مفتون کورائی: ایک جدید اردو شاعرِ سندھ
سندھ کی سرزمین ہمیشہ سے ادبی خزانوں کی مالک رہی ہے، جہاں سے کئی ایسے شعراء ابھرے ہیں جنہوں نے اپنی شاعری سے کلاسیکی روایات کو جینا سکھایا ہے۔ ان میں سے ایک نام مفتون کورائی کا ہے، جو ضلع گھوٹکی کے ایک نمایاں اردو شاعر ہیں۔ گھوٹکی، جو سندھ کی ثقافتی اور ادبی ورثے کا مرکز ہے، سے تعلق رکھنے والے مفتون کورائی کی شاعری میں کلاسیکی اردو شاعری کی گہرائی اور فلسفیانہ چاشنی جھلکتی ہے۔ خاص طور پر، ان کی اشعار میں مرزا تقی میر کی طرزِ بیان کی جھلک ملتی ہے، جو غم، عشق اور انسانی جذبات کی گہرائیوں کو چھوتا ہے۔
مفتون کورائی کی زندگی کے بارے میں تفصیلی سوانحی معلومات دستیاب نہیں ہیں، جو مقامی ادب کی ایک عام خصوصیت ہے جہاں بہت سے شعراء کی تخلیقات زبانی روایات یا محدود اشاعت تک محدود رہ جاتی ہیں۔ تاہم، دستیاب ذرائع سے پتہ چلتا ہے کہ وہ گھوٹکی کے جدید اردو شعراء میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے ایک صدی سے زائد پرانے کلاسیکی شعراء جیسے مرزا تقی میر اور خواجہ میر درد سے متاثر ہو کر اپنی انفرادی آواز کو آج کے دور میں پیش کیا ہے۔ ان کی شاعری میں طرزِ بیان اور لفظیات میں فرق ہونے کے باوجود، خیالات کی سطح پر کلاسیکی اثرات واضح ہیں۔ یہ اثرات ان کی غزلوں اور آزاد نظموں میں انسانی نفسیات، عشق کی پیچیدگیوں اور سماجی غور و فکر کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔
مفتون کورائی نہ صرف اردو بلکہ سندھی ادب میں بھی سرگرم نظر آتے ہیں۔ سنڌي ادبي ورلڊ ایسوسيئيشن (SAWA) کی تقریبات میں ان کی شرکت اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ وہ مقامی ادبی محفلوں کا اہم حصہ ہیں۔ مثال کے طور پر، 2015 میں SAWA کی ایک مشاعرہ میں انہوں نے اپنی غزل پیش کی، جو سنڌي اور اردو دونوں زبانوں میں ان کی مہارت کو ظاہر کرتی ہے۔ ان کی ایک سنڌی شعری سطر، جو 2013 میں ٹوئٹر پر شیئر کی گئی، اس کی جھلک دکھاتی ہے:
**"سونھن جو فلسفو پچھو مونکان، حسن جو ہمرکاب آھیان مان"**
یہ سطر سننے والے فلسفیوں کی طرف مڑنے اور حسن کی ہمرکابی کی یاد کو ایک فلسفیانہ انداز میں بیان کرتی ہے، جو ان کی شاعری کی گہرائی کو اجاگر کرتی ہے۔
گھوٹکی کے شعراء، بشمول مفتون کورائی، کو "کلاسیکی" تو نہیں کہا جا سکتا، لیکن ان کی تخلیقات میں کلاسیکی روایات کی جڑیں مضبوط ہیں۔ مرزا تقی میر کی طرح، مفتون کی شاعری میں غم کی تہہ داری اور عشق کی نفاست ملتی ہے، جو آج کے دور میں بھی تازہ دکھائی دیتی ہے۔ ان کی غزلیں، جو مشاعروں میں سنائی جاتی رہتی ہیں، سنڌ کی مقامی ثقافت کو اردو کی کلاسیکی دنیا سے جوڑتی ہیں۔ بدقسمتی سے، ان کی مکمل دیوان یا مجموعہ کلام ابھی تک شائع نہ ہونے کی وجہ سے ان کی شاعری محدود حلقوں تک ہی پہنچ سکی ہے، لیکن مقامی ادبی جرائد جیسے "گمن" میں ان کا ذکر ان کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
آخر میں، مفتون کورائی جیسے شعراء سندھ کی ادبی روایات کو زندہ رکھنے کا ذریعہ ہیں۔ ان کی شاعری ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کلاسیکی اثرات کو جدید سیاق میں ڈھالنا ہی اصل فن ہے۔ امید ہے کہ مستقبل میں ان کی تخلیقات کو مزید اجاگر کیا جائے گا تاکہ گھوٹکی کا یہ ادبی جوہر وسیع حلقوں تک پہنچ سکے۔


No comments: