صوفی بزرگ اور شاعر انور شاہ بخاری
تعارف
صوفیائے کرام کی روایت میں ایسے کئی نام شامل ہیں جو نہ صرف اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی محبت کے پیغام کو پھیلاتے ہیں بلکہ اپنی شاعری کے ذریعے انسانی فلاح و بہبود کا درس بھی دیتے ہیں۔ ان میں سے ایک نمایاں ستارہ سید انور علی شاہ بخاری ہیں، جنہیں صوفی فقیر اور عظیم شاعر کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ سندھ کی سرزمین پر پیدا ہونے والے یہ بزرگ، صوفیانہ شاعری کے ذریعے توحید، اتحاد اور برداشت کا درس دیتے رہے۔ ان کی شاعری میں اللہ تعالیٰ اور حضرت محمد ﷺ کی محبت کی گہرائی ایسی ہے جو قاری کے دل کو چھو جاتی ہے۔ آج بھی ان کی درگاہ جہانپور شریف، ضلع گوٹکی، سندھ میں لاکھوں عقیدت مند ان کی یاد میں جمع ہوتے ہیں۔
ولادت اور ابتدائی زندگی
سید انور علی شاہ بخاری کی ولادت 11 محرم الحرام 1324 ہجری (جو عیسوی تقویم کے مطابق 1906ء کے قریب ہے) کو ضلع گوٹکی، سندھ کے گاؤں جہانپور شریف میں ہوئی۔ ان کے والد کا نام سید خدابخش شاہ تھا، اور خاندان سید تھا جو عرب سے ہجرت کرکے پہلے اُچ شریف (پنجاب) اور پھر بلوچستان اور سندھ پہنچا۔ ان کی اولاد امام علی نقیؓ سے منسلک تھی، جو ان کی روحانی شان کی عکاسی کرتی ہے۔
بچپن سے ہی ان میں اللہ کی طرف رجحان نمایاں تھا۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے اپنے ماموں حافظ سید بہادر علی شاہ اور مولوی محمد عیسیٰ نوریانی سے حاصل کی۔ صرف سات سال کی عمر میں انہوں نے قرآن مجید حفظ کر لیا، حالانکہ دنیوی تعلیم میں ان کی دلچسپی کم تھی۔ یہ ابتدائی دور ان کی روحانی تربیت کا آغاز تھا، جہاں وہ صوفیانہ جذبے کی طرف مائل ہوتے گئے۔ ان کی زندگی کا یہ حصہ بتاتا ہے کہ اللہ کی محبت کی تلاش میں دنیوی علوم کی بجائے روحانی علم کو فوقیت دی جاتی ہے۔
روحانی سفر
تیس سال کی عمر میں سید انور علی شاہ بخاری نے حضرت سید صاحب دینو شاہ (وستی عنایت شاہ) سے بیعت کی، جو امام الارفعین حضرت بہو سلطان کے مرید تھے۔ اس بیعت نے ان کی زندگی کو بالکل بدل دیا۔ وہ صوفی القادری السروری سلسلے سے وابستہ ہوئے اور جہانپور شریف میں خانقاہ (میخانہ) قائم کی، جہاں لوگوں کو اللہ اور انسان کے راز سکھاتے رہے۔ ان کی خانقاہ ایک روحانی مرکز بن گئی، جہاں غمدل فقیر، محمد فقیر کھٹین اور بدھل فقیر جیسے ساتھی ان کے ہمراہ رہے۔
ان کا روحانی سفر سندھ کے مشہور صوفی شاہ عبداللطیف بھٹائی کی درگاہ سے بھی جڑا ہوا تھا، جہاں وہ بار بار جاتے اور صوفیانہ روایات کو زندہ رکھتے۔ ان کی تعلیمات منصوری سلسلے کی تھیں، جو اللہ کی طرف رجوع اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کی پیروی پر مبنی تھیں۔ انہوں نے اسلام کی تبلیغ کو اپنے اعمال سے کیا، اور لوگوں کو توحید کی طرف بلاتے رہے۔
شاعری اور تصانیف
سید انور علی شاہ بخاری ایک عظیم صوفی شاعر تھے، جن کی شاعری سندھی، سرائیکی، اردو، ہندی، فارسی، عربی، بلوچی اور مرواری زبانوں میں موجود ہے۔ ان کی شاعری کا مرکزی موضوع حبِ رسول اور توحید ہے، جو اتحاد، برداشت اور ہم آہنگی کا پیغام دیتی ہے۔ ان کی غزلیں اور کلام اللہ کی محبت کی گہرائیوں کو چھوتے ہیں، اور صوفیانہ استعاروں سے بھرپور ہیں۔
ان کی مشہور تصنیف "انور شاہ جو رسالو" ہے، جو فقیر سید سکھاوت علی شاہ (دوسرے سجادہ نشین) کی نگرانی میں شائع ہوئی۔ اس کے علاوہ، انہوں نے کئی کتابوں کا ترجمہ بھی کیا، جیسے "سیپون"، "نظبو"، "آشی" اور "روح"۔ ان کی شاعری کی ایک مثال یہ ہے کہ وہ اللہ کی قربت کو ایسے بیان کرتے ہیں جیسے "دل کی دھڑکن میں بسا ہوا ہے وہ، ہر سانس میں اس کی یاد" – جو صوفیانہ جذبے کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کی شاعری نہ صرف ادبی بلکہ روحانی درس ہے، جو قاری کو اللہ کی طرف بلاتی ہے۔
خدمات اور خاندان
سید انور علی شاہ بخاری کی خدمات سندھ کی صوفی روایت کو مضبوط کرنے میں شامل ہیں۔ انہوں نے اپنی شاعری اور خانقاہ کے ذریعے ہزاروں لوگوں کو اللہ کی طرف راغب کیا۔ ان کی تعلیمات میں انسانیت کی فلاح پوشیدہ تھی، اور وہ صوفیائے کرام کی طرح ظلم کے خلاف اور امن کے حق میں کھڑے رہے۔
ان کے دو بیٹے تھے: پہلے فقیر سید حضور بخش شاہ (پہلے سجادہ نشین، 1941ء-2005ء) اور دوسرے فقیر سید خدابخش شاہ علیز (ملنگ صاحب، 1950ء-1998ء)۔ ان کے خاندان نے ان کی روایات کو آگے بڑھایا، اور آج بھی درگاہ جہانپور شریف روحانی مرکز ہے۔
وفات اور یادگار
سید انور علی شاہ بخاری 23 اگست 1987ء کو وفات پا گئے۔ ان کی یاد میں ہر سال محرم الحرام کی 21، 22 اور 23 تاریخ کو جہانپور شریف میں عرس مبارک منایا جاتا ہے، جہاں ملک بھر سے عقیدت مند آتے ہیں۔
اختتام
سید انور علی شاہ بخاری جیسے صوفی بزرگ ہمیں سکھاتے ہیں کہ شاعری اور تصوف کا امتزاج اللہ کی محبت کو عام لوگوں تک پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ آج کے دور میں، جہاں تقسیم اور نفرت عام ہے، ان کی تعلیمات اتحاد اور برداشت کی روشنی ہیں۔ ان کی شاعری ہمیشہ زندہ رہے گی، اور ان کی درگاہ عقیدت مندوں کا مرکز بنے رہے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


No comments: