_seo-verification:4bc3407b9d3078c330cf0aa334995f0243b21d6b2d88f58788cb69b389c4db9f میرپور ماتھیلو شہر تاریخی پس منظر میں - Apna Ghotki

میرپور ماتھیلو شہر تاریخی پس منظر میں

 میرپور ماتھیلو، جو سندھ صوبے کے ضلع گھوٹکی کا صدر مقام ہے، سندھ کی قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ اس کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے اور یہ مختلف سلطنتوں، قبائل اور ثقافتوں کا مرکز رہا ہے۔ شہر کا نام "میرپور ماتھیلو" ممکنہ طور پر مقامی قبائلی سرداروں یا علاقائی خصوصیت سے منسوب ہے، جبکہ اس کی بنیاد اور ابتدائی آبادکاری رائے خاندان کے دور سے جڑی ہوئی ہے۔



قدیم ترین آثارِ قدیمہ کی بنیاد پر، میرپور ماتھیلو کا علاقہ تقریباً 590 عیسوی میں رائے دیش کی سلطنت کے دورِ حکومت میں، رائے سہاسی دوم کے زمانے میں آباد تھا۔ اس دور میں راجہ نند پرمار (راجپوت کاکن ریاست کے) نے اپنی بیٹی مومل کے لیے ایک شاندار محل تعمیر کروایا، جو آج "مومل جی ماری" کے نام سے مشہور آثارِ قدیمہ کی جگہ ہے۔ یہ محل ایک اونچے ٹیلے پر بنایا گیا تھا، جو تقریباً 3 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے، اور اس کی دیواریں پکی اور کچی اینٹوں سے بنی ہوئی تھیں۔ کھدائیوں میں مٹی کے کھلونے، برتنوں کے ٹکڑے اور دیگر اشیاء ملی ہیں، جو علاقے کی ثقافتی ترقی کی عکاسی کرتے ہیں۔ مومل جی ماری کی کہانی سندھی شاعری اور لوک داستانوں میں مشہور ہے، جہاں مومل (ہندو راجپوت خاتون) اور رانا (سوہڑو قبیلے سے تعلق رکھنے والا) کی محبت کی ایک المناک داستان بیان کی جاتی ہے، جو بعض مورخین سومیڑا خاندان (1025-1351 عیسوی) سے جوڑتے ہیں۔ یہ مقام میرپور ماتھیلو سے تقریباً 8 کلومیٹر دور واقع ہے اور سندھ حکومت کی آثارِ قدیمہ محکمہ نے یہاں ایک ثقافتی کمپلیکس بھی تعمیر کیا ہے۔


سومیڑا خاندان کے دور میں (1025-1351 عیسوی)، میرپور ماتھیلو علاقہ سومیڑا حامی قبائل کی آبادکاری کا مرکز بنا۔ سما، سوہڑو، چنا، پنہواڑ، گوجر، بھٹی، جریجہ، تہیم، گہا، تونر، بران، جونجا، راجر، راجپار اور کچھیلیا جیسے قبائل کو یہاں سے واگہ کوٹ تک کی زرعی زمینوں پر آباد کیا گیا۔ یہ قبائل سومیڑا سلطنت کو خراج اور فوجی مدد فراہم کرتے تھے، جبکہ ان کی اندرونی خودمختاری برقرار رہی۔ سومیڑا حکمرانوں نے غزنوی حملہ آوروں (1027-28 عیسوی) اور غوریوں (1176 عیسوی) کے خلاف مزاحمت کی، جس میں میرپور ماتھیلو سے شروع ہونے والی قبائلی سلطنتوں نے اہم کردار ادا کیا۔ یہ علاقہ سندھ کی آزادی کی جدوجہد کا حصہ بنا اور سلطنت کی معاشی اور فوجی طاقت کو مضبوط کیا۔


15ویں صدی عیسوی میں، گوجر راجپوت قبیلے سے تعلق رکھنے والے راجہ نند نے بالائی سندھ پر حکمرانی کی اور میرپور ماتھیلو کو اپنا دارالحکومت بنایا۔ یہ دور علاقے کی مزید ترقی کا باعث بنا، جہاں زراعت اور تجارت کو فروغ ملا۔ بعد میں، ارغون (1520-1650)، کلہوڑا (1657-1783) اور تالپور (1783-1843) خاندانوں کے ادوار میں یہ علاقہ ان کی سلطنتوں کا حصہ رہا۔ برطانوی دور (1843 کے بعد) میں، سندھ کی فتح کے بعد، یہ شکارپور کلیکٹریٹ کا حصہ بنا اور زرعی ترقی کو فروغ دیا گیا۔


1947 کی تقسیمِ ہند کے بعد، میرپور ماتھیلو سکھر ضلع کا حصہ بنا۔ 1993 میں گھوٹکی ضلع کی تشکیل کے ساتھ یہ ضلع کا صدر مقام قرار پایا۔ جدید دور میں، شہر کی ترقی صنعتی انقلاب سے جڑی ہے؛ 2002 میں فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ کا پلانٹ قائم ہونے سے روزگار اور معاشی خوشحالی بڑھی۔ آج یہ پاکستان کا 97واں سب سے بڑا شہر ہے، جہاں آبادی 2017 کی مردم شماری کے مطابق 3 لاکھ 27 ہزار سے زائد ہے، اور معیشت زراعت (گندم، چاول، کاٹن، کیلے، آم اور کھجوریں) پر مبنی ہے۔ شہر میں تاریخی شادانی دربار، سنت سید انوار شاہ (جھنپور شریف) اور سید جلیل شاہ بخاری کی مزار جیسے مذہبی مقامات بھی موجود ہیں، جو صوفیانہ روایات کی عکاسی کرتے ہیں۔


میرپور ماتھیلو کی تاریخ سندھ کی قدیم تہذیبوں، قبائلی مزاحمت اور جدید صنعتی ترقی کی ایک زندہ تصویر پیش کرتی ہے، جو اسے ایک اہم ثقافتی اور تاریخی مرکز بناتی ہے۔

No comments:

Facebook