_seo-verification:4bc3407b9d3078c330cf0aa334995f0243b21d6b2d88f58788cb69b389c4db9f گھوٹکی شہر کا تاریخی پس منظر - Apna Ghotki

گھوٹکی شہر کا تاریخی پس منظر

 گھوٹکی شہر، جو سندھ صوبے کے شمالی حصے میں واقع ہے، کی تاریخ بہت قدیم اور دلچسپ ہے۔ اس کی بنیاد تقریباً 637 عیسوی میں راجہ ابن سلیم برہمن (راجہ داہر کے رشتہ دار) کے ایک جرنیل نے رکھی، جس نے یہاں ایک فوجی کیمپ قائم کیا۔ اس علاقے کا ابتدائی نام ہتھ سمج رکھا گیا، جو بعد میں مختلف قبائل کے لوگوں کی آبادکاری سے ایک گاؤں میں تبدیل ہو گیا۔ تاہم، 641 عیسوی میں یہ علاقہ خالی ہو گیا اور دیہی رہ گیا۔ 695 عیسوی میں ماہی گیروں نے دوبارہ یہاں آبادکاری کی اور اسے "میانی" کا نام دیا، مگر دریائے سندھ کے راستے بدلنے سے یہ بھی متروک ہو گیا۔



ایک اہم موڑ 712 عیسوی میں آیا جب محمد بن قاسم نے سندھ فتح کیا اور راجہ داہر کو شکست دی۔ اس کے بعد راجہ داہر کے پوتے غوٹ ابن سمد ابن پٹیل (جو ہندو تھے) کو اس علاقے میں آباد ہونے کا حکم دیا گیا۔ غوٹ نے اسلام قبول کر لیا، ایک مسلمان خاتون سے شادی کی، اور ان کے بیٹے تمیر سے غوٹہ قبیلہ وجود میں آیا۔ عرب حکمرانوں نے غوٹہ قبیلے کو جاگر دیے اور اس جگہ کا نام "دھرвали" رکھا، جو ان کے دادا کی یاد میں تھا۔ بعد میں، جیسے جیسے غوٹہ قبیلہ پھیلا، نام "گھوٹکی" ہو گیا، جو غوٹہ کا مطلب رکھتا ہے۔


کلہوڑا دور (1657-1783 عیسوی) میں، حضرت سید مبارک شاہ جیلانی بغدادی (جو بغداد سے آئے تھے) نے گھوٹکی میں آباد ہونے کا فیصلہ کیا، ایک دھریجہ خاندان کی لڑکی سے شادی کی، اور ان کی وجہ سے علاقے کا نام "لوہے صاحبان" ہو گیا۔ ان کی مزار آج بھی ادلپور گاؤں میں موجود ہے اور زائرین کی زیارت گاہ ہے۔ کچھ مورخین، جیسے مرزا کلیچ بیگ، کے مطابق گھوٹکی کی موجودہ بنیاد 1447 عیسوی میں پیر محسن شاہ نے رکھی، جنہوں نے یہاں ایک شاندار مسجد بھی تعمیر کی۔


برطانوی دور میں، 1843 عیسوی میں سندھ کی فتح کے بعد، گھوٹکی شکارپور کلیکٹریٹ کا حصہ بنا۔ برطانویوں نے غوٹہ قبائلی سرداروں کو ان کی وفاداری کے بدلے زرخیز زمینیں عطا کیں، جس سے علاقے کی ترقی ہوئی۔ 1947 کی تقسیم کے وقت گھوٹکی سکھر ضلع کا تحصیل تھا، اور 1993 میں اسے ضلع کا درجہ دیا گیا، جس کا صدر مقام میرپور مٹھیلو ہے۔


گھوٹکی کی تاریخ میں کئی سلطنتوں کا اثر رہا، جیسے سمیڑا (1024-1351)، ارغون (1520-1650)، کلہوڑا اور تالپور (1783-1843)۔ آج یہ شہر کھجور کے باغات، تاریخی مسجد جامع (1732 میں تعمیر شدہ) اور مومل جی ماری جیسے مقامات کے لیے مشہور ہے، جو علاقے کی ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتے ہیں۔

No comments:

Facebook