سندھ کی سرزمین، جو ہمیشہ سے مذاہب کی ہم آہنگی اور انسانی ہمدردی کی علامت رہی ہے، اس کی حفاظت اور فروغ کے لیے کئی ایسے ہیروز نے کام کیا ہے جو خاموشی سے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک نمایاں نام رئوف پارس دائیو کا ہے، جو گھوٹکی، سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک ممتاز سماجی کارکن، انسانی حقوق کے دفاع کرنے والے، شاعر اور کاروباری شخصیت ہیں۔ 1964ء میں گھوٹکی میں پیدا ہونے والے رئوف پارس دائیو نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ سندھ کی سماجی مسائل کے حل اور بین المذاہب ہم آہنگی کو وقف کر دیا ہے۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم
رئوف پارس دائیو کی ابتدائی تعلیم گھوٹکی کے ڈگری کالج سے حاصل کی، جبکہ اعلیٰ تعلیم آغا بی ڈی لا کالج سکھر سے مکمل کی۔ ان کی تعلیم نے انہیں نہ صرف قانونی علوم کی سمجھ دی بلکہ سماجی مسائل کی گہری بصیرت بھی عطا کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے سکھر ضلع میں کاروبار شروع کیا اور ایس ای پی سیو جیسی اداروں سے وابستہ رہے۔ تاہم، ان کی دلچسپی ہمیشہ سے ادب اور سماجی کاموں میں رہی، جو ان کی شاعری میں بھی جھلکتی ہے۔ سندھی ادب کے حلقوں میں انہیں ایک حساس شاعر کے طور پر جانا جاتا ہے، جو انسانی جذبات اور سماجی انصاف کی بات کرتے ہیں۔
سماجی اور انسانی حقوق کی جدوجہد
رئوف پارس دائیو کی اصل شناخت ان کی سماجی سرگرمیوں سے ہے۔ وہ راوداری تحریک پاکستان کے سندھ صوبائی باب کے صدر ہیں، جو بین المذاہب رواداری اور امن کی ترویج کے لیے کام کرتی ہے۔ ان کی یہ تحریک سندھ کی متنوع مذہبی اور ثقافتی ساخت کو مدنظر رکھتے ہوئے کام کرتی ہے، جہاں مسلمان، ہندو، عیسائی اور سکھ ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی سے رہتے ہیں۔
ان کی سرگرمیاں انسانی حقوق کی حفاظت تک پھیلی ہوئی ہیں۔ مثال کے طور پر، سکھر پریس کلب کے باہر منعقد ہونے والے بھوک ہڑتال کے کیمپ کا دورہ کرتے ہوئے انہوں نے گمشدہ افراد کے خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ یہ ہڑتال وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ کی جانب سے منعقد کی گئی تھی، جس کا مقصد 160 سے زائد لاپتہ افراد کی بازیابی تھا۔ ایک سینئر کارکن اور ادبی شخصیت کے طور پر، انہوں نے وکلاء کی ایک ٹیم کے ساتھ مل کر اس جدوجہد کی حمایت کی۔
بین المذاہب ہم آہنگی کی کوششیں
رئوف پارس دائیو کی بین المذاہب ہم آہنگی کی طرف دلچسپی ان کی اقوام متحدہ کی ورلڈ انٹر فیث ہارمونی ویک میں شرکت سے ظاہر ہوتی ہے۔ 2015ء اور 2016ء میں انہوں نے اس عالمی مہم کے لیے رپورٹس جمع کرائیں، جو مذاہب کے درمیان اتحاد کی اہمیت پر زور دیتی تھیں۔ 2017ء میں ڈی آئی وائی اے (ایمپاور دی یوتھ تھرو ایجوکیشن) کی جانب سے گھوٹکی میں منعقدہ ایک دو روزہ امن و رواداری ورکشاپ اور ڈائلاگ میں وہ مہمان سخنور کے طور پر شریک ہوئے۔ اس تقریب کا موضوع "مذاہب میں اتحاد امن لا سکتا ہے" تھا، جس میں مختلف مذاہب کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ مذاہب سیکھنے اور انسانیت کے ذرائع ہیں، جو اندرونی اطمینان اور امن کی طرف لے جاتے ہیں۔ سندھی لوگ مذاہب کے اچھے پیروکار ہیں اور سندھ کو "باب الاسلام" کہا جاتا ہے۔ انہوں نے شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھٹائی کے دور میں بھی انتہا پسندی موجود تھی، جب لوگوں کو زبردستی اسلام قبول کروایا جاتا تھا، لیکن بھٹائی کی لبرل اور صوفیانہ تعلیمات نے ہندوستان اور اسلام دونوں کی ترویج کی۔ ان کا پیغام تھا کہ مذاہب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ان کی ہم آہنگی ہی پرامن معاشرے کی بنیاد ہے۔
تاریخی ورثے اور سماجی خدمات کی حفاظت
رئوف پارس دائیو کی سرگرمیاں ثقافتی ورثے کی حفاظت تک پھیلی ہوئی ہیں۔ 2010ء میں انہوں نے گھوٹکی کی تاریخی جامع مسجد کی حفاظت کے لیے آواز اٹھائی، جو 1732ء میں کلہوڑو خاندان کے دور میں حضرت پیر سید غوث موسیٰ شاہ جیلانی گھوٹکی نے تعمیر کروائی تھی۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی بھی اس مسجد کے بارے میں کئی بار آئے۔ شدید مون سون بارشوں سے مسجد کی دو میناروں کو نقصان پہنچا، جس کے بعد انہوں نے سرکاری، غیر سرکاری اور بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی کہ اس تاریخی یادگار کو مکمل تباہی سے بچایا جائے۔
حال ہی میں، ستمبر 2025ء میں گھوٹکی میں سماجی تنظیموں کی جانب سے منعقدہ مفت میڈیکل کیمپ کی افتتاحی تقریب میں بھی انہوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر ضلعی کونسلر گھوٹکی نے کہا کہ ایسی سماجی خدمات قابلِ ستائش ہیں، اور رئوف پارس دائیو سمیت دیگر رہنماؤں نے ویکسینیشن کی اہمیت پر زور دیا۔ یہ کیمپ ترقی پذیر ممالک میں صحت کی بیداری کے لیے ایک اہم قدم تھا۔
نتیجہ: ایک مستقل جدوجہد کرنے والا
رئوف پارس دائیو کی زندگی سندھ کی روایتی رواداری اور انسانی ہمدردی کی زندہ مثال ہے۔ انتہا پسندی، گمشدگیوں اور مذہبی تنازعات کے دور میں ان کی آواز امن اور اتحاد کی ہے۔ ان کی شاعری، سماجی کام اور قیادت نے نہ صرف گھوٹکی اور سندھ بلکہ پورے پاکستان کو متاثر کیا ہے۔ آج جب کہ دنیا تقسیم کی لہروں سے گھری ہوئی ہے، ایسے شخصیات کی ضرورت اور بھی بڑھ گئی ہے جو مذاہب کو انسانیت کی خدمت میں استعمال کریں۔ رئوف پارس دائیو کی جدوجہد جاری رہے گی، اور وہ سندھ کی امن کی تحریک کا ایک ابدی ستون بنے رہیں گے۔


No comments: