_seo-verification:4bc3407b9d3078c330cf0aa334995f0243b21d6b2d88f58788cb69b389c4db9f اوباڑو شہر کا تاریخی جائزہ - Apna Ghotki

اوباڑو شہر کا تاریخی جائزہ

 اوباڑو، جو سندھ صوبے کے ضلع گھوٹکی کا ایک اہم تحصیل (تعلقہ) اور شہر ہے، کی تاریخ صدیوں پرانی ہے اور یہ مختلف سلطنتوں، قبائلی تنازعات اور ثقافتی تبدیلیوں کا گواہ رہا ہے۔ یہ شہر دریائے سندھ کے قریب واقع ہے اور زرخیز زمینوں سے گھرا ہوا ہے، جو اس کی معاشی اور فوجی اہمیت کو بڑھاتا ہے۔



مغل دور میں، اوباڑو کو "آئینِ اکبری" میں سرحدِ ملتان کے تحت ایک پیرگنہ کے طور پر درج کیا گیا تھا، جو 915,256 dams کی آمدنی دیتا تھا اور 30 سوار اور 500 پیدل فوجی فراہم کرتا تھا۔ اس دور میں، ملتان سرحد کی جنوبی حد اباڑو کے قریب تھی، جو اس کی انتظامی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ 18ویں صدی میں، یہاں باغی بلوچ قبائل کی آبادکاری ہوئی، جو علاقے کی قبائلی تاریخ کا حصہ بنے۔


ایک اہم تاریخی واقعہ 1759 عیسوی میں "جنگِ اوباڑو" تھا، جو کلہوڑا خاندان اور درانی سلطنت کے درمیان لڑی گئی۔ یہ جنگ سندھ کے تخت کی succession کے لیے تھی، جہاں کلہوڑا حکمران میاں غلام شاہ کلہوڑا نے اپنے بھائی میاں محمد عطر کلہوڑا کو تخت پر بٹھانے کی درانی کوشش کو روکنے کے لیے فوج تیار کی۔ درانی افواج، احمد شاہ درانی کی طرف سے بھیجی گئیں اور بہادر خان کی قیادت میں، میاں محمد عطر کلہوڑا کو حمایت دیتی تھیں۔ کلہوڑا فوج، میر بہرام خان تالپور کی قیادت میں، نے درانیوں کو شکست دی اور بہادر خان کو میدانِ جنگ میں ہلاک کر دیا۔ یہ کلہوڑا فتح تھی، جس نے درانی پیش قدمی روک دی اور سندھ کی خودمختاری کو برقرار رکھا۔ یہ جنگ سندھی مزاحمت اور کلہوڑا-تالپور اتحاد کی علامت بن گئی۔


برطانوی راج کے دوران، اوباڑو کو تحصیل کا درجہ دیا گیا اور یہاں انتظامی اور ریونیو مجموعہ کے لیے عمارتیں تعمیر کی گئیں۔ یہ ایک چھوٹا مگر خوبصورت دیوار بند شہر تھا، جو سیلابوں سے بچاؤ کے لیے بلند جگہ پر بنایا گیا تھا اور دریائے سندھ کے کئی دروازوں سے رسائی تھی۔ تقسیمِ ہند سے پہلے، یہاں ہندو آبادی اکثریت میں تھی، جو زمیندار اور تاجر تھے اور قریبی علاقوں سے لے کر دور دراز تک کاروبار کرتے تھے۔


1947 کی تقسیم کے بعد، اوباڑو کی آبادیاتی ساخت مکمل طور پر تبدیل ہو گئی۔ ہندوؤں کی ہجرت کے ساتھ ساتھ سندھی، بلوچ، مہاجر اور پنجابی خاندان یہاں آباد ہوئے۔ سیاسی طور پر، ڈہر خاندان کا اثر و رسوخ رہا، جیسے جام بھمبو خان دہر (تقسیم سے پہلے) اور بعد میں جم عبدالرزاق خان، جام منیر احمد، جام ممتاز حسین اور جام مہتاب حسین ڈہر۔ 1864 میں، پانو خان نے دشتی اور شر قبیلوں سمیت 600 مردوں کے ساتھ اوباڑو سے کوٹ سبزل پر حملہ کیا، جس میں دونوں طرف ہلاکتیں ہوئیں۔


1993 میں گھوٹکی ضلع کی تشکیل کے بعد، اوباڑو اس کا حصہ بنا اور آج یہ تعلیمی اداروں، زرعی پیداوار (سبزیاں، پھل) اور شاہراہوں کی اہمیت کے لیے جانا جاتا ہے۔ عوابڑو کی تاریخ سندھ کی قبائلی جدوجہد، سلطنتی مزاحمت اور ثقافتی تنوع کی ایک زندہ تصویر پیش کرتی ہے۔

No comments:

Facebook