_seo-verification:4bc3407b9d3078c330cf0aa334995f0243b21d6b2d88f58788cb69b389c4db9f علامہ مولانا بہاء الدین بہائی پتافی ایک تاریخ ساز شخصیت - Apna Ghotki

علامہ مولانا بہاء الدین بہائی پتافی ایک تاریخ ساز شخصیت

علامہ مولانا بہاءُ الدین بہائی پتافی 

نزد کینجھر دادلغاری



دنیا میں بے شمار ایسی عظیم ہستیاں گزری ہیں جنہوں نے اپنی علمی قابلیت کے ذریعے دنیا بھر میں اپنا اور اپنی قوم کا نام روشن کیا۔ انہی ممتاز شخصیات میں ضلع گھوٹکی کی عظیم علمی و روحانی ہستی حضرت مولانا بھاءُ الدین پتافی المعروف ”دادا سائیں“، ”لالڑی“ اور ”ثانی سعدی“ رحمۃُ اللہ علیہ کا نام بھی سرِفہرست اور تاریخ کی روشن سطروں میں درج ہے۔

آپ کی تصنیفات آج بھی ایران جیسے ملک میں درسِ نظامی کے نصاب کے طور پر پڑھائی جاتی ہیں۔ آپ کے علم و فضیلت کو دیکھ کر مرزا قليچ بیگ نے آپ کو اپنی جاگیر سے زمینیں عطا کیں، اور پیر صاحب پاگارو سید حزب اللہ شاہ صاحب مسکین نے پسندیدگی کے اظہار پر اپنا محبوب سواری ’’ہاتھی‘‘ بطور انعام پیش کیا۔ ریاستِ بہاولپور کے حکمرانوں اور پیر صاحب مسکین نے آپ کو کتب کی اشاعت کے لیے ’’الرشدیہ پرنٹنگ پریس‘‘ بھی عطا کی، اور آپ کو بے شمار القاب سے نوازا۔

آپ کی درسگاہ میں بڑے بڑے علما، مشائخ اور بااثر شخصیات حاضر ہو کر دینی تعلیم حاصل کرتے رہے۔ آپ کے خاندان پر پی ایچ ڈی کی سطح کے علمی تحقیقی کام بھی ہو چکے ہیں۔ آپ کی تصنیف ’’کریما بھائی‘‘ جو فارسی زبان میں ہے، آج بھی ایران میں نصابی کتاب کے طور پر پڑھائی جاتی ہے۔ مولانا کے خاندان ’’بھائی‘‘ پر پی ایچ ڈی کا مقالہ بھی لکھا جا چکا ہے۔

آج بھی مولانا کی مزار مبارک، جو مولوی جو گوٹھ میں واقع ہے، پر روزانہ سینکڑوں عقیدت مند اپنی مرادیں لے کر حاضر ہوتے ہیں۔

مولانا صاحب کا مکمل تعارف

اہلِ علم اور مختلف یونیورسٹیوں کے محققین کے مطابق:


اصل نام: مولانا بھاءُ الدین بن مولانا جلال الدین

قبیلہ: پتافی

ولادت: 1823ء مطابق 1239ھ، نصیر کوٹھی، گھوٹکی

آپ والدین کے اکلوتے فرزند تھے۔ بچپن سے نہایت ذہین و فطین تھے۔ ابتدائی تعلیم والدہ محترمہ سے حاصل کی۔ درسِ نظامی، عربی اور فارسی کی تعلیم گھوٹکی میں مولانا سید علی اکبر شاہ جیلانی اور مولانا حسین بخش سے حاصل کی۔

آپ سندھ، اردو، عربی، فارسی اور سرائیکی زبانوں کے ماہر تھے۔


حضرت خضر علیہ السلام سے روحانی علم کا واقعہ


روایت کے مطابق رمضان المبارک میں ایک دن آپ مدرسے میں تدریس میں مشغول تھے کہ ایک بزرگ تشریف لائے اور کھانے کا تقاضا کیا۔ آپ نے فوراً کھانا لا کر پیش کیا۔ بزرگ نے کھانا تناول کرنے کے بعد فرمایا:

