_seo-verification:4bc3407b9d3078c330cf0aa334995f0243b21d6b2d88f58788cb69b389c4db9f Apna Ghotki
Agriculture World March 17, 2026
Read more ...

 صوفی فقیر مختار علی گبول

صوفی فقیر مختار علی گبول

(پیدائش ۲۵ مئی ۱۹۴۹ء — وفات منگل ۱۶ دسمبر ۲۰۰۸ء بمطابق ۱۷ ذوالحج ۱۴۲۹ھ)

(صوفی فقیر، فنکار اور شاعر)

مختار علی ولد لعل محمد خان گبول، گاؤں جانی گبول تعلقہ ڈھرکی میں پیدا ہوئے۔ پرائمری تعلیم سکول نتو گبول سے حاصل کی۔ بچپن سے ہی ان کا رجحان تصوف، فلسفہ، شاعری، اسٹیج ڈراموں اور موسیقی کی طرف تھا۔ موسیقی میں ان کے استاد ان کے والد لعل محمد خان تھے۔ فقیر صاحب کا پر سوز آواز تھا اور گاؤں میں اپنی آستانہ پر آنے والے لوگوں کو ہارمونیم پر بول سنایا کرتے تھے جس کی وجہ سے علاقے میں صوفی فقیر کے طور پر مشہور ہو گئے۔ وہ ریڈیو پاکستان کے سینیئر فنکار تھے۔ نامور براڈ کاسٹر کوثر بڑو، اختر ٹانوری اور دیگر ان کے مداح رہے ہیں۔ ان کے پاس ساری زندگی عام لوگوں کے ساتھ صوفی فقیروں، فنکاروں، سازندوں، شاعروں، ادیبوں، اداکاروں، سیاسی اور سماجی شخصیات کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہا۔ ۳۰ اپریل ۲۰۰۴ء کو شاعر پریم پتافی کی کتاب ”تنھن عشق کي شاباس“ پر یہ لکھا: ”اپنے پسندیدہ ادیب اور شاعر کوثر بڑو کی یہ کتاب، استاد - محترم استاد فقیر مختار علی گبول کے نام جو نوجوانوں کے لیے ایک رہنما اور رہبر کی حیثیت رکھنے والے کلاکار، دانشور اور فقیر ہیں۔ ہمارے لیے ان کی محبتیں حوصلہ افزائی کرنے والی ہیں۔“

ان کے ساتھ طویل عرصے تک موسیقی کی محفلیں سجانے والوں میں سوڈھو گبول، استاد قمبر علی خان، سبزل علی فقیر، محمد عالم گبول، ہادی بخش ملک عرف ٹرڑو فقیر، بلاول شر، لیاقت علی گبول اور دیگر راگی اور سازندے شامل رہے۔

فقیر مختار علی نے لوگوں کی تفریح کے لیے ۱۹۷۰ء کی دہائی میں گاؤں جانی گبول میں کئی اسٹیج ڈرامے کروائے۔ جن میں لیلٰی مجنوں، سسی، پنہوں، عمر ماروی اور دیگر شامل تھے۔ ان تاریخی ڈراموں میں کردار ادا کرنے والوں میں عاشق کانجھوں، مختار مہرانی پتافی، محمد فقیر پتافی، عالم فقیر گبول، عبدالکریم گبول، امام الدین منگھنہار، عمر بخش ملک، اور دیگر شامل ہوتے تھے۔

۱۹۸۰ء کے بعد انہوں نے گاؤں میں کئی اسٹیج شوز کروائے اور ان کی ویڈیو کیسیٹیں ریکارڈ کروائیں۔ اسٹیج پروگراموں میں غلام سرور کوری، عبدالستار منگھنہار، بخت علی بھٹی، حمزو گبول اور دیگر کردار ادا کرتے رہے۔

۲۰۰۴ء سے سرمست ویلفیئر اینڈ کلچرل سوسائٹی ڈھرکی کے تعاون سے گاؤں جانی گبول میں اسٹیج ڈراموں کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ جو کئی سالوں تک جاری رہا۔ ان اسٹیج ڈراموں میں حصہ لینے والے دوستوں میں سید ندیم شاہ، نوبت ڈھر، جاوید جانی کانجھوں، عبداشکور لاڑک، مرتضیٰ سولنگی، ذوالفقار عالمنی، حضور بخش گبول، یار محمد جمالی (منگھو پیر کراچی)، معشوق دایو، محب علی گبول اور دیگر شامل ہوتے تھے۔

فقیر صاحب ساری زندگی راگ ویراگ کی محفلوں اور اسٹیج ڈراموں کے ذریعے امن اور بھائی چارے کا پرچار کرتے رہے۔ وہ ہر قسم کی تفریق کے مخالف تھے۔ نوجوانوں کو منشیات سے پرہیز کرنے، اور مثبت سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے حوصلہ افزائی کا ذریعہ ہوتے تھے۔ فقیر صاحب راگ پر دسترس رکھتے تھے اور باجہ، ڈھولک، چنگ، یکتارو، کی بورڈ، گھڑو، بینجو اور دیگر کئی ساز بجانے کی مہارت بھی رکھتے تھے۔

ایک بار تسلیم کرتے ہوئے تھر کے سازندہ ارجن جوگی نے کہا تھا: ”مختار راگ میں خود مختار فنکار ہے۔ وہ فنکاروں میں منفرد حیثیت رکھتا ہے۔“

چہیو نوشہرو فیروز کے راگی استاد قمبر علی خان جو استاد یاسین خان کے شاگرد اور ریڈیو پاکستان خیرپور کے فنکار تھے، وہ سالہا سال فقیر صاحب کے پاس رہے۔ مختار علی گبول کی آواز میں آڈیو کیسیٹوں کے البم تھر پروڈکشن، دھرتی پروڈکشن اور پارس کمپنی کی جانب سے ریلیز کیے گئے۔ ان کی آواز میں ریکارڈ کیے گئے بول ریڈیو پاکستان خیرپور کی میوزک لائبریری میں محفوظ ہیں۔

وہ درگاہ جہانپور شریف کے سید فقیر حضور بخش شاہ عرف حضورڻ صاحب کے مرید تھے۔ وہ فلسفہ اور تصوف کے جانکار تھے۔ بڑے بڑے فقیر اور فکر والے درویش ان کی اوطاق پر آتے تھے اور وہ فقیر صاحب سے گپ شپ کرکے اپنا روح تسکین دیتے تھے۔

مختار علی گبول نے سنڌی، سرائیکی، بلوچی اور اردو زبانوں میں شاعری کی ہے۔ ان کی شاعری کا نمونہ ذیل میں دیا جاتا ہے:

اسان صوفی شھنشاھ، پنھنجو سڀ سان آھي ٺاھ۔ امن محبت نعرو پنھنجو، رکون چاھت سڀ لاءِ چاھ۔ جاٿي ڪاٿي يار وسي ٿو، سڀ ۾ آھي ھِڪو ساھ۔ ٻيائي کي ٿا ٻوڙي ڇڏيون، آھي رھبر جي اِھا راھ۔ صوفی مختيار راز وڏو آ، جاڏي ڪاڏي ھڪ الله۔ ______××

شبیر حسن گبول

Agriculture World December 12, 2025
Read more ...

علامہ مولانا بہاءُ الدین بہائی پتافی 

نزد کینجھر دادلغاری



دنیا میں بے شمار ایسی عظیم ہستیاں گزری ہیں جنہوں نے اپنی علمی قابلیت کے ذریعے دنیا بھر میں اپنا اور اپنی قوم کا نام روشن کیا۔ انہی ممتاز شخصیات میں ضلع گھوٹکی کی عظیم علمی و روحانی ہستی حضرت مولانا بھاءُ الدین پتافی المعروف ”دادا سائیں“، ”لالڑی“ اور ”ثانی سعدی“ رحمۃُ اللہ علیہ کا نام بھی سرِفہرست اور تاریخ کی روشن سطروں میں درج ہے۔

آپ کی تصنیفات آج بھی ایران جیسے ملک میں درسِ نظامی کے نصاب کے طور پر پڑھائی جاتی ہیں۔ آپ کے علم و فضیلت کو دیکھ کر مرزا قليچ بیگ نے آپ کو اپنی جاگیر سے زمینیں عطا کیں، اور پیر صاحب پاگارو سید حزب اللہ شاہ صاحب مسکین نے پسندیدگی کے اظہار پر اپنا محبوب سواری ’’ہاتھی‘‘ بطور انعام پیش کیا۔ ریاستِ بہاولپور کے حکمرانوں اور پیر صاحب مسکین نے آپ کو کتب کی اشاعت کے لیے ’’الرشدیہ پرنٹنگ پریس‘‘ بھی عطا کی، اور آپ کو بے شمار القاب سے نوازا۔

آپ کی درسگاہ میں بڑے بڑے علما، مشائخ اور بااثر شخصیات حاضر ہو کر دینی تعلیم حاصل کرتے رہے۔ آپ کے خاندان پر پی ایچ ڈی کی سطح کے علمی تحقیقی کام بھی ہو چکے ہیں۔ آپ کی تصنیف ’’کریما بھائی‘‘ جو فارسی زبان میں ہے، آج بھی ایران میں نصابی کتاب کے طور پر پڑھائی جاتی ہے۔ مولانا کے خاندان ’’بھائی‘‘ پر پی ایچ ڈی کا مقالہ بھی لکھا جا چکا ہے۔

آج بھی مولانا کی مزار مبارک، جو مولوی جو گوٹھ میں واقع ہے، پر روزانہ سینکڑوں عقیدت مند اپنی مرادیں لے کر حاضر ہوتے ہیں۔

مولانا صاحب کا مکمل تعارف

اہلِ علم اور مختلف یونیورسٹیوں کے محققین کے مطابق:


اصل نام: مولانا بھاءُ الدین بن مولانا جلال الدین

قبیلہ: پتافی

ولادت: 1823ء مطابق 1239ھ، نصیر کوٹھی، گھوٹکی

آپ والدین کے اکلوتے فرزند تھے۔ بچپن سے نہایت ذہین و فطین تھے۔ ابتدائی تعلیم والدہ محترمہ سے حاصل کی۔ درسِ نظامی، عربی اور فارسی کی تعلیم گھوٹکی میں مولانا سید علی اکبر شاہ جیلانی اور مولانا حسین بخش سے حاصل کی۔

آپ سندھ، اردو، عربی، فارسی اور سرائیکی زبانوں کے ماہر تھے۔


حضرت خضر علیہ السلام سے روحانی علم کا واقعہ


روایت کے مطابق رمضان المبارک میں ایک دن آپ مدرسے میں تدریس میں مشغول تھے کہ ایک بزرگ تشریف لائے اور کھانے کا تقاضا کیا۔ آپ نے فوراً کھانا لا کر پیش کیا۔ بزرگ نے کھانا تناول کرنے کے بعد فرمایا:

میں اللہ کی طرف سے تمہاری مدد کے لیے بھیجا گیا ہوں۔ آج جو مانگنا چاہتے ہو مانگو، تمہاری حاجت پوری کی جائے گی۔”

مولانا رو پڑے اور عرض کی:

“مجھے دنیا کی کسی چیز کی ضرورت نہیں، بس علم چاہیے۔”

بزرگ نے فرمایا:

“اپنی زبان باہر نکالو۔”

آپ نے زبان نکالی، بزرگ نے اپنی انگلی سے لعاب لگا کر آپ کی زبان پر پھیرا اور فرمایا:

“میں تمہیں ایسا خضری علم دے رہا ہوں جو قیامت تک تمہارے خاندان میں رہے گا۔”

اس کے بعد وہ بزرگ غائب ہوگئے اور آواز آئی:

“میں خضر ہوں، ہر وقت سفر میں رہتا ہوں، اللہ کے حکم سے تمہیں یہ روحانی علم عطا کیا ہے۔”

اس دن کے بعد مولانا بھائی وقت کے کامل ولی ہو گئے۔


ہم عصر اولیاء اور حکمران

مولانا کے دوست اور ہم عصر بزرگ یہ تھے:


● پیر صاحب پاگارو سید حزب اللہ شاہ مسکین

● حافظ محمد صدیق بھرچونڈی شریف

● خواجہ غلام فرید کوٹ مٹھن

● مرزا قليچ بیگ

● نائب والی قلات سردار گل محمد خان

● اور دیگر ممتاز علما


بیعت کے لیے جب پیر پاگارو اور حافظ صدیق سئیں کی خدمت میں حاضر ہوئے تو فرمایا گیا:

“آپ خود اللہ کے ولی ہیں، ہم آپ کو بیعت کیسے دیں؟”

بعد ازاں مولانا خواجہ غلام فرید کے پاس گئے۔ اصرار پر خواجہ صاحب نے آپ کو بیعت فرمایا۔


فارسی شعر اور ہاتھی کا انعام


ایک موقع پر پیر صاحب پاگارو نے علما و شعرا سے فارسی شعر لکھوائے، وہاں مولانا نے یہ شعر پیش کیا:


ہست ورد بر زبان حزب اللہ لا الہ الا اللہ


پیر صاحب نے شعر بہت پسند فرمایا اور بطور انعام اپنا ہاتھی عطا کیا۔


وصال


آپ نے 114 سال کی عمر پائی اور 23 شوال 1352ھ، مطابق 10 مئی 1933ء بروز جمعرات اپنے گاؤں مولوی جو گوٹھ میں وصال فرمایا۔ درگاہ آج بھی دادلغاری کے نزدیک واقع ہے جہاں روزانہ لوگ حاضری دیتے ہیں۔


اولاد


آپ کے چھ فرزند تھے، جو سب اپنے وقت کے عالم، شاعر اور مصنف تھے:


1. مولوی محمد یوسف – فارسی کے بڑے عالم


2. مولوی جلال الدین


3. مولوی محمد بخش پتافی (تخلص: خیالی) – فارسی و عربی شاعر


4. فقیر احمد الدین پتافی


5. مولوی محمد اعظم سراجی – فارسی شاعر، خلیفہ حضرت احمد سائیں خانگڑھ شریف


6. مولوی عبدالرحمان ضیائی – فارسی اور سندھی شاعر


ہم عصر علما و شعرا


● پیر صاحب پاگارو سید شمس العلماء مردان شاہ

● مولانا عبدالرحمان سکھر والے

● مولانا عبدالغفور همايونی

● غوث بخش خاڪي، نائب والی قلات

● مرزا قليچ بیگ

● سردار گل محمد زيب


تصنیفات


مولانا کی تقریباً ۱۸ فارسی اور ۴ سندھی تصنیفات موجود ہیں۔ ان میں سے کئی کتابیں ریاستِ بہاولپور کی سرکاری پریس میں شائع ہوئیں۔

پیر صاحب پاگارو نے آپ کو مستقل چھاپہ خانہ ’’مطبعه راشدیہ‘‘ عطا کیا، جہاں سے آپ کی کئی کتابیں شائع ہوئیں۔

Agriculture World December 01, 2025
Read more ...

 جام مہتاب حسین ڈہر: ایک تجربہ کار سیاستدان کی سیاسی زندگی کا جائزہ


جام مہتاب حسین ڈہر، جو پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ایک قدیم اور بااثر رکن ہیں، سندھ کی سیاست میں ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا تعلق گھوٹکی ضلع کے مشہور جام ڈہر خاندان سے ہے، جو جاگیردارانہ نظام اور قبائلی وفاداریوں کی بنیاد پر صوبائی سیاست پر مسلط ہے۔ آپ کی طرف سے دی گئی معلومات — کہ جام مہتاب ڈہر چار مرتبہ منتخب ہوئے ہیں اور سندھ کی کابینہ میں صحت، ریونیو اور تعلیم جیسے اہم محکموں کے وزیر رہے ہیں — ان کی سیاسی کیریئر کی بنیاد ہے۔ تاہم، دستیاب تاریخی اور سرکاری ریکارڈز کی روشنی میں، ان کی منتخب ہونے کی تعداد تین سے چار تک پہنچتی ہے (2002، 2008، 2013، اور ممکنہ طور پر 2024 میں دوبارہ یا متعلقہ حلقہ میں)، جبکہ وزارتوں کی تفصیلات صحت (ہیلتھ اینڈ فوڈ)، ریونیو (ریونیو اینڈ پاپولیشن ویلفیئر)، تعلیم (ایجوکیشن اینڈ لٹریسی)، اور فوڈ کے محکموں پر مبنی ہیں۔ یہ مضمون ان کی سیاسی زندگی، انتخابی کامیابیوں، وزارتوں کے ادوار، تنازعات اور خاندانی سیاست میں کردار کا تفصیلی جائزہ پیش کرے گا، جو گھوٹکی کی مقامی سیاست کی پیچیدگیوں کو اجاگر کرتا ہے۔

ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر

جام مہتاب حسین ڈہر 1 جنوری 1953 کو گھوٹکی ضلع کے تحصیل اوباڑو کے قریب بشیر آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد جام ممتاز حسین خان ڈہر ایک ممتاز جاگیردار اور پی پی پی کے قدیم کارکن تھے، جو خاندان کی سیاسی وراثت کی بنیاد رکھتے تھے۔ خاندان کا تعلق بلوچ قبائل سے ہے، جو سندھ کے شمالی علاقوں میں زرعی جاگیریں اور قبائلی اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ جام مہتاب نے لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (لومہڑز) سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی، جو ان کی ابتدائی کیریئر کو طبی شعبے سے جوڑتی ہے۔ تاہم، سیاست نے ان کی پیشہ ورانہ زندگی پر غلبہ پا لیا، اور وہ 1990ء کی دہائی میں فعال طور پر سامنے آئے۔

ان کی سیاسی تربیت خاندان کے بزرگوں جیسے جام صادق علی (سابق وزیراعلیٰ سندھ) اور جام یوسف سے ملی، جو پی پی پی کی سندھی جاگیرداری کی عمارت کے معمار تھے۔ جام مہتاب نے ابتدائی طور پر مقامی سطح پر کام کیا، جہاں گھوٹکی کی تحصیل اوبائرُو اور ڈہرکی میں لونڈ، شر اور ڈہر برادریوں کے ووٹ بینک کو سنبھالا۔ یہ علاقہ جام خاندان کی ذاتی جاگیر کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں سیاسی وفاداریاں زمینی تنازعات اور قبائلی اتحادوں سے جڑی ہوئی ہیں۔

انتخابی کیریئر: چار مرتبہ منتخب ہونے کی تفصیلات

جام مہتاب ڈہر کی سیاسی کامیابی کی بنیاد ان کی انتخابی جیتوں پر ہے، جو گھوٹکی کے حلقہ PS-5 (گھوٹکی-I) سے جڑی ہوئی ہیں۔ آپ کی معلومات کے مطابق، وہ چار مرتبہ منتخب ہوئے ہیں، جو ریکارڈز سے مطابقت رکھتی ہے جب ہم 2002، 2008، 2013 اور 2024 (یا متعلقہ حلقہ میں دوبارہ) کو شمار کریں۔ ان کی جیتوں نے پی پی پی کو گھوٹکی میں مضبوط بنایا، جہاں خاندان کی اجارہ داری کو چیلنج کرنا مشکل ہے۔

2002 کا عام انتخابات: جام مہتاب نے پہلی بار صوبائی اسمبلی کی نشست PS-5 گھوٹکی-I سے جیت لی۔ یہ جنرل پرویز مشرف کے دور کا انتخابات تھا، جہاں پی پی پی پر پابندی تھی، لیکن خاندانی اثر و رسوخ کی بدولت وہ کامیاب ہوئے۔ ان کی جیت میں مقامی جاگیرداروں اور ہاریوں کی حمایت کلیدی تھی۔ اس دور میں انہوں نے اسمبلی میں پی پی پی کی آواز بن کر کام کیا، خاص طور پر زرعی اصلاحات اور واٹر کورسز کے مسائل پر۔

2008 کا عام انتخابات: دوسری جیت PS-5 سے ہوئی، جہاں انہوں نے مسلم لیگ (ق) کے امیدوار کو شکست دی۔ یہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد کا انتخابات تھا، اور پی پی پی کی مقبولیت عروج پر تھی۔ جیت کے بعد، انہیں فوراً کابینہ میں جگہ ملی، جو ان کی سیاسی ترقی کی نشانی تھی۔ ووٹوں کی اکثریت 40 ہزار سے زائد تھی، جو خاندان کے قبائلی نیٹ ورک کی طاقت کو ظاہر کرتی ہے۔

2013 کا عام انتخابات: تیسری جیت PS-5 سے ہوئی، جہاں انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور دیگر مخالفین کو پیچھے چھوڑ دیا۔ یہ سید قائم علی شاہ کی حکومت کا دور تھا، اور جام مہتاب کی جیت نے پی پی پی کو سندھ میں اکثریت دی۔ اس انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگے، لیکن ان کی جیت برقرار رہی۔

2024 کا عام انتخابات: چوتھی جیت کا ذکر آپ نے کیا ہے، جو تازہ ترین ریکارڈز سے ملتا ہے۔ PS-18 گھوٹکی-I (جو PS-5 کا توسیعی حصہ ہے) سے انہوں نے یا ان کی قریبی شاخ نے جیت حاصل کی، جہاں بلاول بھٹو کی مداخلت سے خاندان متحد ہوا۔ یہ جیت گھوٹکی کی 7 نشستیں پی پی پی کے حق میں لانے میں اہم تھی۔ ان کی جیتوں کا فارمولا وہی رہا: خاندانی وفاداریاں، پولیس کا کنٹرول، اور ریاستی وسائل کا استعمال۔

ان کی انتخابی کامیابیوں نے گھوٹکی کو پی پی پی کا مضبوط قلعہ بنا دیا، جہاں مخالف امیدواروں کو میدان سے ہٹانا عام ہے۔

سندھ کابینہ میں وزارتیں: صحت، ریونیو اور تعلیم کے ادوار

جام مہتاب کی اصل طاقت ان کی وزارتی ذمہ داریوں میں نظر آتی ہے، جہاں انہوں نے صحت، ریونیو، تعلیم اور متعلقہ محکموں کو سنبھالا۔ آپ کی معلومات بالکل درست ہے — یہ اہم محکمے تھے، جو صوبائی بجٹ اور عوامی خدمات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان کے ادوار سندھ کی ترقیاتی پالیسیوں کا حصہ بنے، البتہ تنازعات بھی جڑے رہے۔

ریونیو، پاپولیشن ویلفیئر اور ریلف (2008-2013): 2008 کی جیت کے فوراً بعد، سیدہ عبدالفطور مہمشہ کی کابینہ میں انہیں ریونیو، پاپولیشن ویلفیئر اور ریلف کا پورٹ فولیو ملا۔ یہ دور سندھ میں سیلاب متاثرین کی بحالی کا تھا، جہاں انہوں نے زمینی ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن اور ٹیکس وصولی کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ تاہم، الزام لگا کہ جاگیرداروں کی زمینوں پر نرمی کی گئی، جس سے چھوٹے کسان متاثر ہوئے۔ ان کے تحت صوبائی ریونیو بورڈ نے کئی اصلاحات کیں، لیکن کرپشن کے کیسز بھی سامنے آئے۔

ہیلتھ اینڈ فوڈ (2013-2014): 2013 کے بعد، سید قائم علی شاہ کی کابینہ میں انہیں صحت اور فوڈ کا محکمہ سونپا گیا۔ یہ دور ڈینگی اور دیگر وباؤں کا تھا، جہاں انہوں نے ہسپتالوں کی توسیع اور غذائی پروگرامز شروع کیے۔ انہوں نے کئی بین الاقوامی دورے کیے، جیسے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے اجلاس، تاہم بجٹ کی کمی اور طبی عملے کی کمی کے الزامات لگے۔ نومبر 2014 تک یہ ذمہ داری ان کے پاس رہی۔

ایجوکیشن اینڈ لٹریسی (2014-2018): 2014 میں، انہیں تعلیم کا پورٹ فولیو ملا، جو سندھ کی سب سے بڑی چیلنجز میں سے ایک ہے۔ ان کے دور میں سکولوں کی تعمیر، ٹیچرز کی بھرتی اور بجٹ میں اضافہ ہوا، لیکن انہوں نے خود تسلیم کیا کہ بھرتیوں میں کرپشن ہوئی۔ "پیپلز پارٹی کرپٹ تھی" جیسے بیانات ان کی تقریروں میں آئے، جو ان کی خود تنقیدی کی نشانی تھی۔ ان کے تحت سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے کئی پروجیکٹس شروع کیے، جو آج بھی جاری ہیں۔

ان وزارتوں نے انہیں صوبائی سطح پر تسلیم دلایا، لیکن جاگیرداری کی وجہ سے عوامی سطح پر تنقید بھی ملی۔

تنازعات اور چیلنجز

جام مہتاب کی سیاسی زندگی تنازعات سے خالی نہیں۔ 2025 مارچ میں ان کے قافلے پر حملہ (جہاں دو محافظ جاں بحق ہوئے) نے گھوٹکی کی خونی سیاست کو اجاگر کیا۔ انہوں نے الزام شہریار خان شر پر لگایا، جو خاندانی دشمنی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، سینیٹ انتخابات 2021 میں ان کا نام سامنے آیا، جہاں آئینی خلاف ورزی کا الزام لگا۔ کرپشن، زمینوں پر قبضہ، اور انتخابی دھاندلی کے کیسز بھی ان کے خلاف درج ہیں، لیکن کوئی سزا نہ ہوئی۔

خاندان اور موجودہ کردار میں جام مہتاب

جام مہتاب خاندان کی تیسری نسل کے نمائندہ ہیں، جو جام مہر علی اور جام عرفان جیسے نوجوانوں کو تربیت دیتے ہیں۔ 2025 تک، وہ سینیئر ایڈوائزر کی حیثیت سے فعال ہیں، جہاں گھوٹکی کی 6 نشستیں خاندان کے پاس ہیں۔ ان کی وزارتوں نے صوبائی ترقی میں حصہ ڈالا، لیکن جاگیرداری کی زنجیروں کو توڑنا ابھی باقی ہے۔

نتیجہ

جام مہتاب ڈہر کی چار مرتبہ منتخب ہونے اور صحت، ریونیو، تعلیم کی وزارتیں سنبھالنے کی کہانی سندھ کی جاگیردارانہ سیاست کا آئینہ ہے۔ وہ پی پی پی کی وفاداری اور خاندانی طاقت کی علامت ہیں، جو گھوٹکی کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ مستقبل میں، اگر اصلاحات آئیں تو ان کا کردار مزید مثبت ہو سکتا ہے۔ یہ تفصیلات آپ کی معلومات کی توثیق کرتی ہیں، جبکہ مزید تحقیق سے ان کی چوتھی جیت کی تصدیق ہو سکتی ہے۔

Agriculture World November 24, 2025
Read more ...

 پتافی قبیلہ کی تاریخ


تعارف

بلوچ قوم کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے، جو ایران، افغانستان اور پاکستان کے وسیع علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ بلوچ قبائل کی تنوع اور ان کی بہادری، وفاداری اور اصول پسندی کی داستانوں نے انہیں جنوبی ایشیا کی تاریخ میں ایک منفرد مقام بخشا ہے۔ انہی قبائل میں سے ایک ہے پتافی قبیلہ، جو رند بلوچ کی ایک اہم ذیلی شاخ ہے۔ پتافی قبیلہ، جسے بعض اوقات پتافی یا پٹافی بھی کہا جاتا ہے، اپنی قدیم جڑوں، ہجرتوں، تاریخی کردار اور نمایاں شخصیات کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہ قبیلہ بنیادی طور پر پاکستان کے صوبہ پنجاب (ڈیرہ غازی خان، راجن پور، مظفرگڑھ) اور سندھ (گھوٹکی، ٹنڈو الہیار، بدین، خیرپور) میں آباد ہے، جبکہ اس کی کچھ شاخیں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بھی پائی جاتیں ہیں۔

پتافی قبیلہ کی تاریخ نہ صرف بلوچ قوم کی مجموعی جدوجہد کی عکاسی کرتی ہے بلکہ یہ ان اندرونی تنازعات، ہجرتوں، سلطنتوں کے ساتھ تعلقات اور جدید دور کی نمایاں شخصیات کی بھی گواہی دیتی ہے جو بلوچوں نے صدیوں سے سہے ہیں۔ اس مضمون میں ہم پتافی قبیلہ کی اصل، ہجرتوں، تاریخی واقعات، ثقافتی روایات، اہم مذہبی، ادبی اور سیاسی شخصیات اور موجودہ حیثیت پر تفصیل سے روشنی ڈالیں گے۔ یہ تاریخ تقریباً ایک ہزار سال پرانی ہے، جو 11ویں صدی سے لے کر آج تک پھیلی ہوئی ہے۔

اصل اور ابتدائی تاریخ

پتافی قبیلہ کی اصل کا تعلق بلوچ قوم کی رند شاخ سے ہے، جو بلوچوں کے چار بڑے گروہوں (رند، لاشار، ہوت، کورائی) میں سے ایک ہے۔ بلوچوں کی مجموعی تاریخ کے مطابق، ان کی جڑیں ایران کے مشرقی علاقوں، خاص طور پر سیستان اور کرمان کے آس پاس سے ملتی ہیں۔ کچھ روایات کے مطابق، پتافی قبیلہ ایران کے بلوچستان (موجودہ ایران) میں پٹاف ندی کے قریب آباد تھا، جس کی وجہ سے انہیں "پتافی" (یعنی پٹاف کے لوگ) کہا جانے لگا۔ یہ نام ان کی جغرافیائی شناخت کی نشاندہی کرتا ہے۔

بعض بلوچ روایات میں پتافی قبیلہ کو حضرت امیر حمزہ (ص) کی اولاد سے منسوب کیا جاتا ہے، جو ایک افسانوی یا مذہبی عنصر ہے اور بلوچ قبائل کی عرب یا اسلامی جڑوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ تاہم، تاریخی شواہد بلوچوں کو ایرانی نسل سے جوڑتے ہیں، جو تقریباً 5000 سال قبل مہرگڑھ (موجودہ بلوچستان) میں آباد تھے۔ 11ویں صدی عیسوی میں، جب ایران میں سیاسی انتشار اور قبائلی جنگیں شدت اختیار کر گئیں، تو بلوچ قبائل نے مشرق کی طرف ہجرت شروع کی۔ پتافی بھی انہی ہجرتوں کا حصہ بنے اور موجودہ پاکستان کے بلوچستان میں داخل ہوئے۔ یہاں انہوں نے رند قبیلے کے ساتھ اتحاد قائم کیا اور ان کی قیادت قبول کی۔

بلوچستان میں پتافی قبیلہ کا قیام تقریباً تین سے چار صدیوں تک جاری رہا۔ وہ مکران، قلات، لورالائی، خضدار اور تربت جیسے علاقوں میں مقیم رہے۔ اس دور میں بلوچ قبائل نے اپنی نیم خانہ بدوش زندگی بسر کی، جو بھیڑ بکریوں کی مالداری اور تجارت پر مبنی تھی۔ پتافی قبیلہ کی وفاداری اور بہادری نے انہیں رند قبیلے کا وفادار ساتھی بنا دیا، جو بعد کی تاریخی جنگوں میں نمایاں ہوئی۔

رند اور لاشاری جنگ: پتافی کی بہادری کا امتحان

14ویں اور 15ویں صدی عیسوی میں بلوچ تاریخ کا ایک اہم موڑ رند اور لاشاری قبائل کے درمیان تیس سالہ جنگ تھا۔ یہ جنگ لاشاریوں کی طرف سے نئے آنے والے بلوچوں کی زمینوں پر قبضے اور عزت کی خلاف ورزی کی وجہ سے شروع ہوئی۔ میر چاکر خان رند، جو بلوچوں کے عظیم سردار تھے، نے اپنے اتحادی قبائل کو اکٹھا کیا۔ پتافی قبیلہ نے اس جنگ میں رند کا ساتھ دیا اور شانہ بشانہ لڑائی لڑی۔

یہ جنگ بلوچستان کے کئی علاقوں کو تباہ کرنے کا باعث بنی، جس میں ہزاروں جانوں کا ضیاع ہوا۔ پتافی جنگجوؤں کی بہادری نے انہیں بلوچ تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔ جنگ کے نتیجے میں رند قبیلہ غالب آیا، لیکن بلوچستان کی تباہی نے نئی ہجرتوں کو جنم دیا۔ پتافی قبیلہ اس انتشار کا شکار ہوا اور کئی شاخیں الگ الگ سمتوں میں بکھر گئیں۔

ہجرت اور پنجاب و سندھ میں آبادکاری

15ویں صدی کے وسط میں، میر چاکر خان رند نے اپنے اتحادیوں سمیت بلوچستان چھوڑ دیا اور مشرق کی طرف ہجرت کی۔ یہ ہجرت بلوچ تاریخ کی سب سے بڑی نقل مکانی تھی، جس میں 44 بلوچ قبائل شامل تھے۔ پتافی قبیلہ بھی اس قافلے کا حصہ تھا، جس میں لغاری، مزاری، گورچانی، گورمانی، قیصرانی اور دیگر شامل تھے۔ وہ سبی، جھل مگسی، کوہ سلطان سے گزرتے ہوئے ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور مظفرگڑھ تک پہنچے۔

1555ء میں، میر چاکر خان نے مغل بادشاہ ہمایوں کی مدد کی اور شیر شاہ سوری سے جنگ میں فتح یاب ہوئے۔ ہمایوں نے انہیں پاکستان کے آدھے علاقے تحفہ کیے، جس سے بلوچوں کی مغل سلطنت کے ساتھ مضبوط دوستی قائم ہوئی۔ پتافی قبیلہ نے بھی اس مہم میں حصہ لیا اور پنجاب میں آباد ہو گئے۔ ڈیرہ غازی خان اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں انہوں نے زرعی زمینیں حاصل کیں اور نیم خانہ بدوش زندگی سے مستقل آبادکاری کی طرف مائل ہوئے۔

سندھ کی طرف ہجرت 16ویں اور 17ویں صدی میں ہوئی، جہاں پتافی قبیلہ گھوٹکی ضلع میں داخل ہوا۔ یہاں انہوں نے دریائے سندھ کے کناروں پر آبادکاری کی۔ 1610ء تک، کچھ پتافی شاخیں بلوچستان واپس چلی گئیں، جبکہ دوسری پنجاب اور سندھ میں رہ گئیں۔ 19ویں صدی میں، برطانوی راج کے دوران، پتافی قبیلہ گورچانی قبیلے کی ایک شاخ کے طور پر سامنے آیا، جو دریشک، لنڈ اور مزاری کے ساتھ مل کر دریائے سندھ کے میدانی علاقوں میں آباد تھا۔ یہ قبائل برطانویوں کے ساتھ تعاون کرتے رہے، جو پہاڑی قبائل (جیسے بگٹی، جٹرانی) کے حملوں سے متاثر ہوتے تھے۔

19ویں صدی کے تنازعات اور برطانوی دور

19ویں صدی میں پتافی قبیلہ کی تاریخ تنازعات سے بھری ہے۔ 1860 کی دہائی میں، ڈیرہ غازی خان کے علاقے میں پتافی اور دورکانی قبائل کے درمیان جھگڑا ہوا۔ دورکانیوں کے مُقدُّم تاجُوش خان کو وزیر پتافی نے ایک سرحدی لڑائی میں ہلاک کر دیا۔ تاجُوش کے بیٹے سوراب نے انتقام لینے کی کوشش کی، لیکن دیوان مُلراج کی فوج نے اسے گرفتار کر لیا اور نو سال قید میں رکھا۔ اس دوران، سوراب کے چچا متا خان نے قبیلے کی قیادت سنبھالی۔ رہائی کے بعد، سوراب نے چچا کو قیادت سونپ دی۔ بلوچ روایات کے مطابق، وزیر پتافی نے جھگڑا سلجھایا اور اپنی بیٹی کا رشتہ سوراب سے کر دیا، جس سے دونوں قبائل متحد ہو گئے۔

1867ء میں، برطانویوں نے پتافی قبیلے کو زرعی زمینیں عطا کیں، جس سے وہ پہاڑوں سے میدانی علاقوں کی طرف منتقل ہوئے۔ 1891ء کی مردم شماری کے مطابق، قبیلے کی تعداد 2186 تھی۔ برطانوی دور میں پتافی قبیلہ نے اپنی وفاداری کا ثبوت دیا اور بہاؤلپور ریاست کے عباسی خاندان کی حمایت کی۔ سردار میر گل محمد خان پتافی، جو قبیلے کے آرمی جنرل تھے، اس دور کے اہم رہنما تھے۔

اہم مذہبی، ادبی اور سیاسی شخصیات

پتافی قبیلہ کی تاریخ میں مذہبی، ادبی اور سیاسی شخصیات کا کردار ناقابلِ فراموش ہے، جو قبیلے کی فکری، روحانی اور سماجی ترقی میں سنگِ میل ثابت ہوئیں۔ ان میں سے کئی شخصیات نے اپنے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دیں اور قبیلے کی شناخت کو مضبوط کیا۔

مذہبی شخصیات میں مولانا بہاء الدین بہائی پتافی کا نام سرفہرست ہے۔ مولانا بہاء الدین بہائی پتافی ایک عظیم عالمِ دین، مفسرِ قرآن اور صوفی بزرگ تھے، جو پتافی قبیلہ کی روحانی جڑوں کی علامت ہیں۔ ان کی پیدائش 20ویں صدی کے اوائل میں سندھ کے گھوٹکی علاقے میں ہوئی، جہاں انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ مولانا بہائی نے دینی علوم میں مہارت حاصل کی اور مختلف مدرسوں میں درسِ قرآن و حدیث دیا۔ ان کی تفسیرِ قرآن اور صوفیانہ کتب، جیسے "نورِ بہائی"، بلوچ علاقوں میں بہت مقبول ہوئیں۔ وہ سلسلہِ قادریہ سے وابستہ تھے اور اپنے حلقوں میں ہزاروں مریدوں کو تربیت دی۔ مولانا بہائی کی تعلیمات میں قبائلی روایات اور اسلامی اصولوں کا امتزاج تھا، جس نے پتافی قبیلے کو مذہبی اتحاد دیا۔ ان کی وفات کے بعد بھی ان کا مدرسہ گھوٹکی میں قائم ہے، جو آج بھی دینی تعلیم کا مرکز ہے۔

اسی طرح، مولانا عبد الرحمن ضیائی پتافی ایک اور برجستہ مذہبی شخصیت ہیں۔ مولانا عبد الرحمن ضیائی کی پیدائش پتافی قبیلہ کی ضیائی شاخ میں ہوئی، اور ان کی پرورش والد کی نگرانی میں ہوئی۔ انہوں نے مختلف مدارس میں درس و تدریس کی ذمہ داری سنبھالی اور بیعتِ بریلیویہ سے وابستہ ہوکر صوفیانہ روایات کو فروغ دیا۔ مولانا ضیائی کی شادی ایک معزز خاندان میں ہوئی، اور ان کی اولاد بھی دینی خدمات میں مصروف ہے۔ ان کی کتابیں، جیسے "ضیائیۃ الرحمٰن"، فقہ اور تصوف پر مبنی ہیں، جو پتافی قبیلے کے لوگوں میں مذہبی شعور اجاگر کرتی ہیں۔ انہوں نے قبائلی تنازعات کو اسلامی اصولوں سے حل کرنے کی کوشش کی اور قبیلے کی نوجوان نسل کو دینی تعلیم کی طرف راغب کیا۔ مولانا ضیائی کی زندگی ایک مثال ہے کہ کس طرح پتافی قبیلہ نے مذہبی روایات کو اپنی ثقافت کا حصہ بنایا۔

ادبی میدان میں پریم پتافی ایک ممتاز سندھی شاعر ہیں، جو سندھی ادب میں اپنی گہری شاعری اور روایتی موضوعات کی وجہ سے مشہور ہیں۔ ان کی پیدائش سندھ کے گھوٹکی ضلع میں ہوئی، جہاں انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ پریم پتافی سندھی ادب کی دنیا میں فعال ہیں اور ان کی شاعری میں قبائلی زندگی، محبت، جدوجہد اور روحانی عناصر کی جھلک ملتی ہے۔ وہ سنڌي ادبي ورلڊ ايسوسيئيشن (ساوا) جیسے ادبی اداروں میں صدارت اور مشاعروں کی صدارت کر چکے ہیں، جو گھوٹکی پریس کلب جیسے مقامات پر منعقد ہوتے رہے ہیں۔ پریم پتافی مولانا بہاء الدین بہائی پتافی کے پڑپوتے اور مولانا عبد الرحمن ضیائی پتافی کے پوتے ہیں، جو ان کی ادبی اور روحانی وراثت کو مزید نمایاں کرتا ہے۔ ان کی شاعری سندھی زبان کی خوبصورتی اور بلوچ روایات کا امتزاج پیش کرتی ہے، جس نے نوجوان شاعروں کو متاثر کیا ہے۔ پریم پتافی کی تحریریں پتافی قبیلے کی سماجی اور ثقافتی تاریخ کی عکاسی کرتی ہیں اور وہ ادبی محفلوں میں ایک مرکزی ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔

سیاسی اور سماجی میدان میں سابقہ صوبائی وزیر برائے لائیو سٹاک اینڈ فشریز عبد الباری خان پتافی کا کردار لازوال ہے۔ عبد الباری خان پتافی کی پیدائش گھوٹکی میں ہوئی، اور وہ پتافی قبیلہ کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے 2018ء کے سندھ اسمبلی الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر PS-19 گھوٹکی II سے کامیابی حاصل کی۔ 15 اکتوبر 2018ء کو وزیرِ اعلیٰ سید مراد علی شاہ کی کابینہ میں لائیو سٹاک اینڈ فشریز کے محکمہ کا قلمدان سنبھالا، جس پر 11 اگست 2023ء تک فائز رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے تعاون کے محکمہ کی ذمہ داری بھی نبھائی۔ عبد الباری خان نے قبیلے کے زرعی اور مالداری مسائل حل کرنے کے لیے بہت کام کیا، جیسے مویشیوں کی ویکسینیشن پروگرام اور ماہی گیری کی ترقی۔ 2025ء میں انہوں نے تحریک لبیک پاکستان جوائن کیا، جو ان کی سیاسی جدوجہد کی نئی سمت ہے۔ عبد الباری خان پتافی قبیلے کی سیاسی آواز ہیں اور ان کی قیادت میں قبیلہ نے سماجی ترقی حاصل کی۔

موجودہ دور کی ایک اور نمایاں شخصیت ڈی آئی جی سندھ پولیس عبد القیوم خان پتافی ہیں، جو اس وقت پتافی قبیلہ کے چیف سردار بھی ہیں۔ عبد القیوم خان پتافی کی پیدائش 23 مارچ 1969ء کو گھوٹکی میں ہوئی۔ انہوں نے 1995ء میں پولیس سروس آف پاکستان (PSP) جوائن کی اور 19 گرڈ تک ترقی کی۔ فی الحال وہ AIG لیگل کے عہدے پر فائز ہیں اور سندھ پولیس کے CPO کراچی میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ سردار عبد القیوم خان نے قبائلی روایات اور قانون کی حکمرانی کو جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی قیادت میں پتافی قبیلہ نے امن و امان کی صورتحال بہتر بنائی، اور وہ نوجوانوں کو پولیس میں بھرتی ہونے کی ترغیب دیتے ہیں۔ سردار عبد القیوم کی ذاتی زندگی بھی قبیلے کی روایات سے جڑی ہے، اور وہ اتحادی قبائل کے ساتھ روابط مضبوط کرتے ہیں۔ ان کی خدمات نے پتافی قبیلے کو جدید پاکستان میں ایک مضبوط مقام دیا ہے۔

موجودہ تقسیم اور سیاسی کردار

آج پتافی قبیلہ پاکستان کے مختلف صوبوں میں پھیلا ہوا ہے۔ پنجاب میں، ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور مظفرگڑھ میں ان کی بڑی آبادی ہے، جہاں وہ زراعت اور تجارت سے وابستہ ہیں۔ سندھ میں، گھوٹکی، ٹنڈو الہیار، بدین اور خیرپور میں ان کی مضبوط موجودگی ہے۔ کچھ خاندان ڈیرہ اسماعیل خان (خیبر پختونخوا) اور بلوچستان میں بھی ہیں۔ کل تعداد کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے، لیکن لاکھوں میں پہنچ چکی ہے۔

سیاسی طور پر، پتافی قبیلہ سندھ اسمبلی میں دو منتخب ارکان کا حامل ہے: سردار احمد علی خان پتافی اور رئیس إمداد علی پتافی۔ یہ قبیلہ بلوچستان اسمبلی اور قومی اسمبلی میں بھی فعال ہے۔ جدید دور میں، پتافی افراد تعلیم، طب اور فوج میں نمایاں ہیں۔ مثال کے طور پر، حکیم عبد الرحمان خان رحمانی (جو روانی شاخ سے تعلق رکھتے تھے) نے ملتان اور لاہور سے تعلیم حاصل کی اور راجن پور میں طب کی خدمت کی۔

ثقافتی روایات اور سماجی ساخت

پتافی قبیلہ کی ثقافت بلوچ روایات سے جڑی ہے۔ وہ بلوچی زبان بولتے ہیں، جو رکشانی لہجے کی ہے، لیکن پنجاب اور سندھ میں سرائیکی اور سندھی کے اثرات بھی نظر آتے ہیں۔ مہمان نوازی، غیرت اور قبائلی قوانین (جیسے بلوچ کد) ان کی شناخت ہیں۔ قبیلے کی سماجی ساخت سرداروں اور مُقدُّموں پر مبنی ہے، جو تنازعات حل کرتے ہیں۔

شادیاں قبائلی حدود میں ہوتی ہیں، اور موسیقی (سُر ناڈ، لیلہ) اور دستکاری (قلعی کا کام) ان کی روایات کا حصہ ہیں۔ جدید تعلیم نے انہیں تبدیل کیا ہے، لیکن بلوچ لباس اور تہوار (جیسے عید میلہ) زندہ ہیں۔ مذہبی اور ادبی شخصیات کی وجہ سے قبیلے میں فکری سطح بلند ہوئی ہے، جبکہ سیاسی رہنما سماجی مسائل حل کر رہے ہیں۔

نتیجہ

پتافی قبیلہ کی تاریخ بلوچ قوم کی جدوجہد، ہجرت اور بقا کی ایک زندہ مثال ہے۔ 11ویں صدی کی ہجرت سے لے کر آج کی سیاسی شمولیت تک، یہ قبیلہ وفاداری اور بہادری کا پرچم برقرار رکھے ہوئے ہے۔ رند لاشاری جنگ، مغل سلطنت کی مدد، برطانوی دور کے تعاون اور جدید شخصیات جیسے مولانا بہاء الدین بہائی، مولانا عبد الرحمن ضیائی، پریم پتافی، عبد الباری خان اور عبد القیوم خان کی خدمات نے ان کی داستان کو رنگین بنایا۔ آج، جب بلوچستان اور سندھ میں حقوق کی تحریکیں جاری ہیں، پتافی قبیلہ اپنی شناخت کو مضبوط کر رہا ہے۔ یہ تاریخ نہ صرف ماضی کی یاد دلاتی ہے بلکہ مستقبل کی امید بھی جگاتی ہے۔

Agriculture World November 14, 2025
Read more ...

 خانگڑہ: سندھ کا ایک قدیم اور زندہ دل شہر

خانگڑہ: سندھ کا ایک قدیم اور زندہ دل شہر

تعارف

خانگڑہ، سندھ صوبے کے ضلع گھوٹکی کا ایک تاریخی اور اہم شہر ہے، جو دریائے سندھ کی وادی اور صحرائی علاقوں کی سرحد پر واقع ہے۔ یہ شہر نہ صرف زرعی پیداوار کا مرکز ہے بلکہ سندھی ثقافت، تاریخ اور معاشی سرگرمیوں کا بھی ایک زندہ جہاز ہے۔ خانگڑہ کو سندھی میں "خانڳڙهه" کہا جاتا ہے اور یہ ضلع گھوٹکی کی پانچ تحصیلوں میں سے ایک، یعنی خانگڑہ تحصیل کا صدر مقام ہے۔ اس کی جغرافیائی پوزیشن 28°06′N 69°11′E پر ہے، جو اسے سکھر اور رحیم یار خان جیسے بڑے شہروں سے جوڑتی ہے۔ شہر کی حدود میں چولستان صحرا کا بڑا حصہ شامل ہے، جو اسے قدرتی خوبصورتی اور چیلنجز دونوں سے مالا مال بناتا ہے۔

خانگڑہ کی اہمیت اس کی قدیم تاریخ سے جڑی ہوئی ہے، جہاں ہزاروں سال پرانی تہذیبیں آباد تھیں۔ آج یہ شہر کپاس اور گنا کی کاشت کے لیے مشہور ہے، اور اس کی معیشت زراعت، صنعت اور قدرتی وسائل پر مبنی ہے۔ تازہ ترین مردم شماری کے مطابق شہر کی آبادی 32,648 ہے، جبکہ پوری تحصیل کی 162,318 نفوس پر مشتمل ہے۔ یہ اعداد و شمار اس شہر کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور ترقی کی عکاسی کرتے ہیں۔ خانگڑہ نہ صرف ایک زرعی مرکز ہے بلکہ سندھی روایات، صوفیانہ ثقافت اور سیاسی سرگرمیوں کا بھی گہوارہ ہے۔ اس مضمون میں ہم خانگڑہ کی تاریخ، جغرافیہ، ثقافت، معیشت اور مستقبل کی جھلک دیکھیں گے، تاکہ اس شہر کی مکمل تصویر سامنے آ سکے۔

تاریخ

خانگڑہ کی تاریخ ضلع گھوٹکی کی قدیم تہذیبوں سے جڑی ہوئی ہے، جو ہزاروں سال پرانی ہے۔ یہ علاقہ موہن جو دڑو جیسی سندھ وادی تہذیب کا قریب ہے، جہاں قدیم لوگ دریائے سندھ کے کنارے آباد تھے۔ ساتویں صدی عیسوی میں راجہ ابن سلیم برہمن، جو راجہ دہیر کے رشتہ دار تھے، کے جرنیل ہاتھ سام نے گھوٹکی کی بنیاد رکھی، اور خانگڑہ اسی دور کا حصہ بنا۔ آٹھویں صدی میں محمد بن قاسم کی سندھ فتح کے بعد یہ علاقہ اسلامی تہذیب کا مرکز بن گیا، جہاں راجہ داہر کے پوتے غوط ابن سمد نے اسلام قبول کیا اور غوطہ قبیلہ کی بنیاد رکھی۔

مغل دور میں سومرے، ارغون، کلھوڑا اور تالپور خاندانوں کا راج رہا، جنہوں نے اس علاقے کو اپنے سلطنتوں کا حصہ بنایا۔ برطانوی راج کے دوران غوطہ سرداروں کو جاگیریں دی گئیں، جو خانگڑہ کے آس پاس پھیلی ہوئی تھیں۔ ان جاگیریں زرعی ترقی اور مقامی نظام کی بنیاد تھیں۔ 1947 کی تقسیم کے بعد یہ سکھر ضلع کا حصہ بنا، اور 1993 میں گھوٹکی کو الگ ضلع کا درجہ ملا، جس میں خانگڑہ تحصیل شامل ہوئی۔ برطانوی دور میں یہاں ریلوے لائن کی تعمیر ہوئی، جو شہر کو تجارتی مرکز بنا دیا۔

قومی سطح پر، خانگڑہ مہر خاندان کی سیاسی جڑوں کا مرکز ہے۔ سردار علی محمد مہر، جو سندھ کے وزیر اعلیٰ اور وفاقی وزیر نشہ آور مواد رہے، اسی شہر سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی وفات 2019 میں خانگڑہ میں دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔ یہ خاندان سندھی سیاست میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے، اور شہر کی سیاسی تاریخ اس کی عکاسی کرتی ہے۔ آج بھی، خانگڑہ تحصیل پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کا مضبوط حلقہ ہے، جہاں انتخابات میں مقامی مسائل جیسے پانی کی قلت اور زرعی اصلاحات مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ شہر کی تاریخ نہ صرف ماضی کی یاد دلاتی ہے بلکہ مستقبل کی امید بھی جگاتی ہے۔

جغرافیہ اور آب و ہوا

خانگڑہ ضلع گھوٹکی کی شمالی تحصیل ہے، جو 1,986 مربع کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہے۔ یہ نارہ صحرا، جو تھر صحرا کا حصہ ہے، میں واقع ہے، جہاں سفید ریت کے بڑے ٹیلے، جنہیں اچھرو تھر کہا جاتا ہے، موجود ہیں۔ شہر دریائے سندھ سے دور ہے لیکن گوڈو بیراج کے ذریعے سیراب ہوتا ہے، جس سے گھوٹکی فیڈر نہر یہاں کی زمینوں کو پانی دیتی ہے۔ ضلع کی کل رقبہ 6,083 مربع کلومیٹر ہے، جس میں کچا علاقہ، یعنی دریائی سیلاب والا حصہ، اور صحرا شامل ہے۔

آب و ہوا صحرائی subtropical ہے: گرمیوں میں درجہ حرارت 44°C تک جاتا ہے، جبکہ سردیوں میں 9°C تک گر جاتا ہے۔ سالانہ بارش صرف 122 ملی میٹر ہے، اور دسمبر-جنوری میں برفباری بھی ممکن ہے۔ یہ علاقہ زلزلوں کے زون میں ہے، جہاں خطرہ درمیانہ درجے کا ہے۔ قدرتی وسائل میں گیس اور تیل کے ذخائر شامل ہیں، جیسے قریب کی ماری گیس فیلڈ، جو پاکستان کی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ پورا کرتی ہے۔ دریائی جنگلات اور مویشی پالن بھی جغرافیائی خصوصیات ہیں، جو شہر کو ماحولیاتی تنوع دیتے ہیں۔ یہ جغرافیہ نہ صرف زرعی پیداوار کو ممکن بناتا ہے بلکہ قدرتی خوبصورتی بھی پیش کرتا ہے۔

آبادی اور جمہوریت

تازہ ترین مردم شماری کے مطابق خانگڑہ شہر کی آبادی 32,648 ہے، جبکہ تحصیل کی 162,318۔ ضلع بھر 1,772,609 نفوس ہیں، جن میں شہری اور دیہی آبادی کا تناسب مختلف ہے۔ پچھلی شماری میں تحصیل کی آبادی 149,008 تھی، جو ترقی کی نشاندہی کرتی ہے۔ آبادی کا 93% مسلمان، 6% ہندو ہے، اور دیگر اقلیتیں بھی موجود ہیں۔ سندھی زبان 92% بولنے والوں کی ہے، جبکہ سرائیکی، بلوچی اور پنجابی بھی عام ہیں۔

خواندگی کی شرح ضلع میں 41.38% ہے، جہاں مردوں کی شرح عورتوں سے زیادہ ہے۔ جنس تناسب 112 مرد 100 عورتوں پر ہے۔ دیہی علاقوں میں قبائلی نظام غالب ہے، جہاں غوطہ، مہر اور دیگر خاندان بااثر ہیں۔ شہر کی آبادی کی اکثریت زرعی مزدور اور چھوٹے کسان ہیں، جو معاشی عدم مساوات کا شکار ہیں۔ یہ آبادی نہ صرف شہر کی ترقی کی بنیاد ہے بلکہ اس کی سماجی ساخت کو بھی مضبوط بناتی ہے۔

ثقافت اور روایات

خانگڑہ کی ثقافت سندھی روایات کی زندہ مثال ہے، جہاں مہمان نوازی، صوفیانہ محبت اور لوک فنون غالب ہیں۔ سندھی اجرک، ٹوپی اور روایتی لباس یہاں کی پہچان ہیں۔ لوک گیت جیسے "واء واء سندھو" اور رقص "جھومر" میلے اور عرسوں میں سجائے جاتے ہیں۔ تہواروں میں عید میلاد النبی، عرس حضرت قادر بخش، بسنت اور زرعی میلے شامل ہیں، جو شہر کو رنگین بناتے ہیں۔

غذائی ثقافت میں گھوٹکی کے مشہور "پیڑے"، جو دودھ سے بنے مٹھائیاں ہیں اور بادام و اخروٹ ملا کر تیار کیے جاتے ہیں، سوغات ہیں۔ صوفی درگاہیں جیسے پیر باری لال درگاہ اور سید انوار شاہ کی مزار علاقے کی روحانی جڑیں مضبوط کرتی ہیں۔ ہندو برادری بھی فعال ہے، جو شادانی دربار جیسے مقامات پر تہوار مناتی ہے۔ ثقافتی طور پر، خانگڑہ دیہی سادگی اور شہری ترقی کا امتزاج ہے، جہاں جدید میڈیا اور روایتی کہانیاں ساتھ چلتی ہیں۔ یہ ثقافت شہر کو ایک منفرد شناخت دیتی ہے۔

معیشت

خانگڑہ کی معیشت زراعت پر مبنی ہے، جہاں کپاس، گنا، چاول، گیہوں اور سبزیاں کاشت ہوتی ہیں۔ ضلع کی 59% افرادی قوت زراعت میں مصروف ہے، اور کاشت شدہ زمین وسیع ہے۔ گنا کی کاشت میں اضافہ ہوا ہے، اور پانچ شوگر ملز یہاں ہیں، جو مقامی پیداوار کو پروسیس کرتی ہیں۔

صنعت میں تیل اور گیس کلیدی ہیں: ماری، قادرپور اور رحمت گیس فیلڈز بڑی کمپنیوں کے ذریعے چلتی ہیں۔ ضلع کی جی ڈی پی بہت زیادہ ہے، اور 47 صنعتی ادارے ہیں۔ مویشی پالن، ماہی گیری اور جنگلات بھی آمدنی کا ذریعہ ہیں۔ شہر کا قریب قومی شاہراہ اور ریلوے اسے تجارتی مرکز بناتا ہے، جہاں کپڑا، کھاد اور شوگر کی تجارت ہوتی ہے۔ چیلنجز میں پانی کی کمی اور موسمیاتی تبدیلیاں شامل ہیں، جو فصلوں کو متاثر کرتی ہیں۔ تاہم، یہ معیشت شہر کو مستحکم بنیاد فراہم کرتی ہے۔

تعلیم اور صحت

تعلیم کی شرح کم ہونے کے باوجود، خانگڑہ میں کئی اسکول اور کالج ہیں۔ ضلع کیڈٹ کالج گھوٹکی قریب ہے، جو فوجی طرز کی تعلیم دیتا ہے۔ جامع مسجد خانگڑہ نہ صرف مذہبی بلکہ تعلیمی مرکز بھی ہے۔ صحت کے لیے بنیادی ہسپتال اور دیہی مراکز موجود ہیں، لیکن کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کی کمی ایک مسئلہ ہے۔ حکومت کی سکیمیں جیسے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام غریبوں کی مدد کرتی ہیں۔ یہ شعبے شہر کی ترقی کے لیے اہم ہیں۔

مشہور مقامات

خانگڑہ کے مشہور مقامات میں جامع مسجد خانگڑہ سرفہرست ہے، جو تاریخی ورثہ ہے۔ پیر بری لال درگاہ، جامع مسجد سردار گڑھ، پانج گلی چوک خانپور مہر اور کلاک ٹاور سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ نارہ صحرا کے ریتلے ٹیلے اور چنکارا ہرن کی جنگلی حیات نارہ ڈیزرٹ گیم ریزرو کا حصہ ہیں۔ قریب کی بھرچوندی شریف درگاہ اور ماتھیلو مومل جی ماڑی، جس میں میوزیم ہے، تاریخی دلچسپی رکھتے ہیں۔ دریائے سندھ کے کنارے تفریحی اسپاٹس اور سفاری پارک قدرتی خوبصورتی پیش کرتے ہیں۔ یہ مقامات شہر کو سیاحتی کشش دیتے ہیں۔

سیاسی اہمیت اور چیلنجز

سیاسی طور پر، خانگڑہ مہر خاندان کا گڑھ ہے، جو سندھ اسمبلی میں مختلف حلقوں پر اثر انداز ہے۔ چیلنجز میں سیلاب، غربت اور انفراسٹرکچر کی کمی شامل ہیں۔ مستقبل میں، CPEC پروجیکٹس اور زرعی اصلاحات ترقی لا سکتے ہیں۔

Agriculture World November 11, 2025
Read more ...

 سندھ کے مشہور گلوکار علن فقیر: ایک صوفیانہ آواز کی داستان

سندھ کے مشہور گلوکار علن فقیر: ایک صوفیانہ آواز کی داستان

تعارف

سندھ کی سرزمین، جو صوفیوں کی جھیل ہے اور اللہ کے نام کی گونج سے بھری پڑی ہے، نے کئی ایسے فنکار پیدا کیے جو اپنی آواز سے لوگوں کے دلوں کو چھو لیتے ہیں۔ ان میں سے ایک نام جو ہمیشہ یاد رہے گا، وہ ہے علن فقیر کا۔ علن فقیر (اصل نام: علی بخش) ایک ایسے سندھی لوک گلوکار تھے جن کی آواز میں صوفیانہ جذبہ، لوک داستانوں کی تڑپ اور رقص کی جھنجھوڑ تھی۔ 1932ء میں ضلع جمشورو کے قدیم گاؤں عامری میں پیدا ہونے والے علن فقیر نے اپنی زندگی کو موسیقی کی خدمت میں وقف کر دیا۔ وہ نہ صرف سندھی لوک موسیقی کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں بلکہ صوفی شاعری، خاص طور پر شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری کو نئی جہت دینے والے فنکار بھی تھے۔ ان کی پرفارمنسز میں ایک جھوٹھی بےقراری تھی جو سامعین کو مجذوب کر لیتی تھی، اور ان کا طرزِ لباس – مور کی پنکھوں والا اجرک کا پگڑی، سیاہ شروانی اور شلوار – سندھی ثقافت کی علامت بن گیا۔ علن فقیر کی وفات 4 جولائی 2000ء کو ہوئی، مگر ان کی آواز آج بھی زندہ ہے، جو سندھ کی مٹی سے اٹھتی ہے اور دنیا بھر میں سنائی دیتی ہے۔ یہ مضمون ان کی زندگی، جدوجہد، فن اور وراثت پر مبنی ہے، جو ایک ہزار الفاظ سے زائد پر مشتمل ہے تاکہ ان کی شخصیت کو مکمل طور پر اجاگر کیا جا سکے۔

ابتدائی زندگی

علن فقیر کی پیدائش 1932ء (بعض ذرائع کے مطابق 1934ء) میں جمشورو ضلع کے گاؤں عامری میں ہوئی، جو سندھ کے قدیم ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔ یہ گاؤں دریائے سندھ کے کنارے واقع ہے، جہاں لوک موسیقی اور صوفیانہ روایات کی جڑیں گہری ہیں۔ علن فقیر منگہڑ کمیونٹی سے تعلق رکھتے تھے، جو مسلمان ذات کی ایک موروثی موسیقی گروہ ہے۔ یہ کمیونٹی صدیوں سے قبائلی خاندانوں کی تقریبات – جیسے شادیاں، جنم، ختنہ اور میلے – میں موسیقی کی خدمات فراہم کرتی آئی ہے اور بدلے میں مویشی، اناج یا نقد رقم حاصل کرتی ہے۔

ان کے والد، زوار دیم علی فقیر (جنہیں دھمالی فقیر بھی کہا جاتا تھا)، ایک مشہور ڈھول نواز تھے۔ انہوں نے اپنے دادا توںر فقیر سے ڈھول بجانا سیکھا تھا اور وہ سہوان شریف کے درگاہ قلندر لال شاہباز پر پرفارم کرتے تھے۔ والدہ بانو خاتون تقریبات میں نغمے گاتی تھیں۔ علن فقیر پہلے بچہ تھے، مگر پیدائش کے فوراً بعد ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا، جو ان کی زندگی کا پہلا بڑا صدمہ تھا۔ چھ سال کی عمر میں ماں کی جدائی نے انہیں یتیم سا بنا دیا، اور پھر دادی کی پرورش میں رہے، جو جلد ہی انتقال کر گئیں۔ والد کی توجہ دوسری شادیوں کی وجہ سے کم ہوئی، اور علن کو گھر کی ذمہ داریاں سنبھالنے پڑیں۔

دس سال کی عمر میں والد نے دوسری شادی کی اور گاؤں منجھند منتقل ہو گئے، جہاں رشتہ دار رہتے تھے۔ سواند مائی (سوتی ماں) کی سختی نے علن کو گھر سے دور کر دیا۔ وہ گاؤں میں گھوم پھرنے لگے، گدھے پر سوار ہو کر دریائے سندھ میں مچھلیاں پکڑتے، اور کھیتوں میں جھومر ناچ کر اناج کماتے۔ ان کی ابتدائی آمدنی شادیوں میں 'سہرا' کے نغمے گانے اور ڈھول بجانے سے ہوتی تھی۔ یہ دور ان کی زندگی کا سب سے مشکل مرحلہ تھا، جہاں بھوک اور تنہائی نے انہیں مزاح نگار بنا دیا۔ وہ ٹرینوں اور بسوں میں مزاحیہ پرفارمنسز کرتے، مسافروں کو ہنساتے اور چندہ مانگتے۔ اسی دوران ان کی ملاقات داؤد فقیر سے ہوئی، جو ایک عجیب و غریب شخصیت تھیں، اور ان کے ساتھ رہنے سے علن کو افیم کی عادت پڑ گئی، جو بعد میں ان کی زندگی کا حصہ بن گئی۔

خاندانی پس منظر

علن فقیر کا خاندان منگہڑ روایات سے جڑا ہوا تھا، جو موسیقی کو موروثی پیشہ سمجھتے ہیں۔ ان کی نسل دھماج فقیر، پنجو فقیر، سمہابو فقیر، توںر فقیر اور دھمالی فقیر تک جاتی ہے۔ والد تین شادیوں کے مالک تھے؛ پہلی سے علن، دوسری اور تیسری سے سوتی بھائی غلام رضا، مشتاق علی، غلام علی اور بہنیں۔ علن نے اپنے سوتی خاندان کی کفالت کی، بیٹیوں کی شادیوں میں مہر دی اور جھگڑے سلجھائے۔ 1976ء میں انہوں نے بچپن کی منگنی والی کزن سے شادی کی، جس کے تین بیٹے (جن میں فہیم فقیر شامل) اور دو بیٹیاں تھیں۔ وہ بیوی سے بےحد محبت کرتے تھے اور نہ پڑھے لکھے ہونے باوجود بچوں کو تعلیم دلائی۔ بیٹے فہیم اور بھائی مشتاق کو گانے سکھایا۔

خاندان 1979ء میں سندھ یونیورسٹی کے کوارٹر میں رہنے لگا۔ والد 1979ء میں انتقال کر گئے، جو دمہ کے مریض اور افیم کے عادی تھے، مگر شاہ جو رسالو پڑھنے والے اور شیعہ مسلک کے پیروکار تھے۔ علن کا خاندان قبائل جیسے تنگوانی، مریدانی، نہالانی، بھمبھانی، سوڈانی، خیمانی اور منجھند کی خدمات کرتا تھا۔

موسیقی میں داخلہ

منگہڑ کمیونٹی کی وجہ سے موسیقی علن کی رگوں میں تھی۔ بچپن میں والد سے ڈھول، بانسری، جھومر ناچ اور سہرا نغمے سیکھے۔ نوعمری میں مزاح اور گانوں سے گزارا کیا، مگر 1961ء میں حیدرآباد کے ایک مزاحیہ کانفرنس میں منٹاز مرزا سے ملاقات نے ان کی زندگی بدل دی۔ مرزا، جو ریڈیو پاکستان کے ملازم تھے، نے انہیں بھٹ شاہ بلایا جہاں 1970ء میں استاد قربان علی لانجوائی سے شاہ جو راگ سیکھا، بشمول تمبرو بجانا۔ پہلا ریڈیو ریکارڈنگ 1970ء میں "ننگا نند نا کان" (شاہ عبداللطیف کی) تھا، جو ان کی شہرت کا آغاز بنا۔

علن نے وائی گانے کو سولو سٹائل میں پیش کیا، جو روایتی طور پر گروپ میں ہوتا تھا۔ انہوں نے تمبرو کو تبدیل کیا، یاک ٹارو سے ملا کر، اور وائی کو سادہ الفاظ میں گایا تاکہ سامع سمجھ سکیں۔

کیریئر کی نشانیاں

علن کا کیریئر 1970ء سے عروج پر پہنچا۔ ریڈیو پاکستان حیدرآباد میں مستقل آرٹسٹ بنے، اور 1979ء میں سندھولوجی میں سٹاف آرٹسٹ (گریڈ 7، تنخواہ 470 روپے) مقرر ہوئے، جہاں شاہ عبداللطیف کے گانے ریکارڈ کرتے۔ 1971ء میں پی ٹی وی پر عبدالکریم بلوچ نے متعارف کرایا، جو قومی شہرت کا باعث بنا۔

انہوں نے 30 سال سرکاری ثقافتی ٹرینوں کے ساتھ 20 سے زائد ممالک کا دورہ کیا: امریکہ (1976ء، آزادی کی تقریبات)، جاپان (1980ء، انٹرنیشنل فیسٹیول)، کوریا (1984ء)، سنگاپور (1985ء)، جرمنی، فرانس، روس، انگلینڈ، دبئی، اٹلی، ترکی، بیلجیم، فلپائن۔ بھٹ شاہ، داد شاہید، درازہ شریف، سچل سرمست اور قلندر لال شاہباز کی درگاہوں پر باقاعدہ پرفارم کیا۔ 1980ء سے اسلام آباد میں یومِ آزادی اور پاکستان ڈے پر سندھ کی نمائندگی کی۔ 1985ء میں لندن میں بائی پاس سرجری ہوئی، اور 1994ء میں ریٹائر ہوئے۔

مشہور گانے اور پرفارمنسز

علن فقیر کی آواز صوفیانہ تڑپ سے بھری تھی۔ مشہور وائی گانے:

تی پاوانڈا تارین – جدائی کی حسرت کا اظہار۔

الم اللہ میم محمد – صوفیانہ جذبہ۔

ریم جھم برسِ بدل – بارش کی لوک کہانی۔

ہما ہما او پیاری – محبت کی پکار۔

آیو جھول بھری عشق – عشق کی شدت۔

بولی مھنجی بندھانی – سندھی لوک۔

مجھ میں تو موجود – روحانی گہرائی۔

اللہ ہو اللہ ہو – مشہور صوفی میڈلی۔

ان کے البیمز: بولی مھنجی والیوم 1، پان ٹو پائدا والیوم 2، سندھی صوفی رنگ والیوم 1۔ پرفارمنسز میں ناچ، جھنجھوڑ اور جذباتی تقریر شامل تھی، جو سامعین کو رقص پر مجبور کر دیتی۔ وہ شاہ جو رسالو، سچل سرمست اور شیخ ایاز کی شاعری گاتے۔ ابتدائی نغمہ "سُئی کڑھی وئي ائين ماں" شادیوں کا تھا۔

اثرات

علن کی سب سے بڑی الہام شاہ عبداللطیف بھٹائی تھیں، جن کے شاگرد بنے۔ بھٹ شاہ میں راگ سیکھا اور تمبرو کو تبدیل کیا۔ سچل سرمست کی شاعری نے انہیں نشے اور خوشی کی طرف راغب کیا۔ والد سے لوک نغمے، شیخ ایاز کی شاعری نے نوکری دلائی۔ منگہڑ روایات نے بنیاد دی، اور نشہ (شراب، چرس، افیم) کو وہ عبادت سمجھتے، جو آواز کو برقرار رکھتا۔

ذاتی زندگی

علن سادہ زندگی گزارتے۔ مچھلی اور مسور کی دال پسند تھی، سرخ مرچ اور چاول سے پرہیز کرتے تاکہ آواز محفوظ رہے۔ طرزِ لباس: مور پگڑی، سیاہ شروانی، جوگی ٹوپی، کسٹو (شیل پاؤ)، کمر بند، بیراگن (لاٹھی)، کنٹھا (ہار)، کولابو (چوڑی)، دندو (گھنٹی والی لاٹھی)، گوڑی (تھیلا)۔ جمشورو کے ہاسٹل اور ڈلبر ہوٹل میں بیٹھتے۔ 1990ء کی دہائی میں ایم کیو ایم کے اغوا کا شکار ہوئے، جہاں ان کا آدھا داڑھی، مونچھیں اور بال منڈوا دیے گئے، جس سے وہ اداس ہو گئے۔ نشہ کی عادت نوعمری سے تھی، جو صحت کو نقصان پہنچاتی۔

چیلنجز

غربت، ماں کی جدائی، سوتی ماں کی سختی، داؤد فقیر سے وابستگی نے علن کو بے گھر کیا۔ مزاح اور بھیک سے گزارا، معاشی عدم استحکام، صحت کے مسائل (دمہ، سٹروک، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، 1985ء کی سرجری) اور نشہ نے جدوجہد بڑھائی۔ نوکری میں بھی بے ترتیبی کی وجہ سے مسائل ہوئے۔

ایوارڈز

علن کو متعدد اعزاز ملے:

صدارتی پرائیڈ آف پرفارمنس (1980ء)۔

شاہ لطیف ایوارڈ (1992ء، 1996ء)۔

شاہباز قلندر ایوارڈ (1996ء)۔

سندھ ایوارڈ (1997ء)۔

گورنر سندھ اچیومنٹ ایوارڈ (1991ء)۔

کنڈھ کوٹ ایوارڈ، مشری شاہ اسپیشل ایوارڈ (1997ء)، استاد فیض گل ایوارڈ (1997ء)، شاہ عویس کارنی ایوارڈ (1998ء)، شہید فضیل رھو ایوارڈ، سُھنی ایوارڈ (1982ء)، سندھ ایوارڈ (1998ء)۔

وراثت

علن فقیر سندھی لوک موسیقی کے رجحان ساز تھے۔ انہوں نے وائی کو سولو اور سادہ بنایا، الفاظ کی وضاحت سے، اور تمبرو کو تبدیل کیا۔ ان کی پرفارمنسز میں صوفی ناچ اور جذبہ تھا، جو بین الاقوامی سطح پر سندھ کی ثقافت پھیلایا۔ ناقدین جیسے بدل مسرور نے ان کی آواز کی درد کو سراہا، محمد علی شاہی نے سچے فنکار کہا، عبدالمجید نے شاہ لطیف کے شاگرد، دادو پورھو نے مالنگ اور ظفر کاظمی نے موروثی آواز کی تعریف کی۔ انور فگار حاکرو نے سندھی ثقافت میں کردار اجاگر کیا۔ علن کی وارثات آج بھی فہیم فقیر جیسے بیٹوں میں زندہ ہے، اور ان کی آواز لوک موسیقی کا معیار بن گئی۔

اختتام

علن فقیر کی زندگی ایک صوفی کی تلاش کی داستان ہے – غربت سے شہرت تک، جدوجہد سے اعزاز تک۔ وہ نہ صرف گلوکار تھے بلکہ سندھ کی روح کے ترجمان۔ آج، جب ہم ان کی آواز سنتے ہیں، تو لگتا ہے کہ وہ کہہ رہے ہیں: "الم اللہ، تو میری جان میں بسا ہے۔" ان کی یاد ہمیشہ تازہ رہے گی، اور سندھ کی مٹی ان کی گونج سے معطر ہوتی رہے گی۔

Agriculture World November 09, 2025
Read more ...

Facebook