سندھ کے مشہور گلوکار علن فقیر: ایک صوفیانہ آواز کی داستان
تعارف
سندھ کی سرزمین، جو صوفیوں کی جھیل ہے اور اللہ کے نام کی گونج سے بھری پڑی ہے، نے کئی ایسے فنکار پیدا کیے جو اپنی آواز سے لوگوں کے دلوں کو چھو لیتے ہیں۔ ان میں سے ایک نام جو ہمیشہ یاد رہے گا، وہ ہے علن فقیر کا۔ علن فقیر (اصل نام: علی بخش) ایک ایسے سندھی لوک گلوکار تھے جن کی آواز میں صوفیانہ جذبہ، لوک داستانوں کی تڑپ اور رقص کی جھنجھوڑ تھی۔ 1932ء میں ضلع جمشورو کے قدیم گاؤں عامری میں پیدا ہونے والے علن فقیر نے اپنی زندگی کو موسیقی کی خدمت میں وقف کر دیا۔ وہ نہ صرف سندھی لوک موسیقی کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں بلکہ صوفی شاعری، خاص طور پر شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری کو نئی جہت دینے والے فنکار بھی تھے۔ ان کی پرفارمنسز میں ایک جھوٹھی بےقراری تھی جو سامعین کو مجذوب کر لیتی تھی، اور ان کا طرزِ لباس – مور کی پنکھوں والا اجرک کا پگڑی، سیاہ شروانی اور شلوار – سندھی ثقافت کی علامت بن گیا۔ علن فقیر کی وفات 4 جولائی 2000ء کو ہوئی، مگر ان کی آواز آج بھی زندہ ہے، جو سندھ کی مٹی سے اٹھتی ہے اور دنیا بھر میں سنائی دیتی ہے۔ یہ مضمون ان کی زندگی، جدوجہد، فن اور وراثت پر مبنی ہے، جو ایک ہزار الفاظ سے زائد پر مشتمل ہے تاکہ ان کی شخصیت کو مکمل طور پر اجاگر کیا جا سکے۔
ابتدائی زندگی
علن فقیر کی پیدائش 1932ء (بعض ذرائع کے مطابق 1934ء) میں جمشورو ضلع کے گاؤں عامری میں ہوئی، جو سندھ کے قدیم ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔ یہ گاؤں دریائے سندھ کے کنارے واقع ہے، جہاں لوک موسیقی اور صوفیانہ روایات کی جڑیں گہری ہیں۔ علن فقیر منگہڑ کمیونٹی سے تعلق رکھتے تھے، جو مسلمان ذات کی ایک موروثی موسیقی گروہ ہے۔ یہ کمیونٹی صدیوں سے قبائلی خاندانوں کی تقریبات – جیسے شادیاں، جنم، ختنہ اور میلے – میں موسیقی کی خدمات فراہم کرتی آئی ہے اور بدلے میں مویشی، اناج یا نقد رقم حاصل کرتی ہے۔
ان کے والد، زوار دیم علی فقیر (جنہیں دھمالی فقیر بھی کہا جاتا تھا)، ایک مشہور ڈھول نواز تھے۔ انہوں نے اپنے دادا توںر فقیر سے ڈھول بجانا سیکھا تھا اور وہ سہوان شریف کے درگاہ قلندر لال شاہباز پر پرفارم کرتے تھے۔ والدہ بانو خاتون تقریبات میں نغمے گاتی تھیں۔ علن فقیر پہلے بچہ تھے، مگر پیدائش کے فوراً بعد ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا، جو ان کی زندگی کا پہلا بڑا صدمہ تھا۔ چھ سال کی عمر میں ماں کی جدائی نے انہیں یتیم سا بنا دیا، اور پھر دادی کی پرورش میں رہے، جو جلد ہی انتقال کر گئیں۔ والد کی توجہ دوسری شادیوں کی وجہ سے کم ہوئی، اور علن کو گھر کی ذمہ داریاں سنبھالنے پڑیں۔
دس سال کی عمر میں والد نے دوسری شادی کی اور گاؤں منجھند منتقل ہو گئے، جہاں رشتہ دار رہتے تھے۔ سواند مائی (سوتی ماں) کی سختی نے علن کو گھر سے دور کر دیا۔ وہ گاؤں میں گھوم پھرنے لگے، گدھے پر سوار ہو کر دریائے سندھ میں مچھلیاں پکڑتے، اور کھیتوں میں جھومر ناچ کر اناج کماتے۔ ان کی ابتدائی آمدنی شادیوں میں 'سہرا' کے نغمے گانے اور ڈھول بجانے سے ہوتی تھی۔ یہ دور ان کی زندگی کا سب سے مشکل مرحلہ تھا، جہاں بھوک اور تنہائی نے انہیں مزاح نگار بنا دیا۔ وہ ٹرینوں اور بسوں میں مزاحیہ پرفارمنسز کرتے، مسافروں کو ہنساتے اور چندہ مانگتے۔ اسی دوران ان کی ملاقات داؤد فقیر سے ہوئی، جو ایک عجیب و غریب شخصیت تھیں، اور ان کے ساتھ رہنے سے علن کو افیم کی عادت پڑ گئی، جو بعد میں ان کی زندگی کا حصہ بن گئی۔
خاندانی پس منظر
علن فقیر کا خاندان منگہڑ روایات سے جڑا ہوا تھا، جو موسیقی کو موروثی پیشہ سمجھتے ہیں۔ ان کی نسل دھماج فقیر، پنجو فقیر، سمہابو فقیر، توںر فقیر اور دھمالی فقیر تک جاتی ہے۔ والد تین شادیوں کے مالک تھے؛ پہلی سے علن، دوسری اور تیسری سے سوتی بھائی غلام رضا، مشتاق علی، غلام علی اور بہنیں۔ علن نے اپنے سوتی خاندان کی کفالت کی، بیٹیوں کی شادیوں میں مہر دی اور جھگڑے سلجھائے۔ 1976ء میں انہوں نے بچپن کی منگنی والی کزن سے شادی کی، جس کے تین بیٹے (جن میں فہیم فقیر شامل) اور دو بیٹیاں تھیں۔ وہ بیوی سے بےحد محبت کرتے تھے اور نہ پڑھے لکھے ہونے باوجود بچوں کو تعلیم دلائی۔ بیٹے فہیم اور بھائی مشتاق کو گانے سکھایا۔
خاندان 1979ء میں سندھ یونیورسٹی کے کوارٹر میں رہنے لگا۔ والد 1979ء میں انتقال کر گئے، جو دمہ کے مریض اور افیم کے عادی تھے، مگر شاہ جو رسالو پڑھنے والے اور شیعہ مسلک کے پیروکار تھے۔ علن کا خاندان قبائل جیسے تنگوانی، مریدانی، نہالانی، بھمبھانی، سوڈانی، خیمانی اور منجھند کی خدمات کرتا تھا۔
موسیقی میں داخلہ
منگہڑ کمیونٹی کی وجہ سے موسیقی علن کی رگوں میں تھی۔ بچپن میں والد سے ڈھول، بانسری، جھومر ناچ اور سہرا نغمے سیکھے۔ نوعمری میں مزاح اور گانوں سے گزارا کیا، مگر 1961ء میں حیدرآباد کے ایک مزاحیہ کانفرنس میں منٹاز مرزا سے ملاقات نے ان کی زندگی بدل دی۔ مرزا، جو ریڈیو پاکستان کے ملازم تھے، نے انہیں بھٹ شاہ بلایا جہاں 1970ء میں استاد قربان علی لانجوائی سے شاہ جو راگ سیکھا، بشمول تمبرو بجانا۔ پہلا ریڈیو ریکارڈنگ 1970ء میں "ننگا نند نا کان" (شاہ عبداللطیف کی) تھا، جو ان کی شہرت کا آغاز بنا۔
علن نے وائی گانے کو سولو سٹائل میں پیش کیا، جو روایتی طور پر گروپ میں ہوتا تھا۔ انہوں نے تمبرو کو تبدیل کیا، یاک ٹارو سے ملا کر، اور وائی کو سادہ الفاظ میں گایا تاکہ سامع سمجھ سکیں۔
کیریئر کی نشانیاں
علن کا کیریئر 1970ء سے عروج پر پہنچا۔ ریڈیو پاکستان حیدرآباد میں مستقل آرٹسٹ بنے، اور 1979ء میں سندھولوجی میں سٹاف آرٹسٹ (گریڈ 7، تنخواہ 470 روپے) مقرر ہوئے، جہاں شاہ عبداللطیف کے گانے ریکارڈ کرتے۔ 1971ء میں پی ٹی وی پر عبدالکریم بلوچ نے متعارف کرایا، جو قومی شہرت کا باعث بنا۔
انہوں نے 30 سال سرکاری ثقافتی ٹرینوں کے ساتھ 20 سے زائد ممالک کا دورہ کیا: امریکہ (1976ء، آزادی کی تقریبات)، جاپان (1980ء، انٹرنیشنل فیسٹیول)، کوریا (1984ء)، سنگاپور (1985ء)، جرمنی، فرانس، روس، انگلینڈ، دبئی، اٹلی، ترکی، بیلجیم، فلپائن۔ بھٹ شاہ، داد شاہید، درازہ شریف، سچل سرمست اور قلندر لال شاہباز کی درگاہوں پر باقاعدہ پرفارم کیا۔ 1980ء سے اسلام آباد میں یومِ آزادی اور پاکستان ڈے پر سندھ کی نمائندگی کی۔ 1985ء میں لندن میں بائی پاس سرجری ہوئی، اور 1994ء میں ریٹائر ہوئے۔
مشہور گانے اور پرفارمنسز
علن فقیر کی آواز صوفیانہ تڑپ سے بھری تھی۔ مشہور وائی گانے:
تی پاوانڈا تارین – جدائی کی حسرت کا اظہار۔
الم اللہ میم محمد – صوفیانہ جذبہ۔
ریم جھم برسِ بدل – بارش کی لوک کہانی۔
ہما ہما او پیاری – محبت کی پکار۔
آیو جھول بھری عشق – عشق کی شدت۔
بولی مھنجی بندھانی – سندھی لوک۔
مجھ میں تو موجود – روحانی گہرائی۔
اللہ ہو اللہ ہو – مشہور صوفی میڈلی۔
ان کے البیمز: بولی مھنجی والیوم 1، پان ٹو پائدا والیوم 2، سندھی صوفی رنگ والیوم 1۔ پرفارمنسز میں ناچ، جھنجھوڑ اور جذباتی تقریر شامل تھی، جو سامعین کو رقص پر مجبور کر دیتی۔ وہ شاہ جو رسالو، سچل سرمست اور شیخ ایاز کی شاعری گاتے۔ ابتدائی نغمہ "سُئی کڑھی وئي ائين ماں" شادیوں کا تھا۔
اثرات
علن کی سب سے بڑی الہام شاہ عبداللطیف بھٹائی تھیں، جن کے شاگرد بنے۔ بھٹ شاہ میں راگ سیکھا اور تمبرو کو تبدیل کیا۔ سچل سرمست کی شاعری نے انہیں نشے اور خوشی کی طرف راغب کیا۔ والد سے لوک نغمے، شیخ ایاز کی شاعری نے نوکری دلائی۔ منگہڑ روایات نے بنیاد دی، اور نشہ (شراب، چرس، افیم) کو وہ عبادت سمجھتے، جو آواز کو برقرار رکھتا۔
ذاتی زندگی
علن سادہ زندگی گزارتے۔ مچھلی اور مسور کی دال پسند تھی، سرخ مرچ اور چاول سے پرہیز کرتے تاکہ آواز محفوظ رہے۔ طرزِ لباس: مور پگڑی، سیاہ شروانی، جوگی ٹوپی، کسٹو (شیل پاؤ)، کمر بند، بیراگن (لاٹھی)، کنٹھا (ہار)، کولابو (چوڑی)، دندو (گھنٹی والی لاٹھی)، گوڑی (تھیلا)۔ جمشورو کے ہاسٹل اور ڈلبر ہوٹل میں بیٹھتے۔ 1990ء کی دہائی میں ایم کیو ایم کے اغوا کا شکار ہوئے، جہاں ان کا آدھا داڑھی، مونچھیں اور بال منڈوا دیے گئے، جس سے وہ اداس ہو گئے۔ نشہ کی عادت نوعمری سے تھی، جو صحت کو نقصان پہنچاتی۔
چیلنجز
غربت، ماں کی جدائی، سوتی ماں کی سختی، داؤد فقیر سے وابستگی نے علن کو بے گھر کیا۔ مزاح اور بھیک سے گزارا، معاشی عدم استحکام، صحت کے مسائل (دمہ، سٹروک، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، 1985ء کی سرجری) اور نشہ نے جدوجہد بڑھائی۔ نوکری میں بھی بے ترتیبی کی وجہ سے مسائل ہوئے۔
ایوارڈز
علن کو متعدد اعزاز ملے:
صدارتی پرائیڈ آف پرفارمنس (1980ء)۔
شاہ لطیف ایوارڈ (1992ء، 1996ء)۔
شاہباز قلندر ایوارڈ (1996ء)۔
سندھ ایوارڈ (1997ء)۔
گورنر سندھ اچیومنٹ ایوارڈ (1991ء)۔
کنڈھ کوٹ ایوارڈ، مشری شاہ اسپیشل ایوارڈ (1997ء)، استاد فیض گل ایوارڈ (1997ء)، شاہ عویس کارنی ایوارڈ (1998ء)، شہید فضیل رھو ایوارڈ، سُھنی ایوارڈ (1982ء)، سندھ ایوارڈ (1998ء)۔
وراثت
علن فقیر سندھی لوک موسیقی کے رجحان ساز تھے۔ انہوں نے وائی کو سولو اور سادہ بنایا، الفاظ کی وضاحت سے، اور تمبرو کو تبدیل کیا۔ ان کی پرفارمنسز میں صوفی ناچ اور جذبہ تھا، جو بین الاقوامی سطح پر سندھ کی ثقافت پھیلایا۔ ناقدین جیسے بدل مسرور نے ان کی آواز کی درد کو سراہا، محمد علی شاہی نے سچے فنکار کہا، عبدالمجید نے شاہ لطیف کے شاگرد، دادو پورھو نے مالنگ اور ظفر کاظمی نے موروثی آواز کی تعریف کی۔ انور فگار حاکرو نے سندھی ثقافت میں کردار اجاگر کیا۔ علن کی وارثات آج بھی فہیم فقیر جیسے بیٹوں میں زندہ ہے، اور ان کی آواز لوک موسیقی کا معیار بن گئی۔
اختتام
علن فقیر کی زندگی ایک صوفی کی تلاش کی داستان ہے – غربت سے شہرت تک، جدوجہد سے اعزاز تک۔ وہ نہ صرف گلوکار تھے بلکہ سندھ کی روح کے ترجمان۔ آج، جب ہم ان کی آواز سنتے ہیں، تو لگتا ہے کہ وہ کہہ رہے ہیں: "الم اللہ، تو میری جان میں بسا ہے۔" ان کی یاد ہمیشہ تازہ رہے گی، اور سندھ کی مٹی ان کی گونج سے معطر ہوتی رہے گی۔


No comments: