_seo-verification:4bc3407b9d3078c330cf0aa334995f0243b21d6b2d88f58788cb69b389c4db9f شہید نصر اللہ گڈانی: سندھ کی سچائی کی آواز اور جاگیردارانہ نظام کے خلاف جدوجہد کا نشان - Apna Ghotki

شہید نصر اللہ گڈانی: سندھ کی سچائی کی آواز اور جاگیردارانہ نظام کے خلاف جدوجہد کا نشان

 شہید نصر اللہ گڈانی: سندھ کی سچائی کی آواز اور جاگیردارانہ نظام کے خلاف جدوجہد کا نشان



سندھ کی سرزمین، جو ہمیشہ سے مزاحمت اور سچائی کی علامت رہی ہے، اس کی حفاظت کے لیے کئی ایسے بہادر لوگ پیدا ہوئے ہیں جو اپنی جانیں قربان کر گئے۔ ان میں سے ایک نمایاں نام شہید نصر اللہ گڈانی کا ہے، جو ایک ایسے صحافی اور سماجی کارکن تھے جنہوں نے جاگیردارانہ نظام، کرپشن اور مظالم کے خلاف آواز اٹھائی۔ 1984ء میں پیدا ہونے والے نصر اللہ گڈانی نے اپنی مختصر مگر اثر انگیز زندگی میں سندھ کے غریبوں کی آہ اور بے ضابطگیوں کی داستان بیان کی۔ 24 مئی 2024ء کو کراچی میں شہید ہونے والے ان کی شہادت نے نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کو جھنجھوڑ دیا، اور ان کی جدوجہد کو ایک تحریک کی شکل دے دی۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم
نصر اللہ گڈانی 1984ء میں سندھ کے ضلع گھوٹکی کے قریب میرپور ماتھیلو کے گاؤں قبول گڈانی میں ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کی فیملی کی معاشی حالت نہایت خراب تھی، جس کی وجہ سے انہیں اعلیٰ تعلیم حاصل نہ ہو سکی اور صرف بنیادی تعلیم تک محدود رہ گئی۔ غربت اور جاگیردارانہ نظام کی سختیوں نے ان کی شخصیت کو مزاحم بنایا، اور بچپن سے ہی انہوں نے سماجی ناانصافیوں کا سامنا کیا۔ یہ تجربات ہی تھے جنہوں نے انہیں صحافت کی طرف راغب کیا، جہاں وہ اپنے لوگوں کی آواز بن سکتے تھے۔
صحافتی کیریئر اور سرگرمیاں
نصر اللہ گڈانی نے اپنا صحافتی سفر سندھی زبان کے روزنامہ 'اوامی آواز' سے شروع کیا، جہاں وہ اپنی موت تک وابستہ رہے۔ وہ یوٹیوب پر لائیو براڈکاسٹنگ بھی کرتے تھے، جس سے وہ اسپاٹ رپورٹنگ کر کے لوگوں تک براہ راست پہنچتے۔ ان کی رپورٹنگ کا مرکزی موضوع سندھ میں جاگیردارانہ بالادستی کے خلاف جدوجہد تھا۔ وہ تعلیم تک رسائی، جاگیرداری نظام کا خاتمہ اور ماحولیاتی تحفظ جیسے مسائل پر کام کرتے۔
2022ء کے پاکستان سیلاب کے دوران ان کی ایک لائیو براڈکاسٹ مشہور ہوئی، جہاں وہ اپنی موٹر سائیکل پر پانی بھری سڑکوں سے گزرتے ہوئے لوگوں کی حالت زار دکھاتے رہے۔ ان کی موٹر سائیکل پر درج نعرہ "بھوٹار، مائی فُٹ" (سندھی میں "ڀوتار مائي فٽ!") سندھی سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر گیا، جو جاگیرداروں کی بالادستی پر طنز تھا۔ اسی طرح، انہوں نے مقامی ایم پی شاہباز لنڈ کے بیٹے کو پولیس پروٹوکول دینے کے معاملے کو ایکسپوز کیا۔ وہ موٹر کیڈ کی طرف سے گزرتے ہوئے سوالات کرتے رہے، جس پر لنڈ کے محافظوں نے ان پر فائرنگ کی مگر وہ بچ نکلے۔ مئی 2023ء میں انہیں ایک مقامی جج کی کرپشن ایکسپوز کرنے پر گرفتار کیا گیا، لیکن صحافیوں کی ایک علاقائی تنظیم کی مداخلت سے رہا ہو گئے۔ ان کی یہ سرگرمیاں انہیں جاگیرداروں اور بااثر شخصیات کی آنکھوں میں کانٹا بنا دیں۔
شہادت: ایک دردناک واقعہ
21 مئی 2024ء کی صبح، جب نصر اللہ گڈانی اپنی موٹر سائیکل پر میرپور ماتھیلو پریس کلب (جس کے صدر وہ تھے) جارہے تھے، تو تین مسلح افراد نے کار سے ان پر حملہ کر دیا۔ ان پر سینہ اور پیٹ میں تین گولیاں ماری گئیں۔ مقامی ہسپتال میں ایمرجنسی ایڈ دی گئی، پھر انہیں پنجاب کے شيخ زايد ہسپتال منتقل کیا گیا، اور آخر میں کراچی کے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال ایئرلفٹ کیا گیا۔ شدید زخموں کی وجہ سے 24 مئی 2024ء کو 40 سال کی عمر میں وہ شہید ہو گئے۔
ان کی لاش کو ایمبولینس سے گھر واپس لایا گیا، جہاں راستے میں طلبہ اور عوام نے گلاب کی پتیوں سے ان کی عزت کی۔ ہزاروں لوگوں نے ان کی نماز جنازہ ادا کی، اور وہی دن انہیں دفنایا گیا۔ یہ شہادت گزشتہ چار سالوں میں سندھ میں مارے گئے 13ویں صحافی کی تھی، جو پاکستان میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔
تحقیقات اور خاندان کی جدوجہد
شہادت کے فوراً بعد نصر اللہ کے خاندان، بشمول ان کی والدہ اور قریبی رشتہ داروں، نے مقامی ایم پی خالد خان لنڈ اور ان کے بیٹوں، شہر کے میئر شاہباز لنڈ اور نور محمد لنڈ پر الزام لگایا کہ انہوں نے قتل کا حکم دیا تھا۔ خاندان کا کہنا تھا کہ پولیس نے بااثر ہونے کی وجہ سے ان کے نام فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) میں شامل نہ کیے، کیونکہ لنڈ فیملی حکمران پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ ہے۔ خاندان نے قتل کے 40 دن بعد اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔
1 جون 2024ء کو مقامی کارکنوں نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دی کہ عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے، کیونکہ سرکاری تحقیقات پر اعتماد نہیں۔ 10 جون 2024ء کو سندھ پولیس نے ایک ملزم اسغر لنڈ کو گرفتار کیا اور قتل کا ہتھیار برآمد ہوا۔ مزید تین ملزمان کو کمال لونڈ سے گرفتار کیا گیا۔ تاہم، تحقیقات ابھی جاری ہیں، اور خاندان کی جدوجہد انصاف کے لیے جاری ہے۔
وراثت: ایک تحریک کی بنیاد
شہید نصر اللہ گڈانی کی شہادت نے سندھ میں صحافیوں اور عوام میں غم و غصہ کی لہر دوڑا دی۔ ان کی آواز کو "سچائی کا شہید" کہا جاتا ہے، اور میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ یہ قتل سندھ میں جاگیرداری کے خلاف ایک تحریک کو جنم دے سکتا ہے۔ ان کی جدوجہد نے نئی نسل کو متاثر کیا ہے، جو اب "بھوٹار، مائی فُٹ" کے نعرے کو مزاحمت کی علامت بنا رہی ہے۔ آج جب کہ صحافیوں پر حملے بڑھ رہے ہیں، نصر اللہ گڈانی کی کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سچائی کی قیمت کتنی ہوتی ہے۔ ان کی شہادت سندھ کی آزادی اور انصاف کی جدوجہد کا حصہ بن چکی ہے، اور ان کی یاد ہمیشہ زندہ رہے گی


No comments:

Facebook