پروفیسر عبدالحفیظ دایو — علم، عمل اور انسانیت کا روشن چراغ
سندھ کی سرزمین ہمیشہ علم و ادب کے متوالوں اور ایسے اساتذہ سے زرخیز رہی ہے جنہوں نے محض کتابی علم نہیں دیا بلکہ نسلوں کے شعور، اخلاق اور کردار کو بھی سنوارا۔ انہی درخشاں ناموں میں سے ایک نام ہے پروفیسر عبدالحفیظ دایو کا — جو ضلع گھوٹکی میں تعلیمی میدان کے نمایاں رہنما اور گورنمنٹ ڈگری کالج گھوٹکی کے قابلِ فخر پرنسپل ہیں۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم
پروفیسر عبدالحفیظ دایو کا تعلق ایک علم دوست اور باوقار خاندان سے ہے۔ بچپن سے ہی اُن میں علم حاصل کرنے اور دنیا کو سمجھنے کا تجسس نمایاں تھا۔ اسکول اور کالج کے دور میں وہ بہترین طالبِ علم ہونے کے ساتھ ساتھ تقریری و ادبی سرگرمیوں میں بھی پیش پیش رہے۔ بعد ازاں انہوں نے سندھ یونیورسٹی جامشورو سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی، جہاں ادب، تحقیق اور تعلیم کے اوصاف نے اُن کی شخصیت کو مزید نکھارا۔
تدریسی زندگی
تعلیم مکمل کرنے کے بعد پروفیسر دایو نے تدریس کو اپنی عملی زندگی کا مشن بنایا۔ اُن کے نزدیک استاد ہونا صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک مقدس فریضہ ہے۔ اُن کا ماننا ہے کہ:
> “استاد وہ ہے جو ذہنوں میں علم کی روشنی کے ساتھ انسانیت کے چراغ بھی روشن کرے۔”
گھوٹکی جیسے نسبتاً پسماندہ علاقے میں پروفیسر دایو نے تعلیم کو فروغ دینے کے لیے انتھک جدوجہد کی۔ اُن کی محنت، نظم و ضبط اور طلبہ سے محبت نے اُنہیں ایک محبوب استاد بنا دیا۔ اُن کے کلاس روم میں علم کے ساتھ تربیت، اور تعلیم کے ساتھ اخلاق کا درس بھی ملتا ہے۔
تعلیمی قیادت اور نظم و نسق
جب انہیں گورنمنٹ ڈگری کالج گھوٹکی کا پرنسپل مقرر کیا گیا، تو ادارے میں نئی روح دوڑ گئی۔ انہوں نے انتظامی ذمہ داریاں سنبھالتے ہوئے بھی تدریس کا عمل جاری رکھا، تاکہ طلبہ کو یہ احساس ہو کہ علم محض حکم سے نہیں بلکہ عمل سے پھیلتا ہے۔ اُن کی نگرانی میں کالج میں لائبریری کے فروغ، ثقافتی سرگرمیوں کے انعقاد، اور طلبہ کی فلاح کے لیے کئی اقدامات کیے گئے۔
فکری و ادبی رجحان
پروفیسر عبدالحفیظ دایو کی شخصیت میں ایک فکری اور ادبی جھکاؤ نمایاں ہے۔ وہ ادب کو انسان کی روح کا آئینہ سمجھتے ہیں۔ سندھی، اردو اور انگریزی ادب پر گہری نظر رکھتے ہیں، اور کئی علمی و تحقیقی نشستوں میں مقالات پیش کر چکے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ:
> “تعلیم کا مقصد نوکری نہیں بلکہ فکر کی آزادی اور معاشرے کی بہتری ہے۔”
سماجی خدمات
علمی خدمات کے ساتھ ساتھ پروفیسر دایو فلاحی اور سماجی سرگرمیوں میں بھی سرگرم ہیں۔ وہ مختلف طلبہ اسکالرشپ پروگرامز اور تعلیمی معاونت کے منصوبوں سے وابستہ ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی باصلاحیت طالبِ علم صرف غربت کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہے۔
شخصیت اور فکر
پروفیسر عبدالحفیظ دایو ایک متوازن، نرم گفتار اور دیانتدار شخصیت کے مالک ہیں۔ اُن کی زندگی سادگی، اصول پسندی اور علم دوستی سے مزین ہے۔ طلبہ اُنہیں صرف ایک استاد نہیں بلکہ ایک رہنما، مشیر اور مخلص دوست کے طور پر دیکھتے ہیں۔
اختتامیہ
پروفیسر عبدالحفیظ دایو اُن روشن دماغ اساتذہ میں سے ہیں جنہوں نے علم کو عبادت اور تدریس کو خدمت سمجھا۔ اُن کی زندگی کا ہر لمحہ علم، عمل اور انسانیت کی خوشبو سے معطر ہے۔ گھوٹکی جیسے علاقے میں اُن کی موجودگی ایک نعمت سے کم نہیں — وہ یقیناً سندھ
کے تعلیمی افق پر ایک تابناک ستارہ ہیں۔


No comments: