_seo-verification:4bc3407b9d3078c330cf0aa334995f0243b21d6b2d88f58788cb69b389c4db9f سردار غلام محمد خان مہر: ایک عظیم قبیلائی سردار، سیاستدان اور خَیر خَواہ - Apna Ghotki

سردار غلام محمد خان مہر: ایک عظیم قبیلائی سردار، سیاستدان اور خَیر خَواہ

 سردار غلام محمد خان مہر: ایک عظیم قبیلائی سردار، سیاستدان اور خَیر خَواہ

File photo of Sardar Ghulam Muhammad Khan Mahar

تعارف

سردار غلام محمد خان مہر (اردو: سردار غلام محمد خان مہر) سندھ، پاکستان کے مہر قبیلے کے ایک ممتاز سردار، سیاستدان اور خَیر خَواہ شخصیت تھے۔ وہ سکھر ضلع سے تعلق رکھتے تھے اور اپنی مَیشہور مہمان نوازی کی وجہ سے مشہور تھے۔ مہر قبیلہ، جو سندھی سَمّات کا حصہ ہے، سندھ اور پنجاب کے علاوہ بھارت کے راجستھان میں بھی پایا جاتا ہے۔ سردار غلام محمد خان مہر نے اپنی زندگی میں قبیلائی رہنمائی، سیاسی جدوجہد اور سماجی بہبود کے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ وہ 21 سال کی کم عمری میں مہر قبیلے کے سردار بنے اور 1964 سے 1995 تک سیاست میں فعال رہے۔ ان کی وفات 9 اپریل 1995 کو ہوئی، لیکن آج بھی ان کی یاد تازہ ہے اور ان کے نام پر کئی ادارے قائم ہیں۔

ابتدائی زندگی اور قبیلائی پس منظر

سردار غلام محمد خان مہر کا تعلق مہر قبیلے کے خانیہ خاندان سے تھا، جو خنگڑ شریف (سکھر ضلع) میں مقیم ہے۔ مہر قبیلہ سندھی لوگوں سے جڑا ہوا ہے اور سندھی بولتا ہے۔ یہ قبیلہ تھر صحرا، جھمشورو اور سندھ کے بیشتر حصوں میں رہائش پذیر ہے۔ مہر قبیلے کی تاریخ برطانوی راج کے خلاف جدوجہد سے جڑی ہوئی ہے، جہاں انہوں نے ہڑ مجاہدین کے طور پر آزادی کی تحریک میں حصہ لیا۔ قبیلے کا سرداری نظام مضبوط ہے اور یہ سیاسی طور پر بااثر ہے۔

سردار غلام محمد خان مہر نے اپنی ابتدائی زندگی میں قبیلائی روایات اور قیادت کی تربیت حاصل کی۔ 21 سال کی عمر میں وہ مہر قبیلے کے سردار بن گئے، جو ان کی قائدانہ صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔ انہوں نے قبیلے کی اکائی کو مضبوط بنایا اور علاقائی مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی مہمان نوازی کی شہرت سکھر اور آس پاس کے علاقوں میں مشہور تھی، جو سندھی کلچر کی ایک اہم خصوصیت ہے۔

سیاسی کیریئر

سردار غلام محمد خان مہر کی سیاسی زندگی 1964 میں شروع ہوئی جب وہ پاکستان کی قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ انہوں نے مختلف ادوار میں متعدد اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں:

1964: قومی اسمبلی کے رکن منتخب۔

1973: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی جانب سے سینیٹر منتخب۔

1977: پی پی پی کے امیدوار کے طور پر NA-152 سکھر II سے قومی اسمبلی کا الیکشن جیتا۔

1979-1983: سکھر ضلع کونسل کے چیئرمین رہے۔

ذوالفقار علی بھٹو دور: زراعت کے وزیر رہے، جب جنرل محمد ضیاء الحق مارشل لا ایڈمنسٹریٹر تھے۔

1985: آزاد امیدوار کے طور پر جنرل الیکشن جیتا۔

1986-1988: وزیراعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ میں 22 دسمبر 1986 سے 29 مئی 1988 تک صحت کے ریاستی وزیر رہے۔

1988: جنرل ضیاء الحق کے بعد کے الیکشن میں پی پی پی کے امیدوار میاں عبدالحق (میاں متھو) سے ہار گئے۔

1993: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کے طور پر NA-152 سے اکتوبر 1993 کے جنرل الیکشن جیتا۔

ان کی سیاسی جدوجہد 1964 سے 1995 تک جاری رہی، اور وہ کئی بار وفاقی وزیر بھی بنے۔ انہوں نے سندھ کی مقامی سیاست کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور قبیلائی سیاست کو قومی سطح پر لے گئے۔

خَیر خَواہ کام اور شراکت

سردار غلام محمد خان مہر صرف ایک سیاستدان ہی نہیں بلکہ ایک بڑے خَیر خَواہ بھی تھے۔ ان کی فلاحی خدمات کی وجہ سے سکھر میں غلام محمد مہر میڈیکل کالج ان کے نام سے قائم ہے، جو علاقے کے لوگوں کو اعلیٰ تعلیم اور طبی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، والو مہر میں SGM شوگر مل بھی ان کے نام پر ہے، جو مقامی معیشت کو سہارا دیتی ہے۔

ان کی فلاحی سرگرمیاں قبیلائی اور علاقائی ترقی پر مرکوز تھیں، جن میں تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع شامل تھے۔ حجِ اکبر کی تکمیل پر انہیں "الحاج" کا لقب ملا، جو ان کی مذہبی وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔ اسلام ان کی زندگی کا بنیادی ستون تھا، اور وہ اپنے قبیلے کو اسلامی اقدار کی روشنی میں رہنمائی کرتے تھے۔

خاندان اور جانشینی

سردار غلام محمد خان مہر کے بڑے بیٹے سردار محمد بخش خان مہر مہر قبیلے کے موجودہ سردار ہیں۔ محمد بخش خان مہر سندھ اسمبلی اور قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں اور موجودہ وقت میں بھی فعال سیاستدان ہیں۔ خاندان خنگڑ شریف، خانپور مہر، ضلع گھوٹکی میں مقیم ہے۔ ان کے دوسرے بیٹوں میں علی محمد خان مہر (سابق وزیراعلیٰ سندھ، وفات 2019) اور دیگر شامل ہیں، جو خاندانی روایات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

وراثت اور یاد

سردار غلام محمد خان مہر کی وفات 9 اپریل 1995 کو ہوئی، لیکن ان کی خدمات آج بھی زندہ ہیں۔ 2025 میں بھی سوشل میڈیا پر ان کی یاد منائی جاتی ہے، جہاں لوگ ان کی عاجزی، مہربانی اور وقار کی تعریف کرتے ہیں۔ مہر قبیلہ، جو درجنوں ذیلی قبائل پر مشتمل ہے (جیسے انصانی، باکھرانی، چھپڑا وغیرہ)، ان کی قیادت کو ایک سنہری دور سمجھتا ہے۔ ان کی زندگی قبیلائی اتحاد، سیاسی استحکام اور سماجی بہبود کی مثال ہے۔

سردار غلام محمد خان مہر جیسی شخصیات نایاب ہوتی ہیں، جو اپنے قبیلے، علاقے اور ملک کی خدمت میں زندگی گزارتی ہیں۔ ان کی یاد ہمیشہ زندہ رہے گی۔

No comments:

Facebook