دادا سندھی: سندھ کے مشہور مورخ اور ادیب
دادا سندھی سندھ کی تاریخ اور ادب کی دنیا میں ایک اہم نام ہے، جنہوں نے اپنی مختصر مگر پرجوش زندگی میں سندھ کی ماضی کو قلم بند کرکے نئی نسلوں تک پہنچایا۔ اصل نام کریم بخش سومرو، دادا سندھی کے پاس نہ صرف تاریخی تحقیق کا خزانہ تھا، بلکہ سندھی زبان کی خدمت میں بھی ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ وہ ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے سندھ کی ثقافتی ورثے کو محفوظ کرنے کے لیے اپنی ساری عمر وقف کردی، اور آج بھی ان کی کتابیں سندھیوں کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔
ابتدائی زندگی کا منظر
دادا سندھی کا جنم 5 جولائی 1945ء کو سندھ کے ضلع گھوٹکی، تحصیل ڈہرکی کے چھوٹے سے گاؤں داد لغاری میں ہوا۔ ان کے والد محمد قاسم سومرو تھے، اور وہ سومرو قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ سندھ کے روایتی ماحول میں پلے بڑھے، دادا سندھی نے بچپن سے ہی سندھ کی تاریخی کہانیوں اور لوک داستانیں سے دلچسپی رکھی۔ ان کا گاؤں داد لغاری، جو میرپور ماثیلو کے قریب واقع ہے، سندھ کی وادی کے بیچ ایک سادہ مگر ثقافتی وار کا مرکز تھا، جہاں تاریخ کی خوشبوئیں ہواؤں کے ساتھ گھومتی آتی تھیں۔
تعلیمی سفر
دادا سندھی کی تعلیمی راہ سندھ کے عام سندھی بچوں کی طرح شروع ہوئی، مگر ان کی لگن کی وجہ سے وہ تعلیم کی ہر منزل پر ممتاز رہے۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں داد لغاری کے پرائمری سکول سے حاصل کی، جہاں سندھی زبان کی بنیاد رکھی۔ سیکنڈری تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول میرپور ماثیلو سے مکمل کی، جہاں وہ طالب علم کی بہترین مثال بنے۔ انٹرمیڈیٹ (انٹر) کی تعلیم گورنمنٹ اسلامیہ آرٹس کالج سکر سے حاصل کی، اور پھر بی اے (بی اے) اور ماسٹرز (ایم اے) کی ڈگریاں سندھ یونیورسٹی جامعہ سے حاصل کیں۔ ان کی ایم اے کا مضمون سوشیالوجی تھا، جو بعد میں ان کی تاریخی تحقیقوں میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔
پیشہ ور اور ادبی شروعات
پیشہ طور پر دادا سندھی ایک استاد تھے، مگر ان کا دل تاریخ کے صفحوں میں گھومتا تھا۔ انہوں نے اپنے لکھنے کی شروعات 1963ء میں کی، جبکہ وہ نوجوان تھے۔ تاریخی ادب کا شوق انہیں مشہور سندھی عالم رحیم داد خان مولائی شیڈائی سے ملاقات کے بعد ہوا۔ ان کا پہلا تاریخی مضمون ون یونٹ کے دور میں ون یونٹ کے خلاف لکھا گیا، جو سندھ کی خودمختاری کی تحریک کا عکاس تھا۔ 1990ء سے 1991ء تک، انہوں نے ریڈیو پاکستان خیرپور کے لیے سندھ کی تاریخ پر ریڈیو اسکرپٹس لکھیں، جو بعد میں کتابوں کی شکل میں جمع ہوئیں۔
دادا سندھی کی خدمات کا بڑا حصہ سندھ کی تاریخ کو عام فہم بنانے میں ہے۔ وہ نہ صرف لکھتے تھے، بلکہ تدریس کے ذریعے بھی نئی نسل کو سندھ کی ماضی سے جوڑتے تھے۔
ادبی خدمات: کتابوں کا خزانہ
دادا سندھی کی 52 سالہ مختصر زندگی میں، انہوں نے سندھ کی تاریخ اور ادب پر 15 چھپی ہوئی اور 25 ناچھپی کتابیں لکھیں۔ ان کی چھپی کتابوں میں شامل ہیں:
- **ڈئی ڈنبھ ڈڈن**
- **سندھ کی تاریخی کہانیاں**
- **پرانے سندھیوں کا پرائے واپار**
- **سندھیوں کی فوجی مہارت**
- **1857 کی جنگ آزادی اور سندھ**
- **سندھ کے علماء کے سنہری کارنامے**
- **تاریخی لوگ تاریخی باتیں**
- **سندیکا سندھی گرامر**
ناچھپی کتابوں میں **آزادی کی تحریکیں اور سندھ**، **سندھ کے صوفی شاعر**، **وری سی وطن جائیں (سندھ کی عظیم عورتیں)**، **سندھ کے بندر اور بازار**، **سندھ کے قلعے**، **سندھ کے قدیم درسی گاہیں**، اور دیگر شامل ہیں۔ ان کا لکھنا نہ صرف تحقیقی تھا، بلکہ عام سندھی قاری کے لیے سادہ اور دلچسپ بھی۔
ایوارڈز اور سدا بہار
دادا سندھی کی ادبی خدمات کے عوض انہیں مختلف اداروں کی طرف سے ایوارڈز ملے، جن میں **سندھی سنگت ایوارڈ**، **سندھالوجی ایوارڈ**، **آل سندھ بچوں ایوارڈ**، اور **سندھی قلم ایوارڈ** شامل ہیں۔ مگر افسوس، ان کی وفات کے بعد حکومت یا ادبی اداروں کی طرف سے ان کی ناچھپی کتابوں کی اشاعت کے لیے کوئی خاص قدم نہ اٹھایا گیا، جو سندھی ادب کے لیے ایک نقصان ہے۔
ورثہ اور وفات
دادا سندھی ایک سچا محب وطن تھے، جنہوں نے اپنے قلم سے سندھ کی عزت کو ہمیشہ سربلند رکھا۔ وہ 11 جنوری 1998ء کو دل کی ناکامی سے وفات پاگئے، مگر ان کے لکھے ہوئے الفاظ آج بھی زندہ ہیں۔ ان کی ورسی پر آج بھی سندھی ادبی حلقوں میں یاد کیا جاتا ہے، مگر مزید پروگراموں کی ضرورت ہے تاکہ ان کے کام کو نئی نسل تک پہنچایا جائے۔
دادا سندھی کی زندگی کا سبق یہ ہے کہ تاریخ نہ صرف ماضی کے صفحے ہیں، بلکہ مستقبل کے لیے ہاتھ میں مشعل بھی۔ سندھ کو ایسی شخصیات پر فخر ہے، اور امید ہے کہ ان کی ناچھپی کتابیں جلد روشنی کا روپ دھار کر سب کو مل جائیں گی۔


No comments: