_seo-verification:4bc3407b9d3078c330cf0aa334995f0243b21d6b2d88f58788cb69b389c4db9f خانگڑہ: سندھ کا ایک قدیم اور زندہ دل شہر - Apna Ghotki

خانگڑہ: سندھ کا ایک قدیم اور زندہ دل شہر

 خانگڑہ: سندھ کا ایک قدیم اور زندہ دل شہر

خانگڑہ: سندھ کا ایک قدیم اور زندہ دل شہر

تعارف

خانگڑہ، سندھ صوبے کے ضلع گھوٹکی کا ایک تاریخی اور اہم شہر ہے، جو دریائے سندھ کی وادی اور صحرائی علاقوں کی سرحد پر واقع ہے۔ یہ شہر نہ صرف زرعی پیداوار کا مرکز ہے بلکہ سندھی ثقافت، تاریخ اور معاشی سرگرمیوں کا بھی ایک زندہ جہاز ہے۔ خانگڑہ کو سندھی میں "خانڳڙهه" کہا جاتا ہے اور یہ ضلع گھوٹکی کی پانچ تحصیلوں میں سے ایک، یعنی خانگڑہ تحصیل کا صدر مقام ہے۔ اس کی جغرافیائی پوزیشن 28°06′N 69°11′E پر ہے، جو اسے سکھر اور رحیم یار خان جیسے بڑے شہروں سے جوڑتی ہے۔ شہر کی حدود میں چولستان صحرا کا بڑا حصہ شامل ہے، جو اسے قدرتی خوبصورتی اور چیلنجز دونوں سے مالا مال بناتا ہے۔

خانگڑہ کی اہمیت اس کی قدیم تاریخ سے جڑی ہوئی ہے، جہاں ہزاروں سال پرانی تہذیبیں آباد تھیں۔ آج یہ شہر کپاس اور گنا کی کاشت کے لیے مشہور ہے، اور اس کی معیشت زراعت، صنعت اور قدرتی وسائل پر مبنی ہے۔ تازہ ترین مردم شماری کے مطابق شہر کی آبادی 32,648 ہے، جبکہ پوری تحصیل کی 162,318 نفوس پر مشتمل ہے۔ یہ اعداد و شمار اس شہر کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور ترقی کی عکاسی کرتے ہیں۔ خانگڑہ نہ صرف ایک زرعی مرکز ہے بلکہ سندھی روایات، صوفیانہ ثقافت اور سیاسی سرگرمیوں کا بھی گہوارہ ہے۔ اس مضمون میں ہم خانگڑہ کی تاریخ، جغرافیہ، ثقافت، معیشت اور مستقبل کی جھلک دیکھیں گے، تاکہ اس شہر کی مکمل تصویر سامنے آ سکے۔

تاریخ

خانگڑہ کی تاریخ ضلع گھوٹکی کی قدیم تہذیبوں سے جڑی ہوئی ہے، جو ہزاروں سال پرانی ہے۔ یہ علاقہ موہن جو دڑو جیسی سندھ وادی تہذیب کا قریب ہے، جہاں قدیم لوگ دریائے سندھ کے کنارے آباد تھے۔ ساتویں صدی عیسوی میں راجہ ابن سلیم برہمن، جو راجہ دہیر کے رشتہ دار تھے، کے جرنیل ہاتھ سام نے گھوٹکی کی بنیاد رکھی، اور خانگڑہ اسی دور کا حصہ بنا۔ آٹھویں صدی میں محمد بن قاسم کی سندھ فتح کے بعد یہ علاقہ اسلامی تہذیب کا مرکز بن گیا، جہاں راجہ داہر کے پوتے غوط ابن سمد نے اسلام قبول کیا اور غوطہ قبیلہ کی بنیاد رکھی۔

مغل دور میں سومرے، ارغون، کلھوڑا اور تالپور خاندانوں کا راج رہا، جنہوں نے اس علاقے کو اپنے سلطنتوں کا حصہ بنایا۔ برطانوی راج کے دوران غوطہ سرداروں کو جاگیریں دی گئیں، جو خانگڑہ کے آس پاس پھیلی ہوئی تھیں۔ ان جاگیریں زرعی ترقی اور مقامی نظام کی بنیاد تھیں۔ 1947 کی تقسیم کے بعد یہ سکھر ضلع کا حصہ بنا، اور 1993 میں گھوٹکی کو الگ ضلع کا درجہ ملا، جس میں خانگڑہ تحصیل شامل ہوئی۔ برطانوی دور میں یہاں ریلوے لائن کی تعمیر ہوئی، جو شہر کو تجارتی مرکز بنا دیا۔