میں اللہ کی طرف سے تمہاری مدد کے لیے بھیجا گیا ہوں۔ آج جو مانگنا چاہتے ہو مانگو، تمہاری حاجت پوری کی جائے گی۔”

مولانا رو پڑے اور عرض کی:

“مجھے دنیا کی کسی چیز کی ضرورت نہیں، بس علم چاہیے۔”

بزرگ نے فرمایا:

“اپنی زبان باہر نکالو۔”

آپ نے زبان نکالی، بزرگ نے اپنی انگلی سے لعاب لگا کر آپ کی زبان پر پھیرا اور فرمایا:

“میں تمہیں ایسا خضری علم دے رہا ہوں جو قیامت تک تمہارے خاندان میں رہے گا۔”

اس کے بعد وہ بزرگ غائب ہوگئے اور آواز آئی:

“میں خضر ہوں، ہر وقت سفر میں رہتا ہوں، اللہ کے حکم سے تمہیں یہ روحانی علم عطا کیا ہے۔”

اس دن کے بعد مولانا بھائی وقت کے کامل ولی ہو گئے۔


ہم عصر اولیاء اور حکمران

مولانا کے دوست اور ہم عصر بزرگ یہ تھے:


● پیر صاحب پاگارو سید حزب اللہ شاہ مسکین

● حافظ محمد صدیق بھرچونڈی شریف

● خواجہ غلام فرید کوٹ مٹھن

● مرزا قليچ بیگ

● نائب والی قلات سردار گل محمد خان

● اور دیگر ممتاز علما


بیعت کے لیے جب پیر پاگارو اور حافظ صدیق سئیں کی خدمت میں حاضر ہوئے تو فرمایا گیا:

“آپ خود اللہ کے ولی ہیں، ہم آپ کو بیعت کیسے دیں؟”

بعد ازاں مولانا خواجہ غلام فرید کے پاس گئے۔ اصرار پر خواجہ صاحب نے آپ کو بیعت فرمایا۔


فارسی شعر اور ہاتھی کا انعام


ایک موقع پر پیر صاحب پاگارو نے علما و شعرا سے فارسی شعر لکھوائے، وہاں مولانا نے یہ شعر پیش کیا:


ہست ورد بر زبان حزب اللہ لا الہ الا اللہ


پیر صاحب نے شعر بہت پسند فرمایا اور بطور انعام اپنا ہاتھی عطا کیا۔


وصال


آپ نے 114 سال کی عمر پائی اور 23 شوال 1352ھ، مطابق 10 مئی 1933ء بروز جمعرات اپنے گاؤں مولوی جو گوٹھ میں وصال فرمایا۔ درگاہ آج بھی دادلغاری کے نزدیک واقع ہے جہاں روزانہ لوگ حاضری دیتے ہیں۔


اولاد


آپ کے چھ فرزند تھے، جو سب اپنے وقت کے عالم، شاعر اور مصنف تھے:


1. مولوی محمد یوسف – فارسی کے بڑے عالم


2. مولوی جلال الدین


3. مولوی محمد بخش پتافی (تخلص: خیالی) – فارسی و عربی شاعر


4. فقیر احمد الدین پتافی


5. مولوی محمد اعظم سراجی – فارسی شاعر، خلیفہ حضرت احمد سائیں خانگڑھ شریف


6. مولوی عبدالرحمان ضیائی – فارسی اور سندھی شاعر


ہم عصر علما و شعرا


● پیر صاحب پاگارو سید شمس العلماء مردان شاہ

● مولانا عبدالرحمان سکھر والے

● مولانا عبدالغفور همايونی

● غوث بخش خاڪي، نائب والی قلات

● مرزا قليچ بیگ

● سردار گل محمد زيب


تصنیفات


مولانا کی تقریباً ۱۸ فارسی اور ۴ سندھی تصنیفات موجود ہیں۔ ان میں سے کئی کتابیں ریاستِ بہاولپور کی سرکاری پریس میں شائع ہوئیں۔

پیر صاحب پاگارو نے آپ کو مستقل چھاپہ خانہ ’’مطبعه راشدیہ‘‘ عطا کیا، جہاں سے آپ کی کئی کتابیں شائع ہوئیں۔

No comments:

Facebook