خانقاہ عالیہ بھرچونڈی شریف: ایک روحانی و تاریخی مرکز
تعارف
خانقاہ عالیہ بھرچونڈی شریف، جو درگاہ بھرچونڈی شریف کے نام سے بھی مشہور ہے، سندھ صوبے کے ضلع گھوٹکی میں ڈہرکی ریلوے اسٹیشن سے تقریباً 8 کلومیٹر دور واقع ایک عظیم روحانی مرکز ہے۔ یہ خانقاہ قادریہ سلسلہ سے تعلق رکھتی ہے اور صوفیانہ روایات کا ایک اہم ستون سمجھی جاتی ہے۔ اس کی بنیاد 1260 ہجری (1844 عیسوی) میں رکھی گئی تھی، اور یہ نہ صرف مذہبی تعلیم و تربیت کا مرکز ہے بلکہ قومی تحریک آزادی میں بھی کلیدی کردار ادا کر چکی ہے۔ آج یہ ہزاروں مریدوں اور زائرین کا مرکز ہے، جہاں لوگ روحانی سکون اور اخلاقی تربیت کی تلاش میں آتے ہیں۔
تاریخ اور بنیاد
خانقاہ عالیہ بھرچونڈی شریف کی بنیاد برطانوی نوآبادیاتی دور میں رکھی گئی، جب مسلمانوں کی مذہبی اور سیاسی بیداری کی ضرورت شدت اختیار کر چکی تھی۔ یہ خانقاہ وادی مہران (سندھ) میں تطہیر فکرو عمل اور سیرت کی تعمیر کی نیت سے قائم کی گئی۔ برطانوی سلطنت کے دور میں خانقاہوں اور مدرسوں پر سخت نظر رکھی جاتی تھی، اور کسی بھی انقلابی سرگرمی کو کچلا جاتا تھا۔ اس کے باوجود، یہ مرکز روحانی سکون اور سیاسی بیداری کا ذریعہ بن گیا۔
خانقاہ کی بنیاد کے دو اہم مقاصد تھے: سنت نبوی ﷺ کی پیروی اور اعمال کی اصلاح، اور مسلمان قوم کو برطانوی غلامی سے آزاد کرانا۔ مختصر عرصے میں اس نے سندھ اور جنوبی پنجاب میں بستی بستی مدارس کا جال بچھا دیا، اور ہزاروں غیر مسلموں نے اسلام قبول کیا۔ یہ خانقاہ برطانوی دور کی "رشمی رومال تحریک" (Silk Handkerchief Movement) کی نگرانی بھی کرتی رہی، جو آزادی کی ایک خفیہ تحریک تھی۔
بانی کی سوانح حیات
خانقاہ عالیہ بھرچونڈی شریف کے بانی حافظ الملت حافظ محمد صدیق قادری تھے، جن کی پیدائش 1816ء میں ہوئی۔ آپ کا نسب غوث الاعظم شيخ عبد القادر جيلانی رحمۃ اللہ علیہ سے ملتا ہے، جو قادریہ سلسلہ کے بانی ہیں۔ حافظ محمد صدیق کی سادگی، اخلاص، نرم گفتار، اثر انگیز خطاب اور دلکش شخصیت نے وادی مہران اور بلوچستان کے علاقوں کے لوگوں کو متوجہ کر لیا۔ آپ نے 1259 ہجری میں خانقاہ کے ساتھ مسجد اور درسگاہ کی بنیاد رکھی، اور جلد ہی 300,000 سے زائد مرید جمع ہو گئے۔
آپ کی دعوتِ اسلام کی ایک مشہور مثال مولانا عبید اللہ سنڌی ہے، جو 16 سالہ سکھ نوجوان تھے اور اپنی برادری میں معزز شخصیت رکھتے تھے۔ انہوں نے حافظ محمد صدیق کے ہاتھ پر بیعت کی اور اسلام قبول کیا۔ مولانا سنڌی نے بعد میں حافظ صاحب کو اپنا روحانی والد قرار دیا اور سندھ کو اپنا مستقل وطن کہا۔ حافظ محمد صدیق نے نہ صرف مذہبی بلکہ قومی سطح پر بھی خدمات انجام دیں، اور آپ کی وفات کے بعد بھی ان کی یاد زندہ ہے۔
جانشینان اور تسلسل
حافظ محمد صدیق کے انتقال کے بعد سلسلہِ خلافت جاری رہا۔ پہلے جانشین مجاہد اعظم شیخ ثالث حضرت پیر عبد الرحمن تھے، جنہوں نے برطانوی دور کی سختیوں کے باوجود کام جاری رکھا۔ ان کے دور میں اسلام قبول کرنے کے لیے برطانوی اجازت نامہ درکار تھا، مگر وہ اس کی خلاف ورزی کرتے رہے۔ ہندوؤں کی طرف سے ان کے بڑے بیٹے پر قتل کی کوشش کی گئی، مگر انہوں نے برطانوی قانون کے تحت مقدمہ نہ درج کروایا اور اسلامی اصولوں کو ترجیح دی۔ پیر عبد الرحمن نے پاکستان تحریک میں فعال کردار ادا کیا، سندھ کو بمبئی سے الگ کرنے اور پاکستان میں شمولیت کی جدوجہد کی۔
دوسرے جانشین پیر عبد الرحیم شہید تھے، جنہوں نے 1965ء اور 1970ء کی پاک بھارت جنگوں میں راجستھان فرنٹ پر ہزاروں مریدوں کے ساتھ جہاد کیا۔ موجودہ سجادہ نشین پیر میاں عبد الخالق قادری ہیں، جو اپنے آباؤ اجداد کی راہ پر چل رہے ہیں۔ ان کی نگرانی میں سندھ میں 200 سے زائد دینی مدارس قائم ہیں، جہاں قرآن کی تعلیم اور شعور کی روشنی پھیلائی جاتی ہے۔
دینی اور ملی خدمات
خانقاہ عالیہ بھرچونڈی شریف نے دینی سطح پر تزکیہ نفس، اخلاقی تربیت اور جہاد کی تعلیم دی، جبکہ ملی سطح پر آزادی تحریک کے رہنماؤں کو جنم دیا، جیسے مولانا تاج محمود امروتی، خلیفہ غلام محمد دینپوری اور مولانا عبید اللہ سنڌی۔ یہ مرکز برطانویوں کو مجبور کرنے میں کامیاب ہوا کہ وہ ہندوستان سے نکل جائیں۔
آج بھی یہ خانقاہ اللہ کی یاد اور سنت کی پیروی پر زور دیتی ہے، اور سندھ میں اسلام کی تبلیغ کا اہم ذریعہ ہے۔ بانی کی تعلیمات کے مطابق، یہاں مریدوں کو مسلسل ذکرِ الٰہی کی ترغیب دی جاتی ہے۔
عمارت اور سہولیات
خانقاہ کی عمارت مسجد اور درگاہ کا مجموعہ ہے، جس میں ایک گنبد موجود ہے۔ یہ روایتی صوفیانہ طرز تعمیر کی مثال ہے، جو سندھ کی مقامی ثقافت سے متاثر ہے۔ خانقاہ میں درسگاہ، مسجد اور قبرستان شامل ہیں، جہاں زائرین کے لیے قیام گاہ اور لنگر خانہ بھی ہے۔ تفصیلی معماری کی معلومات محدود ہیں، مگر یہ ایک سادہ مگر پر کشش ڈھانچہ ہے جو روحانی سکون کی علامت ہے۔
سالانہ تقریبات
خانقاہ میں بانی حافظ محمد صدیق قادری کا عرس سالانہ منایا جاتا ہے، جو ہزاروں زائرین کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ عرس کے دوران قوالی، محافلِ ذکر اور دعائیں کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ، رمضان المبارک میں خصوصی تقریبات اور ہفتہ وار محافلِ ذکر منعقد ہوتی ہیں۔ یہ تقریبات صوفیانہ روایات کو زندہ رکھتی ہیں۔ (نوٹ: مخصوص تاریخوں کی تفصیلات دستیاب ذرائع میں نہیں ملیں، مگر روایتی طور پر عرس ربیع الثانی میں ہوتا ہے۔)
جدید کردار اور تنازعات
آج خانقاہ اسلامی تحقیق اور تعلیم کا مرکز ہے، جہاں سندھ میں دینی مدارس کا وسیع نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ تاہم، اس پر اقلیتوں، خاص طور پر ہندو لڑکیوں کی مبینہ جبری تبدیلی مذہب کے الزامات بھی لگے ہیں۔ 2014 سے 2017 تک 150 سے زائد ایسے کیسز رپورٹ ہوئے، اور پیر میاں عبد الحق (میاں مٹھو) پر 117 نابالغ لڑکیوں کی تبدیلی مذہب کا الزام ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں جیسے ہائی کمشن برائے انسانی حقوق پاکستان اور اقوام متحدہ اس کی تحقیقات کا مطالبہ کرتی رہیں۔ خانقاہ کے حامی ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور اسے سیاسی سازش قرار دیتے ہیں۔
یہ تنازعات علیحدہ رکھتے ہوئے، خانقاہ کی تاریخی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، جو سندھ کی مذہبی اور قومی تاریخ کا حصہ ہیں۔
اختتام
خانقاہ عالیہ بھرچونڈی شریف ایک زندہ تاریخ ہے جو صوفیانہ محبت، جہادِ نفس اور قومی بیداری کی داستان سناتی ہے۔ بانی حافظ محمد صدیق قادری کی تعلیمات آج بھی لاکھوں لوگوں کی رہنمائی کر رہی ہیں۔ یہ مرکز نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کی روحانی ورثہ کا عظیم ستون ہے، جو امن، محبت اور اتحاد کی تلقین کرتا ہے۔ زائرین کو مشورہ ہے کہ وہ اس مقدس جگہ کا دورہ کریں اور اس کی پاکیزگی سے مستفید ہوں۔







.jpeg)
.jpeg)






.webp)



