست دی اور بہادر خان کو میدانِ جنگ میں ہلاک کر دیا۔ یہ کلہوڑا فتح تھی، جس نے درانی پیش قدمی روک دی اور سندھ کی خودمختاری کو برقرار رکھا۔ یہ جنگ سندھی مزاحمت اور کلہوڑا-تالپور اتحاد کی علامت بن گئی۔


برطانوی راج کے دوران، اوباڑو کو تحصیل کا درجہ دیا گیا اور یہاں انتظامی اور ریونیو مجموعہ کے لیے عمارتیں تعمیر کی گئیں۔ یہ ایک چھوٹا مگر خوبصورت دیوار بند شہر تھا، جو سیلابوں سے بچاؤ کے لیے بلند جگہ پر بنایا گیا تھا اور دریائے سندھ کے کئی دروازوں سے رسائی تھی۔ تقسیمِ ہند سے پہلے، یہاں ہندو آبادی اکثریت میں تھی، جو زمیندار اور تاجر تھے اور قریبی علاقوں سے لے کر دور دراز تک کاروبار کرتے تھے۔


1947 کی تقسیم کے بعد، اوباڑو کی آبادیاتی ساخت مکمل طور پر تبدیل ہو گئی۔ ہندوؤں کی ہجرت کے ساتھ ساتھ سندھی، بلوچ، مہاجر اور پنجابی خاندان یہاں آباد ہوئے۔ سیاسی طور پر، ڈہر خاندان کا اثر و رسوخ رہا، جیسے جام بھمبو خان دہر (تقسیم سے پہلے) اور بعد میں جم عبدالرزاق خان، جام منیر احمد، جام ممتاز حسین اور جام مہتاب حسین ڈہر۔ 1864 میں، پانو خان نے دشتی اور شر قبیلوں سمیت 600 مردوں کے ساتھ اوباڑو سے کوٹ سبزل پر حملہ کیا، جس میں دونوں طرف ہلاکتیں ہوئیں۔


1993 میں گھوٹکی ضلع کی تشکیل کے بعد، اوباڑو اس کا حصہ بنا اور آج یہ تعلیمی اداروں، زرعی پیداوار (سبزیاں، پھل) اور شاہراہوں کی اہمیت کے لیے جانا جاتا ہے۔ عوابڑو کی تاریخ سندھ کی قبائلی جدوجہد، سلطنتی مزاحمت اور ثقافتی تنوع کی ایک زندہ تصویر پیش کرتی ہے۔

Agriculture World October 07, 2025
Read more ...

 میرپور ماتھیلو، جو سندھ صوبے کے ضلع گھوٹکی کا صدر مقام ہے، سندھ کی قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ اس کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے اور یہ مختلف سلطنتوں، قبائل اور ثقافتوں کا مرکز رہا ہے۔ شہر کا نام "میرپور ماتھیلو" ممکنہ طور پر مقامی قبائلی سرداروں یا علاقائی خصوصیت سے منسوب ہے، جبکہ اس کی بنیاد اور ابتدائی آبادکاری رائے خاندان کے دور سے جڑی ہوئی ہے۔



قدیم ترین آثارِ قدیمہ کی بنیاد پر، میرپور ماتھیلو کا علاقہ تقریباً 590 عیسوی میں رائے دیش کی سلطنت کے دورِ حکومت میں، رائے سہاسی دوم کے زمانے میں آباد تھا۔ اس دور میں راجہ نند پرمار (راجپوت کاکن ریاست کے) نے اپنی بیٹی مومل کے لیے ایک شاندار محل تعمیر کروایا، جو آج "مومل جی ماری" کے نام سے مشہور آثارِ قدیمہ کی جگہ ہے۔ یہ محل ایک اونچے ٹیلے پر بنایا گیا تھا، جو تقریباً 3 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے، اور اس کی دیواریں پکی اور کچی اینٹوں سے بنی ہوئی تھیں۔ کھدائیوں میں مٹی کے کھلونے، برتنوں کے ٹکڑے اور دیگر اشیاء ملی ہیں، جو علاقے کی ثقافتی ترقی کی عکاسی کرتے ہیں۔ مومل جی ماری کی کہانی سندھی شاعری اور لوک داستانوں میں مشہور ہے، جہاں مومل (ہندو راجپوت خاتون) اور رانا (سوہڑو قبیلے سے تعلق رکھنے والا) کی محبت کی ایک المناک داستان بیان کی جاتی ہے، جو بعض مورخین سومیڑا خاندان (1025-1351 عیسوی) سے جوڑتے ہیں۔ یہ مقام میرپور ماتھیلو سے تقریباً 8 کلومیٹر دور واقع ہے اور سندھ حکومت کی آثارِ قدیمہ محکمہ نے یہاں ایک ثقافتی کمپلیکس بھی تعمیر کیا ہے۔


سومیڑا خاندان کے دور میں (1025-1351 عیسوی)، میرپور ماتھیلو علاقہ سومیڑا حامی قبائل کی آبادکاری کا مرکز بنا۔ سما، سوہڑو، چنا، پنہواڑ، گوجر، بھٹی، جریجہ، تہیم، گہا، تونر، بران، جونجا، راجر، راجپار اور کچھیلیا جیسے قبائل کو یہاں سے واگہ کوٹ تک کی زرعی زمینوں پر آباد کیا گیا۔ یہ قبائل سومیڑا سلطنت کو خراج اور فوجی مدد فراہم کرتے تھے، جبکہ ان کی اندرونی خودمختاری برقرار رہی۔ سومیڑا حکمرانوں نے غزنوی حملہ آوروں (1027-28 عیسوی) اور غوریوں (1176 عیسوی) کے خلاف مزاحمت کی، جس میں میرپور ماتھیلو سے شروع ہونے والی قبائلی سلطنتوں نے اہم کردار ادا کیا۔ یہ علاقہ سندھ کی آزادی کی جدوجہد کا حصہ بنا اور سلطنت کی معاشی اور فوجی طاقت کو مضبوط کیا۔


15ویں صدی عیسوی میں، گوجر راجپوت قبیلے سے تعلق رکھنے والے راجہ نند نے بالائی سندھ پر حکمرانی کی اور میرپور ماتھیلو کو اپنا دارالحکومت بنایا۔ یہ دور علاقے کی مزید ترقی کا باعث بنا، جہاں زراعت اور تجارت کو فروغ ملا۔ بعد میں، ارغون (1520-1650)، کلہوڑا (1657-1783) اور تالپور (1783-1843) خاندانوں کے ادوار میں یہ علاقہ ان کی سلطنتوں کا حصہ رہا۔ برطانوی دور (1843 کے بعد) میں، سندھ کی فتح کے بعد، یہ شکارپور کلیکٹریٹ کا حصہ بنا اور زرعی ترقی کو فروغ دیا گیا۔


1947 کی تقسیمِ ہند کے بعد، میرپور ماتھیلو سکھر ضلع کا حصہ بنا۔ 1993 میں گھوٹکی ضلع کی تشکیل کے ساتھ یہ ضلع کا صدر مقام قرار پایا۔ جدید دور میں، شہر کی ترقی صنعتی انقلاب سے جڑی ہے؛ 2002 میں فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ کا پلانٹ قائم ہونے سے روزگار اور معاشی خوشحالی بڑھی۔ آج یہ پاکستان کا 97واں سب سے بڑا شہر ہے، جہاں آبادی 2017 کی مردم شماری کے مطابق 3 لاکھ 27 ہزار سے زائد ہے، اور معیشت زراعت (گندم، چاول، کاٹن، کیلے، آم اور کھجوریں) پر مبنی ہے۔ شہر میں تاریخی شادانی دربار، سنت سید انوار شاہ (جھنپور شریف) اور سید جلیل شاہ بخاری کی مزار جیسے مذہبی مقامات بھی موجود ہیں، جو صوفیانہ روایات کی عکاسی کرتے ہیں۔


میرپور ماتھیلو کی تاریخ سندھ کی قدیم تہذیبوں، قبائلی مزاحمت اور جدید صنعتی ترقی کی ایک زندہ تصویر پیش کرتی ہے، جو اسے ایک اہم ثقافتی اور تاریخی مرکز بناتی ہے۔

Agriculture World October 07, 2025
Read more ...

 گھوٹکی شہر، جو سندھ صوبے کے شمالی حصے میں واقع ہے، کی تاریخ بہت قدیم اور دلچسپ ہے۔ اس کی بنیاد تقریباً 637 عیسوی میں راجہ ابن سلیم برہمن (راجہ داہر کے رشتہ دار) کے ایک جرنیل نے رکھی، جس نے یہاں ایک فوجی کیمپ قائم کیا۔ اس علاقے کا ابتدائی نام ہتھ سمج رکھا گیا، جو بعد میں مختلف قبائل کے لوگوں کی آبادکاری سے ایک گاؤں میں تبدیل ہو گیا۔ تاہم، 641 عیسوی میں یہ علاقہ خالی ہو گیا اور دیہی رہ گیا۔ 695 عیسوی میں ماہی گیروں نے دوبارہ یہاں آبادکاری کی اور اسے "میانی" کا نام دیا، مگر دریائے سندھ کے راستے بدلنے سے یہ بھی متروک ہو گیا۔



ایک اہم موڑ 712 عیسوی میں آیا جب محمد بن قاسم نے سندھ فتح کیا اور راجہ داہر کو شکست دی۔ اس کے بعد راجہ داہر کے پوتے غوٹ ابن سمد ابن پٹیل (جو ہندو تھے) کو اس علاقے میں آباد ہونے کا حکم دیا گیا۔ غوٹ نے اسلام قبول کر لیا، ایک مسلمان خاتون سے شادی کی، اور ان کے بیٹے تمیر سے غوٹہ قبیلہ وجود میں آیا۔ عرب حکمرانوں نے غوٹہ قبیلے کو جاگر دیے اور اس جگہ کا نام "دھرвали" رکھا، جو ان کے دادا کی یاد میں تھا۔ بعد میں، جیسے جیسے غوٹہ قبیلہ پھیلا، نام "گھوٹکی" ہو گیا، جو غوٹہ کا مطلب رکھتا ہے۔


کلہوڑا دور (1657-1783 عیسوی) میں، حضرت سید مبارک شاہ جیلانی بغدادی (جو بغداد سے آئے تھے) نے گھوٹکی میں آباد ہونے کا فیصلہ کیا، ایک دھریجہ خاندان کی لڑکی سے شادی کی، اور ان کی وجہ سے علاقے کا نام "لوہے صاحبان" ہو گیا۔ ان کی مزار آج بھی ادلپور گاؤں میں موجود ہے اور زائرین کی زیارت گاہ ہے۔ کچھ مورخین، جیسے مرزا کلیچ بیگ، کے مطابق گھوٹکی کی موجودہ بنیاد 1447 عیسوی میں پیر محسن شاہ نے رکھی، جنہوں نے یہاں ایک شاندار مسجد بھی تعمیر کی۔


برطانوی دور میں، 1843 عیسوی میں سندھ کی فتح کے بعد، گھوٹکی شکارپور کلیکٹریٹ کا حصہ بنا۔ برطانویوں نے غوٹہ قبائلی سرداروں کو ان کی وفاداری کے بدلے زرخیز زمینیں عطا کیں، جس سے علاقے کی ترقی ہوئی۔ 1947 کی تقسیم کے وقت گھوٹکی سکھر ضلع کا تحصیل تھا، اور 1993 میں اسے ضلع کا درجہ دیا گیا، جس کا صدر مقام میرپور مٹھیلو ہے۔


گھوٹکی کی تاریخ میں کئی سلطنتوں کا اثر رہا، جیسے سمیڑا (1024-1351)، ارغون (1520-1650)، کلہوڑا اور تالپور (1783-1843)۔ آج یہ شہر کھجور کے باغات، تاریخی مسجد جامع (1732 میں تعمیر شدہ) اور مومل جی ماری جیسے مقامات کے لیے مشہور ہے، جو علاقے کی ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتے ہیں۔

Agriculture World October 07, 2025
Read more ...

  مفتون کورائی: ایک جدید اردو شاعرِ سندھ



سندھ کی سرزمین ہمیشہ سے ادبی خزانوں کی مالک رہی ہے، جہاں سے کئی ایسے شعراء ابھرے ہیں جنہوں نے اپنی شاعری سے کلاسیکی روایات کو جینا سکھایا ہے۔ ان میں سے ایک نام مفتون کورائی کا ہے، جو ضلع گھوٹکی کے ایک نمایاں اردو شاعر ہیں۔ گھوٹکی، جو سندھ کی ثقافتی اور ادبی ورثے کا مرکز ہے، سے تعلق رکھنے والے مفتون کورائی کی شاعری میں کلاسیکی اردو شاعری کی گہرائی اور فلسفیانہ چاشنی جھلکتی ہے۔ خاص طور پر، ان کی اشعار میں مرزا تقی میر کی طرزِ بیان کی جھلک ملتی ہے، جو غم، عشق اور انسانی جذبات کی گہرائیوں کو چھوتا ہے۔


مفتون کورائی کی زندگی کے بارے میں تفصیلی سوانحی معلومات دستیاب نہیں ہیں، جو مقامی ادب کی ایک عام خصوصیت ہے جہاں بہت سے شعراء کی تخلیقات زبانی روایات یا محدود اشاعت تک محدود رہ جاتی ہیں۔ تاہم، دستیاب ذرائع سے پتہ چلتا ہے کہ وہ گھوٹکی کے جدید اردو شعراء میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے ایک صدی سے زائد پرانے کلاسیکی شعراء جیسے مرزا تقی میر اور خواجہ میر درد سے متاثر ہو کر اپنی انفرادی آواز کو آج کے دور میں پیش کیا ہے۔ ان کی شاعری میں طرزِ بیان اور لفظیات میں فرق ہونے کے باوجود، خیالات کی سطح پر کلاسیکی اثرات واضح ہیں۔ یہ اثرات ان کی غزلوں اور آزاد نظموں میں انسانی نفسیات، عشق کی پیچیدگیوں اور سماجی غور و فکر کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔


مفتون کورائی نہ صرف اردو بلکہ سندھی ادب میں بھی سرگرم نظر آتے ہیں۔ سنڌي ادبي ورلڊ ایسوسيئيشن (SAWA) کی تقریبات میں ان کی شرکت اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ وہ مقامی ادبی محفلوں کا اہم حصہ ہیں۔ مثال کے طور پر، 2015 میں SAWA کی ایک مشاعرہ میں انہوں نے اپنی غزل پیش کی، جو سنڌي اور اردو دونوں زبانوں میں ان کی مہارت کو ظاہر کرتی ہے۔ ان کی ایک سنڌی شعری سطر، جو 2013 میں ٹوئٹر پر شیئر کی گئی، اس کی جھلک دکھاتی ہے:  

**"سونھن جو فلسفو پچھو مونکان، حسن جو ہمرکاب آھیان مان"**  

یہ سطر سننے والے فلسفیوں کی طرف مڑنے اور حسن کی ہمرکابی کی یاد کو ایک فلسفیانہ انداز میں بیان کرتی ہے، جو ان کی شاعری کی گہرائی کو اجاگر کرتی ہے۔


گھوٹکی کے شعراء، بشمول مفتون کورائی، کو "کلاسیکی" تو نہیں کہا جا سکتا، لیکن ان کی تخلیقات میں کلاسیکی روایات کی جڑیں مضبوط ہیں۔ مرزا تقی میر کی طرح، مفتون کی شاعری میں غم کی تہہ داری اور عشق کی نفاست ملتی ہے، جو آج کے دور میں بھی تازہ دکھائی دیتی ہے۔ ان کی غزلیں، جو مشاعروں میں سنائی جاتی رہتی ہیں، سنڌ کی مقامی ثقافت کو اردو کی کلاسیکی دنیا سے جوڑتی ہیں۔ بدقسمتی سے، ان کی مکمل دیوان یا مجموعہ کلام ابھی تک شائع نہ ہونے کی وجہ سے ان کی شاعری محدود حلقوں تک ہی پہنچ سکی ہے، لیکن مقامی ادبی جرائد جیسے "گمن" میں ان کا ذکر ان کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔


آخر میں، مفتون کورائی جیسے شعراء سندھ کی ادبی روایات کو زندہ رکھنے کا ذریعہ ہیں۔ ان کی شاعری ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کلاسیکی اثرات کو جدید سیاق میں ڈھالنا ہی اصل فن ہے۔ امید ہے کہ مستقبل میں ان کی تخلیقات کو مزید اجاگر کیا جائے گا تاکہ گھوٹکی کا یہ ادبی جوہر وسیع حلقوں تک پہنچ سکے۔

Agriculture World October 07, 2025
Read more ...

 مولانا عبدالرحمن ضیائی پتافی: سندھ کے عظیم عالم اور شاعر



مولانا عبدالرحمن ضیائی پتافی، جنہیں حضرت مولانا عبدالرحمٰن ضیائی پتافی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، سندھ کی مذہبی اور ادبی دنیا کی ایک تابندہ ستارہ تھی۔ وہ ایک جید عالم دین، استاد الشعراء (شاعری کے استاد) اور صوفی تھے، جن کی خدمات نے سندھ کے علاقائی علم و ادب کو تقویت دی۔ ان کا تعلق ضلع گھوٹکی، تحصیل میرپور ماتھیلو سے تھا، جہاں ان کا خاندان نسلوں سے علم و فقہ کی روایت نبھاتا رہا ہے۔ مولانا ضیائی کی زندگی ایک مثال ہے کہ کس طرح ایک سادہ ماحول میں پیدا ہو کر بھی انسان بلند مقام حاصل کر سکتا ہے۔


ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر


حضرت مولانا عبدالرحمٰن ضیائی پتافی کا جنم صفر المظفر 1318 ہجری (تقریباً 1900ء عیسوی) میں تحصیل میرپور ماتھیلو، ضلع گھوٹکی، سندھ میں ہوا۔ ان کے والد ماجد، حضرت علامہ بہاء الدین "بھائی" پتافی، خود ایک مشہور عالم دین اور صوفی تھے، جن کی تربیت اور پرورش نے مولانا ضیائی کی شخصیت کو سنوارا۔ خاندان پتافی سندھ کی صوفیانہ روایات کا حامل تھا، اور یہ گھرانہ علم و تصوف کا مرکز رہا۔ مولانا ضیائی کی پرورش اسی مذہبی اور ادبی ماحول میں ہوئی، جہاں قرآن و حدیث کی تعلیمات اور شاعری کی روایات گھر گھر پھیلی ہوئی تھیں۔


تعلیم و تربیت


مولانا عبدالرحمٰن ضیائی کی تعلیم و تربیت بالکل اپنے والد ماجد کی نگرانی اور سرپرستی میں ہوئی۔ انہوں نے ابتدائی علومِ اسلامیہ، فقہ، حدیث اور تصوف کی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی، جو خود ایک عظیم استاد تھے۔ بعد میں انہوں نے مختلف علوم میں مہارت حاصل کی، خاص طور پر شاعری اور ادب میں، جس کی وجہ سے انہیں "استاد الشعراء" کا لقب ملا۔ سندھ کی روایتی تعلیمی نظام کے تحت ان کی تعلیم مکمل ہوئی، جو علاقائی مدرسوں اور خاندانی روایات پر مبنی تھی۔ ان کی تعلیم نہ صرف دینی علوم تک محدود رہی بلکہ فارسی اور سندھی ادب میں بھی ان کی گرفت مضبوط تھی۔


علمی اور ادبی خدمات


مولانا ضیائی کی زندگی کا بڑا حصہ درس و تدریس میں گزرا۔ وہ ایک کامیاب استاد تھے، جنہوں نے کئی شاگردوں کو دینی و ادبی علوم کی تربیت دی۔ ان کی تدریس کا دائرہ سندھ کے مقامی علاقوں تک پھیلا ہوا تھا، جہاں وہ قرآن، حدیث اور تصوف کی تعلیمات پھیلاتے رہے۔ ادبی میدان میں ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں؛ وہ ایک ممتاز شاعر تھے، جن کی شاعری میں صوفیانہ رنگ نمایاں تھا۔ ان کی شاعری سندھی اور فارسی میں تھی، جو روحانی بیداری اور اخلاقی اقدار پر مبنی تھی۔


ان کی تصانیف میں سب سے مشہور کتاب "سفر حرمین شریفین" ہے، جو حج اور عمرہ کی یادداشتوں پر مشتمل ہے اور سندھی ادب کا قیمتی اضافہ ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے فارسی اور سندھی میں کئی دیگر کتابیں تصنیف کیں، جو دینی موضوعات اور شاعری پر تھیں۔ ان کی تحریروں نے سندھ کی لوکل ادبی روایات کو تقویت دی اور نئی نسل کو متاثر کیا۔


ورثہ اور وفات


مولانا عبدالرحمٰن ضیائی نے ہجری اعتبار سے 79 سال کی عمر پائی۔ ان کی وفات 28 صفر المظفر 1397 ہجری (تقریباً 1977ء عیسوی) کو ہوئی، اور انہیں اپنے والد کے روضہ مبارک میں دفن کیا گیا، جو تحصیل میرپور ماتھیلو میں واقع ہے۔ یہ روضہ آج بھی زائرین کا مرکز ہے اور روحانی فیض کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کی وفات کے 50 سال بعد بھی (یعنی تقریباً 2027ء تک) ان کی یاد تازہ کی جاتی رہی، اور آج بھی سندھ کے ادبی و مذہبی حلقوں میں ان کا ذکر ہوتا ہے۔

Agriculture World October 07, 2025
Read more ...

  دادا سندھی: سندھ کے مشہور مورخ اور ادیب



دادا سندھی سندھ کی تاریخ اور ادب کی دنیا میں ایک اہم نام ہے، جنہوں نے اپنی مختصر مگر پرجوش زندگی میں سندھ کی ماضی کو قلم بند کرکے نئی نسلوں تک پہنچایا۔ اصل نام کریم بخش سومرو، دادا سندھی کے پاس نہ صرف تاریخی تحقیق کا خزانہ تھا، بلکہ سندھی زبان کی خدمت میں بھی ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ وہ ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے سندھ کی ثقافتی ورثے کو محفوظ کرنے کے لیے اپنی ساری عمر وقف کردی، اور آج بھی ان کی کتابیں سندھیوں کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔


 ابتدائی زندگی کا منظر


دادا سندھی کا جنم 5 جولائی 1945ء کو سندھ کے ضلع گھوٹکی، تحصیل ڈہرکی کے چھوٹے سے گاؤں داد لغاری میں ہوا۔ ان کے والد محمد قاسم سومرو تھے، اور وہ سومرو قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ سندھ کے روایتی ماحول میں پلے بڑھے، دادا سندھی نے بچپن سے ہی سندھ کی تاریخی کہانیوں اور لوک داستانیں سے دلچسپی رکھی۔ ان کا گاؤں داد لغاری، جو میرپور ماثیلو کے قریب واقع ہے، سندھ کی وادی کے بیچ ایک سادہ مگر ثقافتی وار کا مرکز تھا، جہاں تاریخ کی خوشبوئیں ہواؤں کے ساتھ گھومتی آتی تھیں۔


 تعلیمی سفر


دادا سندھی کی تعلیمی راہ سندھ کے عام سندھی بچوں کی طرح شروع ہوئی، مگر ان کی لگن کی وجہ سے وہ تعلیم کی ہر منزل پر ممتاز رہے۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں داد لغاری کے پرائمری سکول سے حاصل کی، جہاں سندھی زبان کی بنیاد رکھی۔ سیکنڈری تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول میرپور ماثیلو سے مکمل کی، جہاں وہ طالب علم کی بہترین مثال بنے۔ انٹرمیڈیٹ (انٹر) کی تعلیم گورنمنٹ اسلامیہ آرٹس کالج سکر سے حاصل کی، اور پھر بی اے (بی اے) اور ماسٹرز (ایم اے) کی ڈگریاں سندھ یونیورسٹی جامعہ سے حاصل کیں۔ ان کی ایم اے کا مضمون سوشیالوجی تھا، جو بعد میں ان کی تاریخی تحقیقوں میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔


 پیشہ ور اور ادبی شروعات


پیشہ طور پر دادا سندھی ایک استاد تھے، مگر ان کا دل تاریخ کے صفحوں میں گھومتا تھا۔ انہوں نے اپنے لکھنے کی شروعات 1963ء میں کی، جبکہ وہ نوجوان تھے۔ تاریخی ادب کا شوق انہیں مشہور سندھی عالم رحیم داد خان مولائی شیڈائی سے ملاقات کے بعد ہوا۔ ان کا پہلا تاریخی مضمون ون یونٹ کے دور میں ون یونٹ کے خلاف لکھا گیا، جو سندھ کی خودمختاری کی تحریک کا عکاس تھا۔ 1990ء سے 1991ء تک، انہوں نے ریڈیو پاکستان خیرپور کے لیے سندھ کی تاریخ پر ریڈیو اسکرپٹس لکھیں، جو بعد میں کتابوں کی شکل میں جمع ہوئیں۔


دادا سندھی کی خدمات کا بڑا حصہ سندھ کی تاریخ کو عام فہم بنانے میں ہے۔ وہ نہ صرف لکھتے تھے، بلکہ تدریس کے ذریعے بھی نئی نسل کو سندھ کی ماضی سے جوڑتے تھے۔


ادبی خدمات: کتابوں کا خزانہ


دادا سندھی کی 52 سالہ مختصر زندگی میں، انہوں نے سندھ کی تاریخ اور ادب پر 15 چھپی ہوئی اور 25 ناچھپی کتابیں لکھیں۔ ان کی چھپی کتابوں میں شامل ہیں:


- **ڈئی ڈنبھ ڈڈن**

- **سندھ کی تاریخی کہانیاں**

- **پرانے سندھیوں کا پرائے واپار**

- **سندھیوں کی فوجی مہارت**

- **1857 کی جنگ آزادی اور سندھ**

- **سندھ کے علماء کے سنہری کارنامے**

- **تاریخی لوگ تاریخی باتیں**

- **سندیکا سندھی گرامر**


ناچھپی کتابوں میں **آزادی کی تحریکیں اور سندھ**، **سندھ کے صوفی شاعر**، **وری سی وطن جائیں (سندھ کی عظیم عورتیں)**، **سندھ کے بندر اور بازار**، **سندھ کے قلعے**، **سندھ کے قدیم درسی گاہیں**، اور دیگر شامل ہیں۔ ان کا لکھنا نہ صرف تحقیقی تھا، بلکہ عام سندھی قاری کے لیے سادہ اور دلچسپ بھی۔


 ایوارڈز اور سدا بہار


دادا سندھی کی ادبی خدمات کے عوض انہیں مختلف اداروں کی طرف سے ایوارڈز ملے، جن میں **سندھی سنگت ایوارڈ**، **سندھالوجی ایوارڈ**، **آل سندھ بچوں ایوارڈ**، اور **سندھی قلم ایوارڈ** شامل ہیں۔ مگر افسوس، ان کی وفات کے بعد حکومت یا ادبی اداروں کی طرف سے ان کی ناچھپی کتابوں کی اشاعت کے لیے کوئی خاص قدم نہ اٹھایا گیا، جو سندھی ادب کے لیے ایک نقصان ہے۔


 ورثہ اور وفات


دادا سندھی ایک سچا محب وطن تھے، جنہوں نے اپنے قلم سے سندھ کی عزت کو ہمیشہ سربلند رکھا۔ وہ 11 جنوری 1998ء کو دل کی ناکامی سے وفات پاگئے، مگر ان کے لکھے ہوئے الفاظ آج بھی زندہ ہیں۔ ان کی ورسی پر آج بھی سندھی ادبی حلقوں میں یاد کیا جاتا ہے، مگر مزید پروگراموں کی ضرورت ہے تاکہ ان کے کام کو نئی نسل تک پہنچایا جائے۔


دادا سندھی کی زندگی کا سبق یہ ہے کہ تاریخ نہ صرف ماضی کے صفحے ہیں، بلکہ مستقبل کے لیے ہاتھ میں مشعل بھی۔ سندھ کو ایسی شخصیات پر فخر ہے، اور امید ہے کہ ان کی ناچھپی کتابیں جلد روشنی کا روپ دھار کر سب کو مل جائیں گی۔

Agriculture World October 07, 2025
Read more ...

Facebook