قومی سطح پر، خانگڑہ مہر خاندان کی سیاسی جڑوں کا مرکز ہے۔ سردار علی محمد مہر، جو سندھ کے وزیر اعلیٰ اور وفاقی وزیر نشہ آور مواد رہے، اسی شہر سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی وفات 2019 میں خانگڑہ میں دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔ یہ خاندان سندھی سیاست میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے، اور شہر کی سیاسی تاریخ اس کی عکاسی کرتی ہے۔ آج بھی، خانگڑہ تحصیل پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کا مضبوط حلقہ ہے، جہاں انتخابات میں مقامی مسائل جیسے پانی کی قلت اور زرعی اصلاحات مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ شہر کی تاریخ نہ صرف ماضی کی یاد دلاتی ہے بلکہ مستقبل کی امید بھی جگاتی ہے۔

جغرافیہ اور آب و ہوا

خانگڑہ ضلع گھوٹکی کی شمالی تحصیل ہے، جو 1,986 مربع کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہے۔ یہ نارہ صحرا، جو تھر صحرا کا حصہ ہے، میں واقع ہے، جہاں سفید ریت کے بڑے ٹیلے، جنہیں اچھرو تھر کہا جاتا ہے، موجود ہیں۔ شہر دریائے سندھ سے دور ہے لیکن گوڈو بیراج کے ذریعے سیراب ہوتا ہے، جس سے گھوٹکی فیڈر نہر یہاں کی زمینوں کو پانی دیتی ہے۔ ضلع کی کل رقبہ 6,083 مربع کلومیٹر ہے، جس میں کچا علاقہ، یعنی دریائی سیلاب والا حصہ، اور صحرا شامل ہے۔

آب و ہوا صحرائی subtropical ہے: گرمیوں میں درجہ حرارت 44°C تک جاتا ہے، جبکہ سردیوں میں 9°C تک گر جاتا ہے۔ سالانہ بارش صرف 122 ملی میٹر ہے، اور دسمبر-جنوری میں برفباری بھی ممکن ہے۔ یہ علاقہ زلزلوں کے زون میں ہے، جہاں خطرہ درمیانہ درجے کا ہے۔ قدرتی وسائل میں گیس اور تیل کے ذخائر شامل ہیں، جیسے قریب کی ماری گیس فیلڈ، جو پاکستان کی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ پورا کرتی ہے۔ دریائی جنگلات اور مویشی پالن بھی جغرافیائی خصوصیات ہیں، جو شہر کو ماحولیاتی تنوع دیتے ہیں۔ یہ جغرافیہ نہ صرف زرعی پیداوار کو ممکن بناتا ہے بلکہ قدرتی خوبصورتی بھی پیش کرتا ہے۔

آبادی اور جمہوریت

تازہ ترین مردم شماری کے مطابق خانگڑہ شہر کی آبادی 32,648 ہے، جبکہ تحصیل کی 162,318۔ ضلع بھر 1,772,609 نفوس ہیں، جن میں شہری اور دیہی آبادی کا تناسب مختلف ہے۔ پچھلی شماری میں تحصیل کی آبادی 149,008 تھی، جو ترقی کی نشاندہی کرتی ہے۔ آبادی کا 93% مسلمان، 6% ہندو ہے، اور دیگر اقلیتیں بھی موجود ہیں۔ سندھی زبان 92% بولنے والوں کی ہے، جبکہ سرائیکی، بلوچی اور پنجابی بھی عام ہیں۔

خواندگی کی شرح ضلع میں 41.38% ہے، جہاں مردوں کی شرح عورتوں سے زیادہ ہے۔ جنس تناسب 112 مرد 100 عورتوں پر ہے۔ دیہی علاقوں میں قبائلی نظام غالب ہے، جہاں غوطہ، مہر اور دیگر خاندان بااثر ہیں۔ شہر کی آبادی کی اکثریت زرعی مزدور اور چھوٹے کسان ہیں، جو معاشی عدم مساوات کا شکار ہیں۔ یہ آبادی نہ صرف شہر کی ترقی کی بنیاد ہے بلکہ اس کی سماجی ساخت کو بھی مضبوط بناتی ہے۔

ثقافت اور روایات

خانگڑہ کی ثقافت سندھی روایات کی زندہ مثال ہے، جہاں مہمان نوازی، صوفیانہ محبت اور لوک فنون غالب ہیں۔ سندھی اجرک، ٹوپی اور روایتی لباس یہاں کی پہچان ہیں۔ لوک گیت جیسے "واء واء سندھو" اور رقص "جھومر" میلے اور عرسوں میں سجائے جاتے ہیں۔ تہواروں میں عید میلاد النبی، عرس حضرت قادر بخش، بسنت اور زرعی میلے شامل ہیں، جو شہر کو رنگین بناتے ہیں۔

