تعارف
ڈہرکی، سندھ صوبہ کے ضلع گھوٹکی کا ایک اہم شہر اور تحصیل ہے، جو دریائے سندھ کے قریب واقع ہے۔ یہ شہر اپنی قدیم تاریخ، قبائلی روایات اور جدید صنعتی ترقی کے لیے مشہور ہے۔ ڈہرکی کا نام ڈہر (یا دہر) قبیلے سے منسوب ہے، جو سندھ کے ایک پرانے سندھی سماٹ قبیلے کا حصہ ہے۔ یہ شہر سکھر سے تقریباً 100 کلومیٹر دور، میرپور ماتھیلو اور اوبراو کے درمیان واقع ہے اور ایک اہم تجارتی اور صنعتی مرکز کے طور پر ابھرا ہے۔ اس مضمون میں ڈہرکی کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے گا، جو وادی سندھ کی تہذیب سے لے کر آج تک پھیلی ہوئی ہے۔
قدیم دور اور بنیاد
ڈہرکی کی تاریخ بہت قدیم ہے اور اس کی جڑیں وادی سندھ کی ہڑپہ تہذیب (تقریباً 2500-1700 قبل مسیح) تک جاتی ہیں۔ آثار قدیمہ کے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ یہ علاقہ زراعت، تجارت اور دریائی راستوں کا مرکز رہا ہے۔ دریائے سندھ کی وجہ سے یہاں انسانی بستیوں کی ابتداء ہوئی، جو آج بھی اس کی مٹی میں دفن ہے۔
ساتویں صدی عیسوی میں، راجہ دہیر (663-712 عیسوی) کے دور میں، جو سندھ کے آخری ہندو حکمران تھے، یہ علاقہ برہمن خاندان کے زیر اثر تھا۔ راجہ دہیر کے رشتہ دار، راجہ ابن سلاج برہمن کے سفیر جنرل ہتھ سام نے 637 عیسوی (ہجرت کا 15 واں سال) میں گھوٹکی کی بنیاد رکھی، جو ڈہرکی کا حصہ ہے۔ یہ ایک فوجی کیمپ تھا جو عرب مسلمان فوج کو شکست دینے کے بعد قائم کیا گیا۔ بعد میں یہ کیمپ ایک گاؤں میں تبدیل ہوا، لیکن دریائے سندھ کی تبدیلی کی وجہ سے خالی ہو گیا۔ 695 عیسوی میں ماہی گیروں نے دوبارہ اسے آباد کیا اور "میانی" کا نام دیا، مگر یہ بھی ترک ہو گیا۔
اسلامی فتح اور قبائلی ترقی
711 عیسوی میں اموی خلیفہ کے جرنیل محمد بن قاسم نے سندھ پر حملہ کیا اور راجہ دہیر کو شکست دے کر ڈہرکی سمیت پورے علاقے کو فتح کر لیا۔ یہ فتح سندھ کی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھی، جس نے علاقے میں اسلام کی آمد کا آغاز کیا۔ فتح کے بعد، راجہ دہیر کے ہندو نسل سے تعلق رکھنے والے غوٹ ابن سمد ابن پٹیل نے علاقے میں آبادکاری کی۔ غوٹ نے عرب اثر کے تحت اسلام قبول کیا اور ایک مسلمان خاتون سے شادی کی، جس سے غوٹہ قبیلہ وجود میں آیا۔ عربوں نے غوٹہ قبیلے کو جاغیروں سے نوازا اور گاؤں کا نام "دھر والی" رکھا، جو بعد میں "لوہِ صاحباں" بن گیا۔
وسطی دور میں، 12ویں اور 13ویں صدی میں، راجستھان سے ہجرت کرنے والے شار اور میمن قبائل نے ڈہرکی کو ایک دفاعی اور تجارتی چوکی بنا دیا۔ شار قبیلہ، جو جنگجوؤں کے لیے مشہور تھا، نے قلعے اور آبپاشی کے نظام قائم کیے۔ یہ دور قبائلی حکمرانی کا تھا، جہاں مقامی سردار علاقے کی حفاظت اور تجارت سنبھالتے تھے۔ بغداد سے آنے والے بزرگ سید مبارک شاہ جیلانی بغدادی جیسے صوفیاء نے بھی یہاں کی ثقافت کو متاثر کیا۔
نوآبادیاتی دور
برطانوی دور (1847 میں سندھ کی فتح کے بعد) میں ڈہرکی بمبئی پریذیڈنسی کا حصہ بنا۔ برطانویوں نے غوٹہ قبائلی سرداروں کو زرخیز زمینیں دیں تاکہ وفاداری حاصل کریں۔ یہاں کی آبیاری نے کاٹن اور انڈیگو کی تجارت کو فروغ دیا، اور ریلوے لائن کی تعمیر سے سکھر جیسے شہروں سے رابطہ مضبوط ہوا۔ یہ ترقی نے ایک چھوٹے سے گاؤں کو شہر کی شکل دی۔
جدید دور اور صنعتی انقلاب
1947 میں پاکستان کی آزادی کے بعد، ڈہرکی ایک صنعتی مرکز بن گیا۔ 20ویں صدی میں تھرمل پاور پلانٹس، سیمنٹ فیکٹریاں اور تیل و گیس کی تلاش نے اسے تبدیل کر دیا۔ آج یہ او ای جی ڈی سی، انگرو کیمیکلز اور فوجی فرٹیلائزرز جیسے اداروں کا گھر ہے۔ کپاس، گندم، چینی اور چاول کی پیداوار اس کی معیشت کی بنیاد ہے۔
سکھ اور ہندو برادریاں بھی یہاں آباد ہیں، جہاں 200 سے زائد سکھ خاندان رہتے ہیں، جو سندھ میں ایک منفرد مثال ہے۔ بھرچنڈی شریف کا مزار اور گرودوارہ نانک جیسے مقامات ثقافتی تنوع کو ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم، حالیہ برسوں میں مذہبی تنازعات اور اغوا جیسے مسائل نے چیلنجز پیدا کیے ہیں۔
اختتام
ڈہرکی کی تاریخ وادی سندھ کی عظمت، اسلامی فتح، قبائلی مزاحمت اور جدید ترقی کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ شہر نہ صرف ماضی کی یادگار ہے بلکہ مستقبل کی امید بھی۔ اس کی حفاظت اور ترقی سندھ کی مجموعی تاریخ کا حصہ ہے۔
.jpeg)

No comments: