_seo-verification:4bc3407b9d3078c330cf0aa334995f0243b21d6b2d88f58788cb69b389c4db9f امیر بخاری- سندھ کی صحافت اور ادب کا منفرد کردار - Apna Ghotki

امیر بخاری- سندھ کی صحافت اور ادب کا منفرد کردار

 سندھ کی صحافتی اور ادبی سمت کو نیا موڑ دینے والے امیر بخاری کی زندگی پر مفصل مضمون

File photo of Ameer Bukhari

سید امیر بخاری (اصل نام: امیر علی شاہ، والد: جعفر علی شاہ) سندھی ادب کے ایک ممتاز شاعر، لکھاری، صحافی اور کالم نگار تھے۔ وہ گھوٹکی ضلع کے مشہور شاعر کے طور پر جانے جاتے ہیں اور ان کی تخلیقات میں نثر اور نظم دونوں شامل ہیں۔

پیدائش اور ابتدائی زندگی

امیر بخاری کا جنم 1 دسمبر 1941 کو سندھ کے ضلع گھوٹکی کی تحصیل کے گاؤں بیرڑی بخارا (ماٹھیلو کے قریب، مومل جی ماڑی) میں ہوا۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مقامی سطح پر حاصل کی اور بعد میں سندھی فائنل کے ساتھ میٹرک، عادل فاضل سندھی، عادل فاضل اردو اور انٹر ڈرائنگ کی تعلیم مکمل کی۔

کیریئر

وہ طویل عرصے تک پرائمری اسکول میں استاد رہے۔ 1965 سے لکھنا شروع کیا اور ان کی تحریریں سندھی، اردو، سرائیکی اور پنجابی زبانوں میں شائع ہوتی رہیں۔ ان کے استادوں میں مرحوم رشید احمد لاشاری، سردار علی شاہ اور مخدوم غلام محمد امیر شامل تھے۔ صحافت کے شعبے میں ان کا کردار بھی اہم تھا؛ انہوں نے گھوٹکی میں کئی صحافی تیار کیے، جن میں جوترام، الہیارو بوزدار اور دیگر شامل ہیں جو آج بھی صحافتی دنیا میں فعال ہیں۔ انہیں سندھی ادب میں عوامی اور بے باک لکھاری کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

ادبی خدمات

ان کی شاعری اور نثر میں مختلف موضوعات پر کام شامل ہے۔ ان کی زندگی کے آخر تک 7 کتابیں شائع ہو چکی تھیں، جن میں ایک کہانیوں کا مجموعہ بھی شامل ہے۔ ان کی تحریریں مقبول تھیں اور سندھی ادب میں ان کا مقام مستحکم ہے۔ تاہم، کوئی خاص ایوارڈ کا ذکر دستیاب ذرائع میں نہیں ملا۔


وفات

آخری برسوں میں انہیں فالج کا حملہ ہوا، جس کی وجہ سے کئی سال تک بیماری کا سامنا رہا۔ بالآخر 25 جنوری 2007 کو ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کی وفات کے بعد بھی سندھی ادبی حلقوں میں انہیں خراج تحسین پیش کیا جاتا رہتا ہے، جیسا کہ 2022 میں ان کی 81ویں سالگرہ پر پریس کلب گھوٹکی میں منعقدہ تقریب سے ظاہر ہوتا ہے

No comments:

Facebook