غذائی ثقافت میں گھوٹکی کے مشہور "پیڑے"، جو دودھ سے بنے مٹھائیاں ہیں اور بادام و اخروٹ ملا کر تیار کیے جاتے ہیں، سوغات ہیں۔ صوفی درگاہیں جیسے پیر باری لال درگاہ اور سید انوار شاہ کی مزار علاقے کی روحانی جڑیں مضبوط کرتی ہیں۔ ہندو برادری بھی فعال ہے، جو شادانی دربار جیسے مقامات پر تہوار مناتی ہے۔ ثقافتی طور پر، خانگڑہ دیہی سادگی اور شہری ترقی کا امتزاج ہے، جہاں جدید میڈیا اور روایتی کہانیاں ساتھ چلتی ہیں۔ یہ ثقافت شہر کو ایک منفرد شناخت دیتی ہے۔

معیشت

خانگڑہ کی معیشت زراعت پر مبنی ہے، جہاں کپاس، گنا، چاول، گیہوں اور سبزیاں کاشت ہوتی ہیں۔ ضلع کی 59% افرادی قوت زراعت میں مصروف ہے، اور کاشت شدہ زمین وسیع ہے۔ گنا کی کاشت میں اضافہ ہوا ہے، اور پانچ شوگر ملز یہاں ہیں، جو مقامی پیداوار کو پروسیس کرتی ہیں۔

صنعت میں تیل اور گیس کلیدی ہیں: ماری، قادرپور اور رحمت گیس فیلڈز بڑی کمپنیوں کے ذریعے چلتی ہیں۔ ضلع کی جی ڈی پی بہت زیادہ ہے، اور 47 صنعتی ادارے ہیں۔ مویشی پالن، ماہی گیری اور جنگلات بھی آمدنی کا ذریعہ ہیں۔ شہر کا قریب قومی شاہراہ اور ریلوے اسے تجارتی مرکز بناتا ہے، جہاں کپڑا، کھاد اور شوگر کی تجارت ہوتی ہے۔ چیلنجز میں پانی کی کمی اور موسمیاتی تبدیلیاں شامل ہیں، جو فصلوں کو متاثر کرتی ہیں۔ تاہم، یہ معیشت شہر کو مستحکم بنیاد فراہم کرتی ہے۔

تعلیم اور صحت

تعلیم کی شرح کم ہونے کے باوجود، خانگڑہ میں کئی اسکول اور کالج ہیں۔ ضلع کیڈٹ کالج گھوٹکی قریب ہے، جو فوجی طرز کی تعلیم دیتا ہے۔ جامع مسجد خانگڑہ نہ صرف مذہبی بلکہ تعلیمی مرکز بھی ہے۔ صحت کے لیے بنیادی ہسپتال اور دیہی مراکز موجود ہیں، لیکن کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کی کمی ایک مسئلہ ہے۔ حکومت کی سکیمیں جیسے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام غریبوں کی مدد کرتی ہیں۔ یہ شعبے شہر کی ترقی کے لیے اہم ہیں۔

مشہور مقامات

خانگڑہ کے مشہور مقامات میں جامع مسجد خانگڑہ سرفہرست ہے، جو تاریخی ورثہ ہے۔ پیر بری لال درگاہ، جامع مسجد سردار گڑھ، پانج گلی چوک خانپور مہر اور کلاک ٹاور سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ نارہ صحرا کے ریتلے ٹیلے اور چنکارا ہرن کی جنگلی حیات نارہ ڈیزرٹ گیم ریزرو کا حصہ ہیں۔ قریب کی بھرچوندی شریف درگاہ اور ماتھیلو مومل جی ماڑی، جس میں میوزیم ہے، تاریخی دلچسپی رکھتے ہیں۔ دریائے سندھ کے کنارے تفریحی اسپاٹس اور سفاری پارک قدرتی خوبصورتی پیش کرتے ہیں۔ یہ مقامات شہر کو سیاحتی کشش دیتے ہیں۔

سیاسی اہمیت اور چیلنجز

سیاسی طور پر، خانگڑہ مہر خاندان کا گڑھ ہے، جو سندھ اسمبلی میں مختلف حلقوں پر اثر انداز ہے۔ چیلنجز میں سیلاب، غربت اور انفراسٹرکچر کی کمی شامل ہیں۔ مستقبل میں، CPEC پروجیکٹس اور زرعی اصلاحات ترقی لا سکتے ہیں۔

No comments:

Facebook