پریم پتافی — روشنی اور احساس کا شاعر
سندھ کی دھرتی ہمیشہ سے علم و ادب، محبت اور فکرآفریں شخصیات سے بھری رہی ہے۔ انہی نامور شخصیات میں ایک نمایاں نام پریم پتافی کا ہے، جو نہ صرف ایک حساس شاعر ہیں بلکہ ایک باشعور استاد اور ادبی کارواں کے مسافر بھی ہیں۔ اُنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے احساس، انسانیت اور امید کی وہ شمع روشن کی ہے جو آج کے بےحس دور میں بھی دلوں کو گرما دیتی ہے۔
ابتدائی زندگی
پریم پتافی کا اصل نام عبدالرزاق ولد محمد یوسف ہے۔ وہ 5 مئی 1969ء کو ضلع گھوٹکی کے ایک علمی اور مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ اُن کے خاندان میں علم و ادب کی روایت پرانی ہے — اُن کے پردادا مولانا بہاؤالدین بہائي اور دادا مولانا عبدالرحمٰن ضیائي فارسی اور سندھی کے نامور شاعر تھے۔
بچپن ہی سے پریم پتافی کو مطالعے اور شاعری کا شوق تھا۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے پرائمری اسکول سے حاصل کی، جبکہ میٹرک 1985ء میں گورنمنٹ ہائی اسکول میرپور ماتھیلو سے مکمل کیا۔
تدریسی سفر
تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے 1989ء میں محکمہ تعلیم سندھ میں بحیثیت پرائمری اسکول ٹیچر اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ تدریس کو انہوں نے پیشہ نہیں بلکہ خدمتِ خلق کا ذریعہ سمجھا۔ وہ طلبہ میں اخلاق، انسان دوستی اور محنت کا جذبہ بیدار کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔
ادبی آغاز
پریم پتافی نے شاعری کا باقاعدہ آغاز 1992ء میں کیا۔ ان کی شاعری جلد ہی مختلف ادبی رسائل جیسے مهراڻ، سوجهرو، سنجها، امرتا، پرکھ، نئی زندگی وغیرہ میں شائع ہونے لگی۔
ان کی شاعری میں سندھ کی محبت، انسان کا دکھ، خواب، جدوجہد اور امید کی کرنیں نمایاں ہیں۔
ادبی خدمات اور تصانیف
پریم پتافی کا پہلا مجموعۂ کلام "روشنیءَ جون اکيون" (روشنی کی آنکھیں) سن 2010ء میں شائع ہوا۔
یہ مجموعہ اُن کے تخلیقی اظہار کا پہلا سنگِ میل ثابت ہوا، جس میں انہوں نے محبت، زندگی اور وقت کے بدلتے رنگوں کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا۔
ان کے ایک اور اہم کام "منھنجو ادبي سفر" (میرا ادبی سفر) میں اُنہوں نے اپنی ادبی زندگی، اساتذہ، اثرات اور تجربات کا تفصیلی تذکرہ کیا ہے۔
شعری انداز اور فکری جہت
پریم پتافی کی شاعری جدید احساسات اور روایتی سندھی شاعری کے امتزاج کی عکاس ہے۔
اُن کے اشعار میں کہیں عشق کی نرمی ہے، تو کہیں زندگی کے دکھوں کا فلسفہ۔
ان پر استاد بخاری، امداد حسینی اور دیگر جدید سندھی شعرا کے اثرات نمایاں ہیں، تاہم اُن کی اپنی پہچان ایک الگ اسلوب اور گہری فکری وابستگی کی بنا پر قائم ہے۔
ان کی شاعری میں انسانی رشتوں کی حرارت، سماجی درد، اور جمالیاتی لطافت ایک ساتھ نظر آتی ہے۔
ادبی مقام اور اثرات
پریم پتافی آج کے اُن شاعروں میں سے ہیں جنہوں نے روایت سے جڑے رہتے ہوئے جدید دور کے احساسات کو اپنی شاعری میں جگہ دی۔
وہ محض شاعر نہیں بلکہ سندھ کے تعلیمی اور فکری منظرنامے کا ایک اہم کردار ہیں — جو علم، محبت اور سماجی شعور کے ذریعے اپنی دھرتی کے نوجوانوں کو روشن مستقبل کی طرف رہنمائی کر رہے ہیں۔
اختتامی کلمات
پریم پتافی کی شاعری دراصل روشنی، احساس اور بیداری کی شاعری ہے۔
اُن کے لفظ دل سے نکلتے ہیں اور سیدھے دل میں اترتے ہیں۔
گھوٹکی جیسے علاقے میں اُن کی موجودگی ایک فکری نعمت ہے، اور ان
کا قلم آج بھی امید، محبت اور انسانیت کی بقا کے لیے لکھ رہا ہے۔


No comments: