_seo-verification:4bc3407b9d3078c330cf0aa334995f0243b21d6b2d88f58788cb69b389c4db9f صوفی فقیر مختار علی گبول - Apna Ghotki

صوفی فقیر مختار علی گبول

 صوفی فقیر مختار علی گبول

صوفی فقیر مختار علی گبول

(پیدائش ۲۵ مئی ۱۹۴۹ء — وفات منگل ۱۶ دسمبر ۲۰۰۸ء بمطابق ۱۷ ذوالحج ۱۴۲۹ھ)

(صوفی فقیر، فنکار اور شاعر)

مختار علی ولد لعل محمد خان گبول، گاؤں جانی گبول تعلقہ ڈھرکی میں پیدا ہوئے۔ پرائمری تعلیم سکول نتو گبول سے حاصل کی۔ بچپن سے ہی ان کا رجحان تصوف، فلسفہ، شاعری، اسٹیج ڈراموں اور موسیقی کی طرف تھا۔ موسیقی میں ان کے استاد ان کے والد لعل محمد خان تھے۔ فقیر صاحب کا پر سوز آواز تھا اور گاؤں میں اپنی آستانہ پر آنے والے لوگوں کو ہارمونیم پر بول سنایا کرتے تھے جس کی وجہ سے علاقے میں صوفی فقیر کے طور پر مشہور ہو گئے۔ وہ ریڈیو پاکستان کے سینیئر فنکار تھے۔ نامور براڈ کاسٹر کوثر بڑو، اختر ٹانوری اور دیگر ان کے مداح رہے ہیں۔ ان کے پاس ساری زندگی عام لوگوں کے ساتھ صوفی فقیروں، فنکاروں، سازندوں، شاعروں، ادیبوں، اداکاروں، سیاسی اور سماجی شخصیات کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہا۔ ۳۰ اپریل ۲۰۰۴ء کو شاعر پریم پتافی کی کتاب ”تنھن عشق کي شاباس“ پر یہ لکھا: ”اپنے پسندیدہ ادیب اور شاعر کوثر بڑو کی یہ کتاب، استاد - محترم استاد فقیر مختار علی گبول کے نام جو نوجوانوں کے لیے ایک رہنما اور رہبر کی حیثیت رکھنے والے کلاکار، دانشور اور فقیر ہیں۔ ہمارے لیے ان کی محبتیں حوصلہ افزائی کرنے والی ہیں۔“

ان کے ساتھ طویل عرصے تک موسیقی کی محفلیں سجانے والوں میں سوڈھو گبول، استاد قمبر علی خان، سبزل علی فقیر، محمد عالم گبول، ہادی بخش ملک عرف ٹرڑو فقیر، بلاول شر، لیاقت علی گبول اور دیگر راگی اور سازندے شامل رہے۔

فقیر مختار علی نے لوگوں کی تفریح کے لیے ۱۹۷۰ء کی دہائی میں گاؤں جانی گبول میں کئی اسٹیج ڈرامے کروائے۔ جن میں لیلٰی مجنوں، سسی، پنہوں، عمر ماروی اور دیگر شامل تھے۔ ان تاریخی ڈراموں میں کردار ادا کرنے والوں میں عاشق کانجھوں، مختار مہرانی پتافی، محمد فقیر پتافی، عالم فقیر گبول، عبدالکریم گبول، امام الدین منگھنہار، عمر بخش ملک، اور دیگر شامل ہوتے تھے۔

۱۹۸۰ء کے بعد انہوں نے گاؤں میں کئی اسٹیج شوز کروائے اور ان کی ویڈیو کیسیٹیں ریکارڈ کروائیں۔ اسٹیج پروگراموں میں غلام سرور کوری، عبدالستار منگھنہار، بخت علی بھٹی، حمزو گبول اور دیگر کردار ادا کرتے رہے۔

۲۰۰۴ء سے سرمست ویلفیئر اینڈ کلچرل سوسائٹی ڈھرکی کے تعاون سے گاؤں جانی گبول میں اسٹیج ڈراموں کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ جو کئی سالوں تک جاری رہا۔ ان اسٹیج ڈراموں میں حصہ لینے والے دوستوں میں سید ندیم شاہ، نوبت ڈھر، جاوید جانی کانجھوں، عبداشکور لاڑک، مرتضیٰ سولنگی، ذوالفقار عالمنی، حضور بخش گبول، یار محمد جمالی (منگھو پیر کراچی)، معشوق دایو، محب علی گبول اور دیگر شامل ہوتے تھے۔

فقیر صاحب ساری زندگی راگ ویراگ کی محفلوں اور اسٹیج ڈراموں کے ذریعے امن اور بھائی چارے کا پرچار کرتے رہے۔ وہ ہر قسم کی تفریق کے مخالف تھے۔ نوجوانوں کو منشیات سے پرہیز کرنے، اور مثبت سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے حوصلہ افزائی کا ذریعہ ہوتے تھے۔ فقیر صاحب راگ پر دسترس رکھتے تھے اور باجہ، ڈھولک، چنگ، یکتارو، کی بورڈ، گھڑو، بینجو اور دیگر کئی ساز بجانے کی مہارت بھی رکھتے تھے۔

ایک بار تسلیم کرتے ہوئے تھر کے سازندہ ارجن جوگی نے کہا تھا: ”مختار راگ میں خود مختار فنکار ہے۔ وہ فنکاروں میں منفرد حیثیت رکھتا ہے۔“

چہیو نوشہرو فیروز کے راگی استاد قمبر علی خان جو استاد یاسین خان کے شاگرد اور ریڈیو پاکستان خیرپور کے فنکار تھے، وہ سالہا سال فقیر صاحب کے پاس رہے۔ مختار علی گبول کی آواز میں آڈیو کیسیٹوں کے البم تھر پروڈکشن، دھرتی پروڈکشن اور پارس کمپنی کی جانب سے ریلیز کیے گئے۔ ان کی آواز میں ریکارڈ کیے گئے بول ریڈیو پاکستان خیرپور کی میوزک لائبریری میں محفوظ ہیں۔

وہ درگاہ جہانپور شریف کے سید فقیر حضور بخش شاہ عرف حضورڻ صاحب کے مرید تھے۔ وہ فلسفہ اور تصوف کے جانکار تھے۔ بڑے بڑے فقیر اور فکر والے درویش ان کی اوطاق پر آتے تھے اور وہ فقیر صاحب سے گپ شپ کرکے اپنا روح تسکین دیتے تھے۔

مختار علی گبول نے سنڌی، سرائیکی، بلوچی اور اردو زبانوں میں شاعری کی ہے۔ ان کی شاعری کا نمونہ ذیل میں دیا جاتا ہے:

اسان صوفی شھنشاھ، پنھنجو سڀ سان آھي ٺاھ۔ امن محبت نعرو پنھنجو، رکون چاھت سڀ لاءِ چاھ۔ جاٿي ڪاٿي يار وسي ٿو، سڀ ۾ آھي ھِڪو ساھ۔ ٻيائي کي ٿا ٻوڙي ڇڏيون، آھي رھبر جي اِھا راھ۔ صوفی مختيار راز وڏو آ، جاڏي ڪاڏي ھڪ الله۔ ______××

شبیر حسن گبول

No comments:

Facebook