مولانا عبدالرحمن ضیائی پتافی: سندھ کے عظیم عالم اور شاعر
مولانا عبدالرحمن ضیائی پتافی، جنہیں حضرت مولانا عبدالرحمٰن ضیائی پتافی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، سندھ کی مذہبی اور ادبی دنیا کی ایک تابندہ ستارہ تھی۔ وہ ایک جید عالم دین، استاد الشعراء (شاعری کے استاد) اور صوفی تھے، جن کی خدمات نے سندھ کے علاقائی علم و ادب کو تقویت دی۔ ان کا تعلق ضلع گھوٹکی، تحصیل میرپور ماتھیلو سے تھا، جہاں ان کا خاندان نسلوں سے علم و فقہ کی روایت نبھاتا رہا ہے۔ مولانا ضیائی کی زندگی ایک مثال ہے کہ کس طرح ایک سادہ ماحول میں پیدا ہو کر بھی انسان بلند مقام حاصل کر سکتا ہے۔
ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر
حضرت مولانا عبدالرحمٰن ضیائی پتافی کا جنم صفر المظفر 1318 ہجری (تقریباً 1900ء عیسوی) میں تحصیل میرپور ماتھیلو، ضلع گھوٹکی، سندھ میں ہوا۔ ان کے والد ماجد، حضرت علامہ بہاء الدین "بھائی" پتافی، خود ایک مشہور عالم دین اور صوفی تھے، جن کی تربیت اور پرورش نے مولانا ضیائی کی شخصیت کو سنوارا۔ خاندان پتافی سندھ کی صوفیانہ روایات کا حامل تھا، اور یہ گھرانہ علم و تصوف کا مرکز رہا۔ مولانا ضیائی کی پرورش اسی مذہبی اور ادبی ماحول میں ہوئی، جہاں قرآن و حدیث کی تعلیمات اور شاعری کی روایات گھر گھر پھیلی ہوئی تھیں۔
تعلیم و تربیت
مولانا عبدالرحمٰن ضیائی کی تعلیم و تربیت بالکل اپنے والد ماجد کی نگرانی اور سرپرستی میں ہوئی۔ انہوں نے ابتدائی علومِ اسلامیہ، فقہ، حدیث اور تصوف کی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی، جو خود ایک عظیم استاد تھے۔ بعد میں انہوں نے مختلف علوم میں مہارت حاصل کی، خاص طور پر شاعری اور ادب میں، جس کی وجہ سے انہیں "استاد الشعراء" کا لقب ملا۔ سندھ کی روایتی تعلیمی نظام کے تحت ان کی تعلیم مکمل ہوئی، جو علاقائی مدرسوں اور خاندانی روایات پر مبنی تھی۔ ان کی تعلیم نہ صرف دینی علوم تک محدود رہی بلکہ فارسی اور سندھی ادب میں بھی ان کی گرفت مضبوط تھی۔
علمی اور ادبی خدمات
مولانا ضیائی کی زندگی کا بڑا حصہ درس و تدریس میں گزرا۔ وہ ایک کامیاب استاد تھے، جنہوں نے کئی شاگردوں کو دینی و ادبی علوم کی تربیت دی۔ ان کی تدریس کا دائرہ سندھ کے مقامی علاقوں تک پھیلا ہوا تھا، جہاں وہ قرآن، حدیث اور تصوف کی تعلیمات پھیلاتے رہے۔ ادبی میدان میں ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں؛ وہ ایک ممتاز شاعر تھے، جن کی شاعری میں صوفیانہ رنگ نمایاں تھا۔ ان کی شاعری سندھی اور فارسی میں تھی، جو روحانی بیداری اور اخلاقی اقدار پر مبنی تھی۔
ان کی تصانیف میں سب سے مشہور کتاب "سفر حرمین شریفین" ہے، جو حج اور عمرہ کی یادداشتوں پر مشتمل ہے اور سندھی ادب کا قیمتی اضافہ ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے فارسی اور سندھی میں کئی دیگر کتابیں تصنیف کیں، جو دینی موضوعات اور شاعری پر تھیں۔ ان کی تحریروں نے سندھ کی لوکل ادبی روایات کو تقویت دی اور نئی نسل کو متاثر کیا۔
ورثہ اور وفات
مولانا عبدالرحمٰن ضیائی نے ہجری اعتبار سے 79 سال کی عمر پائی۔ ان کی وفات 28 صفر المظفر 1397 ہجری (تقریباً 1977ء عیسوی) کو ہوئی، اور انہیں اپنے والد کے روضہ مبارک میں دفن کیا گیا، جو تحصیل میرپور ماتھیلو میں واقع ہے۔ یہ روضہ آج بھی زائرین کا مرکز ہے اور روحانی فیض کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کی وفات کے 50 سال بعد بھی (یعنی تقریباً 2027ء تک) ان کی یاد تازہ کی جاتی رہی، اور آج بھی سندھ کے ادبی و مذہبی حلقوں میں ان کا ذکر ہوتا ہے۔


No comments: