مہر قبیلے کی تاریخ: ایک قدیم اور بہادر قبیلے کا سفر
تعارف
مہر قبیلہ (انگریزی: Mahar یا Mahaar) پاکستان کے صوبہ سندھ اور جنوبی پنجاب کا ایک ممتاز اور قدیم قبیلہ ہے جو اپنی جنگی روایات، قبیلائی اتحاد اور سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہ قبیلہ سندھی اور سرائیکی ثقافت کا اہم حصہ ہے اور اس کی جڑیں ہزاروں سال پرانی سمجھی جاتی ہیں۔ مہر قبیلہ نہ صرف زرعی اور چراگاہوں پر مبنی معاشرے کا حصہ ہے بلکہ برطانوی راج کے خلاف آزادی کی تحریک میں "مہر مجاہدین" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ آج یہ قبیلہ گھوٹکی، سکھر، بہاولپور، اوکاڑہ اور بہاول نگر جیسے اضلاع میں آباد ہے، جہاں یہ مقامی سیاست اور سماجی زندگی میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ مہر قبیلے کی تاریخ ہجرتوں، جنگی جدوجہد اور ثقافتی امتزاج کی کہانی ہے، جو عرب، راجپوت اور جاٹ روایات سے جڑی ہوئی ہے۔
اصل و نسب
مہر قبیلے کی اصل کے بارے میں متعدد روایات اور تاریخی روایات موجود ہیں، جو اس کی قدیم جڑوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔ سب سے مشہور روایت کے مطابق، مہر جوئیہ قبیلے کے بھائی اور ایاس (ایک شیخ صدیقی بزرگ) اور رانی نال (بھٹی راجپوت راجہ چوہر ہر کی بیٹی) کے بیٹے تھے۔ مہر کے پوتے واگ نے گرہ ماتھیلی کا راج کیا، جبکہ اس کے پوتے سنورہ نے سرسہ (موجودہ ہریانہ) کی طرف ہجرت کی، جس سے سنورہ پوترے شاخ وجود میں آئی۔ یہ قبیلہ قدیم ہاکڑا دریا (غاغر ہکڑا) کے کنارے آباد تھا اور جیسلمیر کے بھٹی حکمرانوں کے تابع تھا۔
ایک اور روایت کے مطابق، مہر قبیلہ مل راج کی اولاد ہے، جن کے پڑ پوتے سیرو کے تین بیٹے تھے: جوئیہ، مہر اور مائٹلا—جو تمام مشہور جاٹ قبائل ہیں۔ مہر کے بیٹوں میں چنڑ، بھمبان، لالی، خان، رکنانی اور سکھیجہ شامل ہیں، جن سے بھٹیانہ، بہاول نگر اور ساہیوال کی مہر شاخیں نکلیں۔ سندھی روایات میں مہر کو ہند (سمڑا کی نسل سے) کی اولاد بتایا جاتا ہے، جن کا دادا چند نامی تھا۔
سندھی مہر قبیلہ رابڑی (راجپوت خانہ بدوش) سے منسوب ہے، جو جیسلمیر سے جمشورو تک تھر صحرا اور سندھ کے نصف سے زیادہ علاقے فتح کر چکے تھے۔ اردو روایات میں مہر کو عرب مؤرخین کے میڈیوں (Medes) سے جوڑا جاتا ہے اور یہ جوئیہ کے بھائی مہر کی اولاد ہیں۔ "مہر" لفظ عربی میں جنگی گھوڑوں سے جڑا ہے—دس سالہ گھوڑے کو "مہر" کہا جاتا تھا، اور ایسے گھوڑوں والے فوجیوں کو "مہر والے" پکارا جاتا تھا۔ یہ لفظ فارسی میں "سورج" کا مترادف بھی ہے، جو گجر قوم سے بھی منسلک ہے۔ ان روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہر قبیلہ راجپوت، جاٹ اور عرب عناصر کا امتزاج ہے۔
تاریخی پس منظر
مہر قبیلے کی تاریخ ہجرتوں اور جنگی جدوجہد سے بھری پڑی ہے۔ 16ویں صدی میں جوڑھپور کے رتھوڑ حکمرانوں نے جیسلمیر سے مہر قبیلے کو نکال دیا، جس کے بعد وہ بکینر کے جوئیہوں کے پاس پناہ لینے گئے۔ بکینر پر بھی رتھوڑوں کا قبضہ ہونے پر مہر ستلج وادی میں آباد ہوئے۔ سنورہ کو اس کے بھائیوں نے گرہ ماتھیلی سے نکال دیا، جس کے بعد وہ شاہر فرید (بہاولپور) کے قریب سارتانی آباد ہوئے، جبکہ بھائیوں نے جندلا اور چھاجو دے (موجودہ چوکھا مال اور بستی ہمایوں سیال کے قریب) میں بستیاں بسائیں۔
بہاولپور میں مہر سردار واریہ کے بیٹے فتح خان نے مہران کی بنیاد رکھی، اور بعد میں داؤد پوتہ حکمرانوں کی بالادستی قبول کی۔ برطانوی دور میں مہر قبیلہ آزادی کی تحریک کا حصہ بنا، جہاں انہیں "مہر مجاہدین" کہا گیا۔ انہوں نے برطانوی راج کے خلاف مسلح مزاحمت کی اور تھر اور سندھ میں آزادی کی لڑائی لڑی۔ 1947 کی تقسیم کے بعد بھارتی پنجاب اور راجستھان سے مہر مسلمان پاکستان ہجرت کر آئے، خاص طور پر بھٹیانہ (سری گنگا نگر، ہنومان گڑھ، سرسہ اور فیضلکہ) سے۔
سندھ میں مہر قبیلہ سمڑا سلطنت اور ہڑ مجاہدین کی تحریکوں سے جڑا ہوا ہے، جہاں انہوں نے علاقائی طاقتوں کے خلاف جدوجہد کی۔ 1911 کی مردم شماری میں مہر کی آبادی 12,945 تھی، جن میں سے زیادہ تر مونٹگمری (اوکاڑہ) اور بہاولپور میں تھے۔
تقسیم و آبادکاری
مہر قبیلہ بنیادی طور پر سندھ (گھوٹکی، سکھر، جھمشورو، تھر) اور جنوبی پنجاب (بہاول نگر، اوکاڑہ، وہیڑی، لودھراں، ساہیوال، مظفر گڑھ، راجن پور، ڈیرہ غازی خان) میں آباد ہے۔ سندھ میں خنگڑ شریف، خان پور مہر اور والو مہر جیسے علاقے مہر کا مرکز ہیں۔ پنجاب میں ستلج دریا کے کنارے 13 دیہاتیں (جیسے تاجو کے مہر، نہال مہر، پناں مہر) ہیں، جبکہ چکوال، جہلم، گجرات، سرگودھا اور سیالکوٹ میں بھی بستیاں ہیں۔ بھارت میں جیسلمیر (راجستھان) میں بھی مہر موجود ہیں، لیکن تقسیم کے بعد زیادہ تر پاکستان آ گئے۔ عرب ممالک (فلسطین، اردن) میں بھی مہر خاندان پائے جاتے ہیں۔
ذیلی قبائل
مہر قبیلے کے متعدد ذیلی شاخیں اور خاندان ہیں:
سندھی مہر: چنڑ، دراجو، ماتوجو، ننجہ، جیسراجہ، سکھیجہ اور گاگنان—جن میں سرداری سکھیجہ خاندان کے پاس ہے۔
پنجابی مہر: سنورہ پوترے، سکھیجہ مہر (بھٹیانہ)، خان مہر (بہاول نگر اور ساہیوال)، بھمبان، لالی، رکنانی۔
یہ شاخیں قبیلائی اتحاد اور روایات کو برقرار رکھتی ہیں، جہاں چراگاہوں اور زراعت مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔
مشہور شخصیات
مہر قبیلہ نے سیاست، فوج اور سماجی خدمات میں کئی نمایاں شخصیات دی ہیں:
سردار غلام محمد خان مہر: سندھ کے ممتاز سیاستدان اور قبیلے کے سابق سردار، جو 1964 سے 1995 تک قومی اسمبلی اور سینیٹ کے رکن رہے۔ ان کے نام پر غلام محمد مہر میڈیکل کالج قائم ہے۔
سردار محمد بخش خان مہر: موجودہ سردار، سندھ اور قومی اسمبلی کے سابق رکن۔
علی محمد خان مہر: سابق وزیر اعلیٰ سندھ (وفات 2019)۔۔
علی گوہر خان مہر: موجودہ ایم این اے اور سابق ناظم ضلع گھوٹکی۔
عرب سے: مہر زرار (فلسطین) اور ام رعد المہر (اردن)۔
یہ شخصیات قبیلے کی سیاسی طاقت کو ظاہر کرتی ہیں، خاص طور پر سندھ کی مقامی سیاست میں۔
وراثت اور آج کا دور
مہر قبیلے کی وراثت جنگی بہادری، مہمان نوازی اور قبیلائی وفاداری میں زندہ ہے۔ آج یہ قبیلہ پاکستان کی سیاست میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جہاں گھوٹکی اور سکھر میں مہر اور لونڈ قبائل کی موجودگی علاقائی توازن برقرار رکھتی ہے۔ 2025 میں بھی سوشل میڈیا اور مقامی تقریبات میں مہر کی تاریخ کو یاد کیا جاتا ہے، جو سندھی اور پنجابی ثقافت کا لازمی حصہ ہے۔ مہر قبیلہ کی کہانی ہجرت اور جدوجہد کی ہے، جو پاکستان کی تعمیر نو میں مسلسل شراکت کی علامت ہے۔ یہ قبیلہ نہ صرف اپنی روایات کو زندہ رکھتا ہے بلکہ جدید چیلنجز کا بھی سامنا کرتا ہے، جیسے پانی کی قلت اور سیاسی اتحاد۔ مہر کی تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ اتحاد اور بہادری ہی قوم کی بنیاد ہیں۔


No comments: